نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اکتوبر ۲۰۰۳ء

نواب زادہ نصر اللہ خان بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے اور عالم رنگ و بو میں ۸۵ برس گزار کر دار بقا کی طرف کوچ کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ گزشتہ ماہ امریکا آنے سے قبل میں نوابزادہ صاحب مرحوم سے لاہور میں ان کے دفتر میں ملا تھا۔ میں پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کے ہمراہ تھا، انہوں نے پاکستان جمہوری پارٹی کے دفتر کے سامنے سے گزرتے ہوئے گاڑی روک لی تھی کہ نوابزادہ صاحب اگر موجود ہوں تو ان سے ملاقات کر لیتے ہیں۔ مجھے نوابزادہ صاحب سے ملے کافی عرصہ ہوگیا تھا اس لیے میں نے بھی ہاں کر دی۔ مگر جب ہم دفتر میں ان کے کمرہ کی طرف بڑھے تو بجلی غائب ہونے کی وجہ سے کمرے میں اندھیرا تھا اور نوابزادہ نصر اللہ خان چند احباب کے جلو میں اندھیرے اور گرمی کے ماحول میں بیٹھے تھے۔ ہم نے مصافحہ کر کے تعارف کرایا تو بہت خوش ہوئے۔

میری ان سے پرانی یاد اللہ تھی۔ پاکستان قومی اتحاد کے دور میں صوبائی سطح پر پہلے نائب صدر اور پھر سیکرٹری جنرل کے طور پر مجھے دو تین سال کام کرنے کا موقع ملا۔ ہمارا صوبائی دفتر نوابزادہ نصر اللہ خان کے دفتر کے ایک کمرہ میں ہوتا تھا اور اجلاس وغیرہ بھی وہیں ہوا کرتے تھے۔ اس دوران نوابزدہ صاحب مرحوم کے ساتھ خلوت و جلوت کی بہت سی ملاقاتیں ہوئیں۔ حمزہ صاحب، اقبال احمد خان مرحوم، رانا نذر الرحمن، سید معین الدین، ملک محمد اکبر ساقی مرحوم، صاحبزادہ فیض القادری مرحومؒ ، مولانا فتح محمد، اور خاکسار رہنما چودھری محبت علی صاحب صوبائی ٹیم کے اہم ارکان تھے، اور ہمارا تحریکی مصروفیات کا زیادہ وقت نوابزدہ مرحوم کے زیر سایہ ہی گزرتا تھا۔

نوابزادہ صاحب نے اس آخری ملاقات میں بہت سی پرانی یادوں کو تازہ کیا۔ گوجرانوالہ کے حوالے سے پوچھا کہ کیا آپ ابھی اسی مسجد میں ہیں جہاں میں نے ایک دفعہ خطاب کیا تھا؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو اس دور کی بعض باتوں کا تذکرہ کرنے لگے۔ میرے بارے میں ان کے ذہن میں تھا کہ زیادہ وقت لندن میں رہتا ہوں۔ میں نے بتایا کہ نہیں صرف تعطیلات کے دوران بیرون ملک جاتا ہوں، باقی سارا سال گوجرانوالہ میں ہی ہوتا ہوں۔ البتہ تدریسی مصروفیات بڑھ جانے کی وجہ سے عملی سرگرمیوں میں زیادہ شرکت نہیں ہو پاتی۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ دستور کی بحالی اور ایل ایف او (لیگل فریم ورک آرڈر) کے خاتمہ کی جس جدوجہد میں وہ مصروف ہیں کیا اس میں کامیابی کی کوئی توقع ہے؟ فرمانے لگے کہ بالکل ہوگی اور ہم ڈکٹیٹرشپ سے ضرور نجات حاصل کر لیں گے، اس لیے کہ ہم سیاسی کارکن ہیں اور سیاسی کارکن ہر قسم کے حالات میں اپنی جدوجہد جاری رکھتا ہے اور کسی صورت میں بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔

آدھ پون گھنٹے کی اس نشست بلکہ زندگی کی آخری ملاقات کے بعد جب ہم نے نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم سے رخصت چاہی تو الوداع کہنے کے لیے کھڑے ہونے لگے۔ میں نے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ آپ بزرگ ہیں بیٹھے رہیں اور اٹھنے کی زحمت نہ فرمائیں۔ مگر یہ کہتے ہوئے میرا ہی سہارا لے کر کھڑے ہوگئے کہ مجھے یہ تاثر نہ دیں کہ میں اب کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کپکپاتے جسم، لرزتے ہاتھوں اور مسلسل ہلتی ہوئی گردن کے ساتھ ان کے اس عزم اور آواز کے لہجے نے دل و دماغ کو جس کیفیت سے دوچار کیا اسے الفاظ میں بیان کرنا میرے بس میں نہیں، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ آواز دل کے کسی کونے سے ضرور ابھرتی ہے کہ پچاسی سالہ بوڑھے کا یہ حوصلہ اور عزم ہم جیسوں کے لیے قابل رشک بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔

یہ نوابزادہ صاحب مرحوم کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی جس کے مناظر زندگی بھر ذہن کی سکرین پر بار بار جھلملاتے رہیں گے۔ اس کے بعد اخبارات میں ان کی خبریں پڑھتے رہے۔ ان کے برطانیہ، سعودی عرب اور دوبئی جانے کی خبریں نظر سے گزریں، اور پاکستان میں جمہوری اقدار اور دستور کی بحالی کے لیے ان کی سرگرمیاں اور بھاگ دوڑ سامنے آتی رہی۔ اس دوران گزشتہ روز ڈمفریز (ورجینیا، امریکا) میں ایک عزیز کے ہاں انٹرنیٹ پر پاکستانی اخبارات کی خبریں دیکھنا چاہیں تو اس خبر نے نگاہ کو آگے بڑھنے سے روک دیا کہ ’’بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ خان کی میت ان کے آبائی گاؤں پہنچا دی گئی‘‘۔ دل دھک سے رہ گیا اور زبان پر بے ساختہ انا للہ و انا الیہ راجعون جاری ہوگیا۔ انٹرنیٹ آپریٹ کرنے والے عزیز کو خبر کی تفصیلات تلاش کرنے کے لیے کہا تو چند لمحوں میں نوابزادہ صاحب کی بیماری، وفات اور ان کی موت پر ملک بھر میں بچھ جانے والی صف ماتم کی تفصیلات آنکھوں کے سامنے تھیں۔

نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم ہمارے دور کے سیاستدان نہ تھے۔ اس لیے ان کی بہت سی باتوں کو سمجھنا آج کی نسل کے لیے مشکل ہے۔ وہ اس ٹیم کے آخری اور باقی ماندہ فرد تھے جس نے آزادی کی جنگ لڑی اور آزادی کا پروانہ مل جانے کے بعد اس کے تحفظ اور بقا کے لیے زندگی بھر سرگرم عمل رہے۔ وہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ٹیم کے آدمی تھے۔ انہوں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ تقسیم ہند سے قبل وہ آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل تھے اور برطانوی استعمار کے تسلط سے وطن عزیز کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں پیش پیش تھے۔ وہ معروف معنوں میں نواب اور نوابزادہ تھے اور زندگی بھر اسی لقب سے پکارے جاتے رہے۔ جبکہ مجلس احرار اسلام کی سیاست اس دور میں ’’نواب دشمنی‘‘ سے عبارت تھی۔ احرار کے سیاسی مزاج کے بارے میں اس دور میں یہ کہا جاتا تھا کہ کسی احراری کی جیب میں پانچ روپے ہوں تو وہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ کون سی ریاست کے نواب کے خلاف تحریک چلانی چاہیے۔ اس لیے ایک عرصہ تک میرے ذہن میں بھی یہ الجھن رہی کہ احرار جیسی ’’نواب دشمن‘‘ جماعت میں نصر اللہ خان جیسے ’’نواب زادہ‘‘ کا سیکرٹری جنرل کے منصب تک رسائی حاصل کر لینا آخر کیسے ممکن ہوا؟ مگر جب انہیں قریب سے دیکھا بلکہ بہت ہی قریب سے دیکھا تو بات سمجھ میں آگئی کہ ’’نواب زادہ‘‘ کے لقب کی چادر تو انہوں نے ویسے ہی تان رکھی ہے، اس کے اندر جھانک کر دیکھیں تو ایک ایسے فقیر منش، عوام دوست، اور درویش صفت سیاستدان سے ملاقات ہوتی ہے کہ فقر و درویشی کو بھی اس ’’نوابی‘‘ پر رشک ہونے لگے۔

وہ نہ صرف نماز روزہ کے پابند تھے اور حلال و حرام کا اہتمام کے ساتھ فرق کرنے والے تھے بلکہ میں ان کی شب زندہ داری اور تہجد گزاری کا بھی شاہد ہوں۔ انہوں نے دینی تحریکات کی ہمیشہ سرپرستی کی ہے اور ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد میں تو ان کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا ہے۔ انہیں اگر کسی دینی تحریک کے کسی پہلو سے اختلاف بھی ہوا ہے تو اس کا اظہار انہوں نے درون خانہ کیا ہے۔ برسر عام ایسے کسی اختلاف کے اظہار سے وہ گریز کرتے تھے جس سے دینی تحریک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ وہ معروف معنوں میں خالصتاً ایک سیاسی رہنما تھے۔ ان کا شمار دینی رہنماؤں میں نہیں ہوتا تھا لیکن میں نے متعدد دینی تحریکات کے رہنماؤں کو اپنی جدوجہد کے حوالہ سے ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے اور انہیں دینی رہنماؤں کو تحریکوں کے داؤ پیچ سکھاتے ہوئے پایا ہے۔

مجھ سے اگر کوئی نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم کی تین بڑی خصوصیات بیان کرنے کے لیے کہے تو میری گزارش یہ ہوگی کہ:

  1. وہ اسلام اور پاکستان کے ساتھ اس قدر دو ٹوک اور واضح کمٹمنٹ رکھتے تھے کہ ان دو حوالوں سے کوئی ڈھیلی بات سننے کے بھی روادار نہیں ہوتے تھے۔
  2. عوام کے حق حکمرانی اور جمہوری اقدار کی سر بلندی پر وہ اس درجہ کا یقین رکھتے تھے کہ ساری زندگی انہوں نے اسی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے گزار دی۔
  3. اور ان کی استعمار دشمنی کا یہ عالم تھا کہ سیاسی زندگی کا آغاز انہوں نے برطانوی استعمار کے تسلط سے آزادی کی جدوجہد سے کیا اور ان کی ۸۵ سالہ زندگی کا اختتام امریکی استعمار کے تسلط کے خلاف کلمۂ حق بلند کرتے ہوئے ہوا۔ انہوں نے افغانستان اور عراق پر امریکی یلغار اور پاکستان کے معاملات میں امریکی مداخلت کے خلاف جس بلند آہنگی کے ساتھ آواز اٹھائی وہ پاکستان اور عالم اسلام کے دیگر سیاست دانوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اسلام، پاکستان، جمہوریت اور عالم اسلام کے لیے ہر قسم کی مصلحتوں سے بالاتر ہو جایا کرتے تھے اور ان معاملات میں کسی کے ساتھ رعایت روا رکھنے کے قائل نہیں تھے۔

نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم فرشتہ نہیں تھے، انسان تھے۔ ان سے یقیناً بہت سی غلطیاں ہوئی ہوں گی اور ان کی بہت سی باتوں سے لوگوں کو اختلاف رہا ہوگا۔ خود ہمیں بھی ان کی بعض باتوں سے اختلاف تھا لیکن اسلام اور پاکستان کے ساتھ ان کی محبت اور اسلامی و جمہوری اقدار کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ شک و شبہ سے بالاتر تھی۔ اور اپنے مشن اور فکر و عقیدہ کے لیے جدوجہد میں ان کا حوصلہ و عزم اور استقلال و استقامت آنے والی نسلوں کے لیے یقیناً مشعل راہ ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