اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۶ء

(ماہنامہ الشریعہ کے گزشتہ شمارے میں روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ کے حوالے سے چند سوالات شائع کیے گئے جن کا تعلق دور حاضر کے معروضی حالات، مغربی فکر و فلسفہ کی یلغار اور بین الاقوامی میڈیا کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کے ماحول میں اسلام کے مختلف احکام و قوانین کی تفہیم کے بارے میں نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی الجھنوں سے ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ گزارش کی تھی کہ ان سوالات پر ایک تبصرہ الشریعہ کے زیر نظر شمارے میں پیش کیا جائے گا لیکن جب اس کے بعد ان سوالات کا جائزہ لیا گیا تو محسوس ہوا کہ سرسری تبصرہ سے بات نہیں بنے گی بلکہ ان میں سے ہر سوال کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا جانا ضروری ہے، اور اس کے ساتھ ان سوالات اور شکوک و شبہات کے جدید تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں جنم لینے کے اسباب کا تجزیہ بھی اس موضوع کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس لیے ہماری کوشش ہوگی کہ اس بحث کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور ایسے سوالات اور ان کے اسباب و محرکات کا ترتیب کے ساتھ جائزہ لیا جائے جس کے آغاز کے طور پر ان میں سے صرف ایک سوال کے بارے میں ہم اپنی گزارشات اس شمارے میں پیش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم ملک کے دینی حلقوں، علمی مراکز اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے تعلق رکھنے والے ارباب و علم دانش سے گزارش کریں گے کہ وہ ان سوالات کو نظر انداز کرنے اور نئی نسل کو اس کے حال پر چھوڑ دینے کی بجائے اس بحث میں شریک ہوں اور ان اشکالات و شبہات کے ازالہ کے لیے اپنا علمی و دینی فریضہ ادا کریں۔ آئندہ شمارے میں ہم ان شکوک و شبہات اور سوالات و اعتراضات کے حوالے سے ایک اصولی بحث کریں گے اور اس کے بعد ان سوالات کا ترتیب وار جائزہ لیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ابوعمار زاہد الراشدی)

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گیارہ شادیاں اور قرآن کریم میں مسلمانوں کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ایک عرصہ سے مغربی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اعتراض و طعن کا عنوان بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی سامنے آ جاتا ہے کہ جب ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو عورت کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ حدود آرڈیننس پر گزشتہ دنوں چھیڑی جانے والی بحث کے دوران مختلف حلقوں کی طرف سے یہ سوالات میڈیا کے ذریعے اٹھائے گئے ہیں اور ان پر لوگ اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کر رہے ہیں۔

صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں جب ایک موقع پر مغربی پاکستان اسمبلی میں عائلی قوانین پر بحث ہو رہی تھی تو اسمبلی کی ایک خاتون ممبر نے یہ سوال کیا تھا کہ مرد کو چار بیویاں کرنے کا حق ہے تو عورت کو چار خاوند کرنے کا حق کیوں نہیں ہے؟ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ بھی اسمبلی کے رکن تھے اور ان کا جواب دینے کا مخصوص انداز ہوتا تھا۔ انہوں نے مذکورہ خاتون کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’بیگم صاحبہ! آپ بیس کریں، آپ کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ممانعت تو قرآن کریم کا حکم ماننے والوں کے لیے ہے، نہ ماننے والوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے‘‘۔ چند روز قبل ایک قومی اخبار میں یہی سوال سامنے آنے پر مولانا ہزارویؒ کا یہ جواب ذہن میں تازہ ہوگیا، مگر یہ سوالات جس انداز سے نیشنل میڈیا میں اٹھائے جا رہے ہیں اور انہیں اسلامی احکام و قوانین کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، اس کے پیش نظر ان سوالات کا قدرے سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

ایک سے زائد شادیوں کے بارے میں سوالات کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. مسلمانوں کو چار سے زائد شادیاں کرنے کا حق قرآن کریم میں کیوں دیا گیا ہے؟
  2. جب قرآن کریم نے بیک وقت چار سے زائد نکاح کرنے کی اجازت نہیں دی تو جناب نبی کریمؐ کی کل گیارہ اور بیک وقت نو شادیاں کیوں تھیں؟
  3. مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو عورت کو ایک سے زیادہ نکاح بیک وقت کرنے کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟

مرد کے لیے چار شادیوں کی اجازت

جہاں تک چار شادیاں کرنے کی اجازت کا تعلق ہے، یہ بلاشبہ قرآن مجید میں موجود ہے لیکن اس کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر اور مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ حکم سورۃ النساء کی آیت نمبر ۳ میں اس طرح ہے کہ

