دورِ فاروقیؓ کے دو سبق آموز واقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۴ اگست ۱۹۹۸ء

گزشتہ دنوں شام کے مفتی اعظم مفتی احمد کفتارو کے خطبات کا ایک مجموعہ دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک خطبے میں دو واقعات بیان کیے ہیں جن کا حوالہ انہوں نے درج نہیں کیا، اسی لیے انہی کے حوالہ سے یہ واقعات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

آج ہم وطن عزیز میں نظام کی تبدیلی کے سوال پر جس دوراہے پر کھڑے ہیں اس میں صحیح راستہ اختیار کرنے کے لیے یہ واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ہم خود بھی ایسا چاہیں۔ دونوں واقعات کے راوی ایک صحابیٔ رسولؐ حضرت احنف بن قیسؓ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عراق اور بلاد فارس کی فتح میں شریک تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جو فتح کی خوشخبری اور مال غنیمت لے کر امیر المومنین حضرت عمرؓ کی خدمت میں مدینہ منورہ پہنچے تھے۔ کہتے ہیں کہ فتح کی خوشی اور مال غنیمت کی فراوانی کے باعث ہم نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے پرانے سادہ لباس اتار کر عمدہ اور قیمتی لباس زیب تن کیے اور امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ہمیں دیکھا تو منہ پھیر لیا اور کوئی گفتگو نہ کی۔ ہم بہت پریشان ہوئے، امیر المومنینؓ کے فرزند حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ وہ وجہ معلوم کریں کہ ایسا کیوں ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ تمہارا فاخرانہ لباس امیر المومنین کی ناراضگی کا باعث بنا ہے۔ ہم واپس اپنے ٹھکانوں پر گئے، نئے لباس اتارے، وہی پرانے اور سادہ لباس پہنے اور حضرت عمرؓ کی خدمت میں پھر حاضر ہوگئے۔ اس بار انہوں نے خندہ پیشانی سے ہمارا خیر مقدم کیا، سب کو گلے لگایا اور حالات دریافت کیے۔ ہم نے اپنے معرکوں میں فتح و کامرانی کی خوشخبری دی، مال غنیمت پیش کیا، اس میں کچھ مٹھائیاں تھیں، امیر المومنین نے تھوڑی سی مٹھائی چکھی اور پھر ہماری طرف مخاطب ہو کر فرمایا:

’’اے مہاجرینؓ اور انصارؓ کے گروہ! خدا کی قسم اگر تم دنیا کے اس سامان کی طرف متوجہ ہوگئے تو اس مال پر تمہارے بیٹے اپنے باپوں کو اور بھائی اپنے بھائیوں کو قتل کریں گے۔‘‘

اس کے بعد وہ مٹھائیاں شہداء کے گھروں میں بھجوا دیں اور غنیمت کا مال ہم میں برابر تقسیم کر کے خالی ہاتھ گھر روانہ ہوگئے۔ ان کے جانے کے بعد مجلس میں بیٹھے لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب حالات بہت تبدیل ہوگئے ہیں، اس لیے ہمیں امیر المومنین سے بات کرنی چاہیے کہ وہ اپنا یہ پرانا جبہ بدل دیں جس پر بارہ پیوند لگے ہوئے ہیں اور کوئی اچھا سا لباس پہنیں۔ کیونکہ مختلف ممالک اور اقوام کے وفود آتے ہیں اس لیے امیر المومنین کو ان کے ساتھ اچھے لباس میں ملاقات کرنی چاہیے۔ اسی طرح ان سے یہ بھی گزارش کی جائے کہ وہ اپنی خوراک میں تبدیلی کریں اور اچھی خوراک استعمال کیا کریں تاکہ ان کی صحت بہتر ہو اور وہ امت کے معاملات زیادہ اچھے طریقے سے سرانجام دے سکیں۔ مگر سوال یہ تھا کہ ان سے بات کون کرے گا؟ مشورہ ہوا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے عرض کیا جائے، وہی یہ بات ان سے کہہ دیں گے۔ مجلس کے شرکاء میں سے کچھ لوگ حضرت علیؓ کے پاس گئے اور ان سے مدعا بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ بات امیر المومنین سے ضرور کرنی ہے تو اس کے لیے امہات المومنین بالخصوص حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ سے رجوع کیا جائے، وہ یہ بات زیادہ بہتر طریقے سے کر سکیں گی۔

