دینی تعلیم کے خاتمے کیلئے ماضی کے تین عالمی تجربات

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ ستمبر ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری آرڈیننس کا نیا مسودہ

گزشتہ روز وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے فون پر بتایا کہ دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری آرڈیننس کا نیا مسودہ آ گیا ہے اور وفاقی حکومت کی طرف سے اس مسودہ پر مذاکرات کی دعوت بھی مل گئی ہے۔ مجھے ایک آدھ روز میں معمول کے مطابق برطانیہ چلے جانا ہے جہاں سے ان شاء اللہ رمضان المبارک کے وسط میں واپسی ہو گی اس لیے اس مسودے کے مندرجات کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کیونکہ انہیں دیکھنے کے بعد ہی ان کے حوالے سے کچھ عرض کیا جا سکتا ہے۔

البتہ مدارس دینیہ کے بارے میں موجودہ عالمی مہم اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے عزائم کے پیش نظر ایک اصولی بات عرض کرنا چاہتا ہوں، مگر اس سے قبل اپنے بیرونی سفر کے سلسلہ میں کچھ عرض کرنا ضروری ہے کیونکہ اس نازک مرحلہ میں جبکہ عام انتخابات سر پر ہیں میرا ملک سے باہر جانا بہت سے دوستوں کو محسوس ہو رہا ہے حتٰی کہ گزشتہ روز جمعۃ المبارک کے موقع پر مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں میرے ہی ایک مقتدی نے ایک چٹ بھجوائی کہ آپ اس موقع پر ملک سے بھاگ کیوں رہے ہیں؟ حالانکہ میں بھاگ نہیں رہا بلکہ معمول کے مطابق جو کم و بیش گزشتہ پندرہ سال سے جاری ہے اپنی دینی اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے سفر پر جا رہا ہوں۔ ابتدا میں میرا معمول تھا کہ گرمیوں کے تین چار ماہ برطانیہ میں گزارتا جہاں ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے عنوان سے دوستوں کی ایک علمی و فکری سوسائٹی ہے جو ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل و مشکلات اور علمی، نظریاتی اور ثقافتی چیلنجز کے حوالے سے ارباب علم و دانش کو توجہ دلاتی ہے، سیمینارز منعقد کرتی ہے، لٹریچر شائع کرتی ہے اور اخبارات میں مضامین و بیانات کی اشاعت کا اہتمام کرتی ہے۔ مجھے بھی اس کی سرگرمیوں میں شرکت کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ ورلڈ اسلامک فورم کا قیام میری ہی تحریک پر ۱۹۹۲ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور میں پانچ سال تک اس کا چیئرمین رہا ہوں، اب اس کے چیئرمین مولانا محمد عیسٰی منصوری ہیں جن کا تعلق انڈیا سے ہے اور صاحب علم و دانش بزرگ ہیں۔ جبکہ سیکرٹری جنرل میرپور آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا رضاء الحق سیاکھوی ہیں۔

اس کے علاوہ بعض تعلیمی اداروں کے مشاورتی نظام سے میرا تعلق ہے اور ان کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت ہوتی ہے، لیکن اب تین چار سال سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے اسباق کی پابندی کی وجہ سے میرا شیڈول تبدیل ہو گیا ہے اور بیرونی سفر کے لیے رجب اور شعبان کے علاوہ اور کسی ماہ میں اتنی گنجائش نہیں ملتی جس میں مذکورہ بالا سرگرمیوں کو سمیٹ سکوں، جبکہ اس سال امریکہ جانے کا پروگرام بھی ہے اور اس سفر میں مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی، ثقافتی، سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ مرتب کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہوں۔ خیال ہے کہ کم و بیش دو ماہ برطانیہ اور امریکہ میں گزارنے کے بعد رمضان المبارک کے وسط تک واپس آجاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

جہاں تک دینی مدارس کے بارے میں سرکاری آرڈیننس کے نئے مسودہ کا تعلق ہے اس کے بارے میں دینی مدارس کے وفاقوں کا اصولی موقف پہلے سے واضح ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگر یہ وفاق متحد رہے اور اپنے موقف پر استقامت دکھاتے رہے تو دینی مدارس کی خودمختاری، آزادی اور جداگانہ تشخص کو ختم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ دراصل یہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کا حصہ ہے جو بجا طور پر یہ سمجھتی ہے کہ عالم اسلام کو مغربی ثقافت اور سیاسی و معاشی بالادستی میں مکمل طور پر جکڑنے اور غلامی کے ایک نئے حصار میں محصور کرنے کی راہ میں یہ دینی مدارس ایک مضبوط علمی و تہذیبی رکاوٹ ہیں، جن کے موجودہ آزادانہ کردار کے ہوتے ہوئے عام مسلمانوں کو مغربی تہذیب اور مغرب کی غلامی قبول کرنے پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے آج کا عالمی نظام اس بات پر تل گیا ہے کہ اس دینی مدرسہ کو بالکل ختم کر دیا جائے یا کم از کم ان مسلم حکومتوں کے دائرہ اختیار میں پابند کر دیا جائے جو اسلام اور مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرنے کی بجائے مسلمان ملکوں کے دارالحکومتوں میں مغربی استعمار کی نمائندگی اور کارندگی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مغربی قوتیں سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہیں اور ان کے جال میں جکڑی ہوئی مسلم حکومتیں ان کے احکامات کی تعمیل میں بالکل بے بس اور لاچار نظر آ رہی ہیں۔

اس لیے ہمیں تو مستقبل میں دینی مدارس اور حلقوں کی مشکلات، رکاوٹوں اور تکالیف میں اضافہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آزمائش سے ہمیں بچا لیں اور اگر اس کی طرف سے یہ آزمائشیں ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہیں تو ہمیں اپنے عظیم اسلاف اور اکابر کے عزیمت والے اسوہ پر استقامت نصیب فرمائیں اور کفر کے استحصالی ہتھکنڈوں کے مقابلے میں سرخروئی سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

البتہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ سے یہ سوال کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عقلمند تو ایک تجربہ کو ہی کافی سمجھتا ہے مگر آپ لوگوں کی تسلی تین خوفناک تجربے کرنے کے بعد بھی نہیں ہوئی اور اب ایک نئے تجربے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی استعمار دینی تعلیم کو ختم کرنے، قرآن و سنت کے ساتھ عام مسلمانوں کا ذہنی و فکری تعلق منقطع کرنے، اور دینی مدارس کو منظر سے ہٹانے کے لیے اب تک تین تلخ تجربے کر چکا ہے۔

  1. پہلا تجربہ اسی جنوبی ایشیا میں ہوا تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے بعد تاج برطانیہ کی نوآبادیاتی حکومت نے ہزاروں دینی مدارس کو بند کر دیا تھا، مدارس کی جاگیریں ضبط کر لی تھیں، عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا اور بہت سے مدارس بلڈوز کر دیے گئے تھے، ہزاروں علماء تختۂ دار پر چڑھا دیے گئے تھے اور ہزاروں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود دینی تعلیم زندہ رہی، مدارس قائم رہے، علماء کرام موجود رہے، جو اَب پہلے سے کئی گنا زیادہ تعداد میں مصروف کار ہیں۔
  2. دوسرا تجربہ ترکی میں کیا گیا جہاں ترک نیشنلزم کے نام پر خلافت ختم کرائی گئی، شرعی قوانین منسوخ کیے گئے، عربی زبان ختم کر دی گئی، ترک زبان کا رسم الخط تبدیل کر کے اسے رومن زبانوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا، پردہ ختم کر دیا گیا، مدارس بند کر دیے گئے، اور ۱۹۲۴ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد سے اب تک مسلسل ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد ترک عوام کو اسلام سے دور کرنا اور انہیں اسلامی تعلیمات سے محروم رکھنا ہے، لیکن پون صدی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ترک مسلمانوں کا تعلق قرآن و سنت کی تعلیم سے منقطع نہیں کیا جا سکا۔ اور آج بھی صورتحال یہ ہے کہ اگر ترکی کی سیکولر فوج کے جبر کی تلوار ہٹا کر ترک عوام کو آزادانہ ماحول میں اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق دیا جائے تو کسی رکاوٹ کے بغیر اسلامی قوتیں وہاں برسراقتدار آ سکتی ہیں۔
  3. تیسرا تجربہ وسطی ایشیا میں کیا گیا جو اسلامی تہذیب و تمدن کا مرکز تھا۔ وہاں روسی استعمار نے قرآن و سنت کی تعلیم کو ختم کرنے اور اسلامی ثقافت کے آثار کو مٹانے کے لیے جبر و تشدد کا ہر حربہ آزمایا، ہزاروں مدارس بند کر دیے گئے، لاکھوں مساجد پر تالے لگ گئے، قرآن کریم کی طباعت و اشاعت اور تعلیم قانونًا ممنوع قرار دے دی گئی اور اسلام کا نام لینا جرم قرار پا گیا۔ لیکن نصف صدی سے زیادہ عرصہ پر محیط جبر و تشدد کے باوجود آج وسطی ایشیا میں دینی تعلیم موجود ہے، علماء موجود ہیں، اور قرآن و سنت پر ایمان اور اسلام کے ساتھ مسلمانوں کی بے لچک کمٹمنٹ موجود ہے۔

ان تین تلخ تجربات کے بعد بھی اگر عالمی نظام یہ سمجھتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دینی مدارس کے خلاف اقدامات کر کے اور مسلم حکومتوں کے ذریعے جبر و تشدد کی فضا قائم کر کے دینی تعلیم کے تسلسل کو روک سکتا ہے اور قرآن و سنت کے ساتھ عام مسلمانوں کے ایمانی تعلق کو کمزور کر سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی بلکہ بے وقوفی اور ناعاقبت اندیشی ہے جس پر افسوس ہی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