’’اگر تم خوف کھاؤ کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو، دو دو تین تین اور چار چار۔ اور اگر تم خوف کرو کہ انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے ۔‘‘

بخاری شریف کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہؓ نے اس کا پس منظر یہ بیان کیا ہے کہ جاہلیت کے دور میں بہت سے لوگ اپنے خاندان کی یتیم اور بے سہارا بچیوں کو ان کے حسن یا مال کی وجہ سے اپنی بیوی بنا لیتے تھے اور ان کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تھے۔شادیوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی، کوئی بھی شخص جتنی شادیاں چاہتا تھا کر لیتا تھا اور اس طرح عورتیں خاص طور پر یتیم لڑکیاں ظلم اور حق تلفی کا نشانہ بنتی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی رو سے دو پابندیاں عائد کر دیں:

  • ایک یہ کہ خاندان کی کسی یتیم لڑکی کو بیوی بنانے کی صورت میں اگر اس کے حقوق پورے نہیں کر سکتے اور انصاف مہیا نہیں کر سکتے تو اس کے ساتھ شادی مت کرو،
  • اور دوسری یہ کہ چار سے زیادہ بیویاں بیک وقت رکھنے کی ممانعت کردی گئی۔

اس طرح بنیادی طور پر یہ حکم چار تک شادیاں کرنے کے حکم کے طور پر نہیں بلکہ چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی ممانعت کے طور پر ہے، اور اسے بھی آیت کریمہ میں مشروط کر دیا گیا ہے کہ اگر انصاف اور حقوق کے تقاضے پورے کر سکو تو اس کی اجازت ہے ورنہ ایک پر ہی قناعت کرو۔ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت کو اگر معاشرتی مسائل اور ضروریات کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اسے سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے اور یہ مرد اور عورت دونوں کے حوالے سے ہے۔

مرد کے حوالے سے اس لیے کہ بسا اوقات ایک مرد اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے ایک عورت پر قناعت نہیں کرتا تو اس کے لیے یہ راستہ رکھا گیا ہے کہ وہ ناجائز صورتیں اختیار کرنے کے بجائے باقاعدہ نکاح کرے تاکہ جس عورت کے ساتھ وہ یہ تعلق قائم کرے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ کسی بھی مرد کو کسی بھی عورت کے ساتھ جنسی تعلق کی اس وقت تک اجازت نہیں دیتا جب تک وہ اس عورت کے مالی اخراجات اور جنسی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی پرورش اور اخراجات کی ذمہ داری باقاعدہ طور پر قبول نہ کرے۔ اسلام مغرب کے موجودہ فلسفہ اور کلچر کی طرح جنسی تعلقات کو اس طرح آزاد نہیں چھوڑتا کہ مرد تو اپنا جنسی تقاضا پورا کرکے چلتا بنے اور عورت اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تنہا رہ جائے۔

عورت کے حوالے سے اس لیے کہ معاشرے میں بسا اوقات ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ عورت کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا کہ وہ یا تو تنہائی کی زندگی گزارے اور یا کسی شادی شدہ مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بن کر اپنی زندگی کو بامقصد بنا لے۔ اس صورت میں اسلام نے جائز نکاح کا راستہ بند کرکے بہت سے ناجائز راستے کھولنے کے بجائے ایسی عورت کو زندگی بسر کرنے کا باوقار راستہ دیا ہے، اور ظاہر ہے کہ نکاح تو عورت کی اجازت اور مرضی سے ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی عورت اس کے لیے سوچ سمجھ کر تیار ہوتی ہے تو اس کی معاشرتی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جناب نبی اکرمؐ کی چار سے زیادہ بیویاں

جناب نبی کریمؐ کے حوالے سے یہ سوال اس طرح ہے کہ جب قرآن کریم نے چار سے زیادہ شادیوں کی ممانعت کردی اور اس کے مطابق نبی اکرمؐ نے بہت سے صحابہ کرامؓ کو چار سے زائد بیویوں سے دستبرداری کا حکم دیا تو جن کی چار سے زائد بیویاں تھیں انہوں نے باقی بیویوں کو الگ کردیا، مگر خود نبی اکرمؐ نے اپنی چار سے زائد بیویوں کو فارغ نہیں کیا حتیٰ کہ آپؐ کے وصال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔ سوال یہ ہے کہ جس قانون کی دوسرے مسلمانوں سے پابندی کرائی گئی خود نبی اکرمؐ نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا اور چار سے زائد بیویاں مسلسل اپنے نکاح میں کیوں رکھیں؟