چنانچہ وفد امت کی ان دونوں ماؤں کی خدمت میں حاضر ہوا، حضرت عائشہؓ نے امیر المومنین سے بات کرنے کی حامی بھر لی۔ جبکہ حضرت حفصہؓ نے، جو خود امیر المومنین حضرت عمرؓ کی بیٹی تھیں، کہا کہ میں ساتھ چلی جاتی ہوں لیکن مجھے امید نہیں کہ وہ یہ بات قبول کر لیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، امت کی دونوں ماؤں نے مل کر امیر المومنین حضرت عمرؓ کی خدمت میں یہ معروضات پیش کیں تو امیر المومنین سن کر رو پڑے اور حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ بتائیں کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مسلسل تین روز گندم کی روٹی کھائی ہے؟ کیا رسول اللہؐ کے پاس اون کا ایک ہی جبہ نہیں تھا جس کے مسلسل استعمال سے آپؐ کی جلد مبارک پر خراشیں پڑ گئی تھیں؟ اور کیا آپؐ کے جسم مبارک پر ننگی چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے نشانات نہیں پڑ جاتے تھے؟ پھر حضرت حفصہؓ سے کہا کہ یہ بات تو تم نے خود مجھ سے بیان کی تھی کہ ایک رات تم نے رسول اللہؐ کا بستر زیادہ نرم کر دیا جس کی وجہ سے آپؐ صبح کی نماز تک سوتے رہے اور جب صبح اٹھے تو ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ اس نرم بستر کی وجہ سے وہ رات کا قیام نہیں فرما سکے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ مجھے میرے حال پر رہنے دو۔ میں اپنے دونوں ساتھیوں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ اور اگر میں نے ان کا طریقہ ترک کر دیا تو ان تک کیسے پہنچ پاؤں گا؟

دوسرا واقعہ بھی حضرت احنف بن قیسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک غزوہ سے واپسی پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کو فتح کی خوشخبری دے رہے تھے کہ اچانک انہوں نے پوچھا لیا کہ تم لوگ واپس آکر کہاں ٹھہرے ہو؟ ہم نے بتایا تو کہنے لگے کہ مجھے وہاں لے چلو۔ ہم انہیں لے کر وہاں پہنچے تو انہوں نے سفر کے جانوروں کو بڑے غور سے دیکھا جن پر تھکاوٹ اور مسلسل سفر کی وجہ سے لاغری کے آثار تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ ہم پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ان جانوروں کے بارے میں تم خدا سے نہیں ڈرے؟ تم نے انہیں مسلسل سفر کی حالت میں رکھا اور ان سے کسی وقت سامان بھی نہیں اتارا کہ وہ آزادی کے ساتھ گھاس وغیرہ چر سکیں؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم آپ کو فتح کی خوشخبری جلد از جلد دینا چاہتے تھے اس لیے ان جانوروں کا خیال نہیں رکھ سکے۔ ابھی یہ بات جاری تھی کہ ایک شخص آیا اور اس نے امیر المومنین سے شکایت کی کہ فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے، آپ میرے ساتھ چلیں اور دادرسی کریں۔ امیر المومنین اس وقت غصے کی حالت میں تھے، کوڑا اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا ۔ فرمایا کہ جب میں فارغ بیٹھا ہوتا ہوں تو اس وقت نہیں آتے اور اب جبکہ میں مسلمانوں کے معاملات میں مصروف ہوں تو فریاد لے کر آگئے ہو۔ وہ شخص کوڑا کھا کر غصے میں واپس چل دیا۔ ابھی چند قدم چلا ہوگا کہ حضرت عمرؓ نے اسے واپس بلایا اور معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے غصے میں ایسا ہوگیا ہے۔ کوڑا پکڑو اور اپنا بدلہ لے ،لو اور جس طرح میں نے تمہیں ڈانٹا ہے تم بھی مجھے ڈانٹ کر حساب برابر کر لو۔ اس نے کہا کہ امیر المومنین! میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اور آپؓ کی وجہ سے بدلہ چھوڑ دیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میری وجہ سے چھوڑتے ہو تو یہ معافی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں میں نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آپ کو معاف کر دیا۔

احنف بن قیسؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد امیر المومنینؓ اپنے گھر روانہ ہوئے، ہم بھی ساتھ چل دیے۔ وہاں پہنچے تو حضرت عمرؓ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے، دو رکعت نماز پڑھی اور پھر خود سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ

’’اے عمر! تو گرا پڑا شخص تھا، خدا نے تجھے بلند کیا۔ تو گمراہ تھا، خدا نے تجھے ہدایت دی۔ تو کمزور تھا، خدا نے تجھے طاقت دی اور پھر تجھے لوگوں کی گردنوں پر سوار کر دیا۔ آج ایک شخص تیرے پاس مدد مانگنے آیا تو تم نے اسے کوڑا مار دیا۔ اے عمرؓ! کل جب تو خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا تو کیا جواب دے گا اور اپنے اس عمل کی کیا صفائی پیش کرے گا؟‘‘

امیر المومنین حضرت عمرؓ کے ان واقعات میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی کو بھول گئے ہیں کہ کل ہم کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور آزادی عطا فرما کر ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ ہمیں تو اپنا انجام بھی یاد نہیں رہا کہ کل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمیں اس سب کچھ کا حساب دینا ہے۔ جو حال اپنے ماضی اور مستقبل دونوں سے رشتہ کاٹ لے وہ بدحالی کی تاریک وادیوں میں لڑھکتے رہنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتا ہے؟

درجہ بندی: