تعلیمی نظام کے حوالہ سے چیف جسٹس پاکستان کے ارشادات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۰ اپریل ۲۰۱۹ء

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ۷۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز میں تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کے حوالہ سے آگاہی کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے معاملہ کو سن لیں اس کے بعد معاملہ حکومت کے ساتھ ہوگا۔ سرسید احمد خان کو بھی یقین تھا کہ پڑھو گے نہیں تو پیچھے رہ جاؤ گے، ہمیں تعلیم پر توجہ دینی چاہیے، تعلیم ترقی دیتی ہے اور دفاع کرتی ہے، تعلیم نہیں تو کچھ بھی نہیں، اگر اب بھی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ہم مزید پیچھے رہ جائیں گے۔

چیف جسٹس محترم کے یہ ارشادات ہر باشعور پاکستانی کی طرح ہمارے بھی دل کی آواز ہیں اور ہم ان سے حرف بہ حرف متفق ہیں لیکن یہ باتیں پہلی بار نہیں کہی گئیں۔ آپ ۷۰ برسوں کے دوران عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ بلکہ کسی بھی مقتدر طبقہ کی شخصیات کے ارشادات کو قومی پریس کے ریکارڈ سے جمع کرنے کی زحمت کریں تو ایسے فرمودات بلامبالغہ سینکڑوں کی تعداد میں قوم سن اور پڑھ چکی ہے۔ مگر معاملہ جوں کا توں ہے اور ہم کولہو کے بیل کی طرح گھوم پھر کر اسی زیروپوائنٹ پر آکر کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو کھڑے تھے۔ بلکہ بعض حوالوں سے تو ہم وہاں سے بہت پیچھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی وجہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آزادی اور پاکستان کے حصول کے بعد سے قومی سطح پر عملاً یہ طے کر رکھا ہے کہ نوآبادیاتی دور کے سسٹم میں سے کسی شعبہ کو بھی نہیں چھیڑا جائے گا بلکہ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک نوآبادیاتی حکمران جو کچھ کرتے رہے ہیں اسی کے تسلسل کو جاری رکھا جائے گا۔ اور ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ آزادی، اسلام اور پاکستان کے عنوان کو صرف ٹائٹل تک محدود رہنے دیا جائے اور ان میں سے کسی ٹائٹل کو ملک کی عمومی پالیسیوں میں کسی جگہ ’’دخل اندازی‘‘ کا موقع نہ دیا جائے۔ اگر چیف جسٹس محترم ’’جان کی امان پاؤں‘‘ کی درخواست کو سماعت کے لیے ہی منظور کر لیں تو ہم یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ خود عدلیہ کے حوالہ سے دیکھ لیں نوآبادیاتی نظام سے ایک اسلامی رفاہی ریاست کے عدالتی نظام کی طرف ہم نے کون سی پیش رفت کی ہے۔ ہمارا قانون وہی ہے، ماحول وہی ہے، طریق کار وہی ہے، حتٰی کہ مزاج و نفسیات میں بھی کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی۔ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے تحریک پاکستان کے دوران اور قیام پاکستان کے بعد اپنے اعلانات میں فرمایا تھا کہ ہم پاکستان میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا تحفظ کریں گے، اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرتی زندگی کا ڈھانچہ تشکیل دیں گے اور قرآن و سنت کے احکام کی عملداری کا اہتمام کریں گے۔ پھر قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان نے قائد اعظمؒ کے ان ارشادات کو ریاستی پالیسی اور دستوری گارنٹی کا درجہ دے دیا، مگر دیگر قومی شعبوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں بھی کسی سطح کے جج صاحبان کے لیے اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو ان کے تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کی اب تک زحمت گوارا نہیں کی گئی، اور اس طرز عمل کو بھی ستر سال ہی گزرے ہیں۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک سیمینار کے دوران راقم الحروف نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا پاکستان میں جج صاحبان کو قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی باقاعدہ تعلیم دینا ضروری نہیں ہے؟ اگر مروجہ قانون کے تحت فیصلے کرنے کے لیے قانون کی باقاعدہ تعلیم ضروری ہے تو قرآن و سنت اور شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی تعلیم کیوں ضروری نہیں ہے؟ اور اگر یہ ضروری ہے تو قانونی تعلیم کے نصاب ونظام میں اس کو شامل کیوں نہیں کیا جا رہا؟ صرف عدلیہ کی بات نہیں، باقی قومی شعبوں کا بھی یہی حال ہے۔ معیشت کے دائرہ میں قائد اعظمؒ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ پاکستان کے معاشی نظام کو مغرب کے اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں، مگر ہم ابھی تک نوآبادیاتی دور کی معاشی پالیسیوں پر کھڑے ہیں اور کسی اصولی اور جوہری تبدیل کے لیے خود کو تیار نہیں کر پا رہے۔

میں تو اہل دین اور دینی مدارس سے یہ بھی عرض کرتا رہتا ہوں کہ ہم بھی نوآبادیاتی دور کی تحفظاتی پالیسیوں اور نفسیات پر جمے ہوئے ہیں اور آزادی کے مقاصد کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی ضروریات ابھی تک ہمارے ایجنڈے اور اہداف کا حصہ نہیں بن سکے۔ اس لیے ہم چیف جسٹس محترم سے بصد ادب عرض کریں گے کہ بات صرف پرائیویٹ اسکولوں یا سرکاری اسکولوں کی نہیں بلکہ پورے ریاستی تعلیمی نظام کی ہے۔ اس کے لیے ہمیں نوآبادیاتی دور کے ماحول، نفسیات اور مرعوبیت سے نکلنا ہوگا اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے صریح ارشادات کو بنیاد بنا کر پورے ریاستی ڈھانچہ اور ہر قومی شعبہ کے سسٹم پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ہم برطانوی غلامی اور عالمی استعمار کے ماحول سے بھی نہ نکلنا چاہیں اور اسلام، آزادی اور پاکستان جیسی نعمتوں کے ثمرات سے بہرہ ور ہونے کے خواب بھی دیکھیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اللہ ہم سب کو ہدایت دے، آمین یا رب العالمین۔