اس کے جواب میں عرض ہے کہ رسول اللہؐ نے چار سے زیادہ بیویاں قرآن کریم کی طرف سے عائد کردہ پابندی کے بعد نہیں کیں بلکہ ان میں سے اکثر اس سے پہلے اس دور سے آپ کی بیویاں چلی آرہی تھیں جب شادیوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی، البتہ چار کی تعداد کی پابندی عائد ہو جانے کے بعد نبی اکرمؐ نے زائد بیویوں کو الگ نہیں کیا بلکہ دو مزید نکاح بھی کیے اور یہی سب سے بڑا نکتہ اعتراض ہے۔ اس کی وجہ سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن کریم کے دو دیگر حکموں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ایک حکم سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۵ میں ہے جس میں نبی اکرمؐ کی ازواج مطّہرات کو تمام مسلمانوں کی مائیں قرار دیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر ان میں سے ہر خاتون ’’ام المومنین‘‘ کہلاتی ہے۔ اور دوسرا حکم اسی سورۃ کی آیت نمبر ۵۳ میں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہؐ کی کسی بیوی کے ساتھ ان کے بعد کوئی مومن نکاح نہیں کر سکتا۔ گویا ازواج مطہرات کے لیے مومنوں کی ماں ہونے کا لقب محض اعزاز میں نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ عملی پہلو بھی ہیں۔ اس صورت میں یہ الجھن سامنے آرہی تھی کہ باقی جن لوگوں نے چار سے زائد بیویوں کو فارغ کردیا تھا ایسی خواتین کے لیے نئے نکاح میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی مگر ازواج مطہرات نبی اکرمؐ کے گھر سے فارغ ہونے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی تھیں، اس لیے خود ان کے وقار، مستقبل اور تحفظ و مفاد کا تقاضا تھا کہ انہیں فارغ نہ کیا جائے اور وہ بدستور نبی اکرمؐ کے نکاح میں رہیں۔

یہاں ایک بات اور پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کی ایک سے زیادہ شادیوں کا تعلق (نعوذ باللہ) جنسی جذبے اور خواہش سے نہیں بلکہ دینی و معاشرتی مصالح سے تھا، اس لیے کہ رسول اللہؐ نے ۲۵ سال سے ۵۰ سال تک کی عمر ایک بیوہ خاتون ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کے ساتھ بسر کی جو کسی بھی انسان کی جنسی خواہش اور جذبے کی اصل عمر ہوتی ہے۔ اس دوران حضرت خدیجہ آپ کے نکاح میں رہیں اور حضرت ابراہیمؓ کے علاوہ باقی ساری اولاد بھی انہی کے بطن سے ہوئی، جبکہ عمر میں وہ نبی اکرمؐ سے پندرہ سال بڑی تھیں۔اس کے بعد حضرت سودہ بنت زمعہؓ آنحضرتؐ کے نکاح میں آئیں اور پھر حضرت عائشہؓ سے نکاح ہوا۔ چنانچہ حضرت سودہؓ کے بعد جتنے نکاح بھی ہوئے ان کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی دینی و معاشرتی مصلحت موجود نظر آتی ہے۔ جبکہ حضرت عائشہؓ سے نکاح کی مصلحت ان کی عظیم دینی و علمی جدوجہد کے حوالہ سے دیکھی جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کی گھریلو زندگی اور سنت نبوی کا چار دیواری کے اندر کا علم محفوظ رکھنے اور پورے تفقہ و تیقن کے ساتھ امت تک پہنچانے کے لیے کسی ایسی خاتون کا آنحضرتؐ کی ازواج میں شامل ہونا ضروری تھا جو ذہین و فطین ہونے کے ساتھ ساتھ عمر کے اس مرحلہ میں ہو جسے تعلیم و تعلم کی عمر کہا جاتا ہے، تاکہ وہ پورے اعتماد و اطمینان کے ساتھ نبی اکرمؐ کی ذاتی اور خاندانی زندگی اور چار دیواری کے اندر کے ارشادات و مصروفیات کا علم حاصل کرے اور امت تک پہنچائے۔ اسی لیے حضرت عائشہؓ کا نکاح جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ بچپن میں ہوا جو تعلیم تعلم کا فطری دور ہوتا ہے اور نو سال سے اٹھارہ سال تک کی عمر رسول اللہؐ کے ساتھ گزار کر حضرت عائشہؓ نے جو کچھ سیکھا، اس کے بعد کم و بیش نصف صدی تک وہ امت کو سکھاتی اور پڑھاتی رہیں ۔اس لیے یہ شادی اور اس کا بچپن میں ہونا امت کی بڑی علمی اور دینی ضرورت کے لیے تھا۔ اسی طرح رسول اللہؐ کی باقی شادیوں کی دینی و معاشرتی مصلحتوں تک بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اس پس منظر میں جناب نبی اکرمؐ کا چار سے زیادہ بیویوں کو بدستور اپنے نکاح میں رکھنا دینی و معاشرتی مصالح کے پیش نظر تھا اور خود ان معزز خواتین کے احترام اور مفاد کا تقاضا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی نبی اکرمؐ کو بطور خاص اجازت مرحمت فرما دی تھی۔

عورت کے لیے چار شادیوں کی اجازت کیوں نہیں؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ مرد چار بیویاں کر سکتا ہے تو عورت چار خاوند کیوں نہیں کر سکتی؟ اس کا بھی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو اس کی وجہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔

خاندان کو نہ صرف اسلام نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اسے سوسائٹی کا بنیادی یونٹ قرار دیا ہے بلکہ دنیا کے ہر مہذب فلسفہ میں خاندان کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ خاندان کے قیام و استحکام کی بنیاد نسب کے تحفظ پر ہے اور نسب کے تحفظ پر ہی خاندان کی تشکیل اور بقا کا دارومدار ہے، کیونکہ جب تک نسب کا تعین اور تحفظ نہ ہو ان رشتوں کا تعین بھی نہیں ہوسکتا جن سے ایک خاندان تشکیل پاتا ہے۔ ایک مرد جتنی زیادہ عورتوں سے جنسی تعلق رکھے، جائز و ناجائز کی بحث سے قطع نظر اگر وہ اپنے اس جنسی تعلق کو تسلیم کرتا ہے تو نسب کے تعین میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور نسب کے ساتھ ساتھ متعلقہ رشتوں کا تعین بھی آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن عورت ایک مرد سے زیادہ لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے گی تو پیدا ہونے والے بچے کے نسب کا تعین مشکل ہوجائے گا۔

یہ مسئلہ جاہلیت کے دور میں بھی تھا جب زنا کی کھلی اجازت تھی لیکن ان لوگوں نے اس مسئلہ کا حل نکال رکھا تھا۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے دور میں عام طور پر بہت سی عورتیں متعدد مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیتی تھیں لیکن بچہ پیدا ہونے کی صورت میں وہ عورت ایسے مردوں کا تعین کرکے انہیں طلب کرتی تھی اور سب کی موجود گی میں ان میں سے کسی ایک کو مخاطب کرکے کہتی تھی کہ یہ بچہ تمہارا ہے۔کسی شخص کو اس فیصلے سے انکار کی جرات نہیں ہوتی تھی اور اسے بچے کی ذمہ داری قبول کرنا پڑتی تھی، جبکہ اس سے زیادہ اشتباہ کی صورت میں قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا جو عورت کی طرف سے جنسی تعلق کے حوالے سے نامزد کیے جانے والے مردوں میں سے قیافہ کی بنیاد پر کسی ایک کا تعین کر دیتا تھا اور اس مرد کو بچے کے باپ کے طور پر ذمہ داری قبول کرنا پڑتی تھی۔

آج مغرب کو بھی اس صورت حال کا سامنا ہے کہ شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش بڑھتی جا رہی ہے اور بہت سے بچوں کے باپوں کا تعین ممکن نہیں رہا، مگر مغرب نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ ’’سنگل پیرنٹ‘‘ کے قانون کے تحت باپ اور نسب کے تعین کو ہی غیر ضروری قرار دے دیا ہے اور بچے کی پیدائش کی ذمہ داری میں ماں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ عورت پر صریح ظلم ہے کہ جنسی تعلق میں تو مرد اس عورت کے ساتھ برابر کا شریک ہو مگر اس کے نتائج بھگتنے کے لیے عورت کو اکیلا چھوڑ دیا جائے۔ مغرب کو آج فیملی سسٹم کی تباہی اور رشتوں کی پامالی کے حوالے سے جس بحران کا سامنا ہے اس کا سب سے بڑا سبب زنا ہے کہ مغرب نے مرد اور عورت کے جنسی تعلق کے حوالے سے آسمانی تعلیمات سے دستبردار ہو کر فیملی سسٹم کی تباہی کا دروازہ خود کھولا ہے اور اس کے نتائج کو روکنے کا اس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

اس لیے اگر خاندان کو انسانی سوسائٹی کے بنیادی یونٹ کی حیثیت حاصل ہے اور اس کا تحفظ و بقا ضروری ہے تو اس کے لیے نکاح و طلاق کے وہی قوانین فطری اور ناگزیر ہیں جو قرآن پاک پیش کرتا ہے اور سابقہ آسمانی تعلیمات بھی انہی کی تائید کرتی ہیں اس لیے کہ ان کی بنیاد فطرت پر ہے۔

درجہ بندی: