حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ

   
مجلہ: 
ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جنوری ۲۰۰۱ء

ملک کے نامور خطیب اور سپاہ صحابہ پاکستان کی سپریم کونسل کے چیئرمین مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ گزشتہ جمعہ کو ۶۳ برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کی نماز جنازہ غلام ٰمحمد آباد فیصل آباد میں ان کی رہائش گاہ کے سامنے کھلے گراؤنڈ میں حضرت مولانا سید نفیس شاہ صاحب مدظلہ نے پڑھائی جس میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام اور مذہبی کارکنوں کے علاوہ فیصل آباد کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اور اس کے بعد انہیں ان کے قائم کردہ دینی مدرسہ جامعہ قاسمیہ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے خاندان کا تعلق مشرقی پنجاب سے تھا جو قیام پاکستان کے وقت وہاں سے ہجرت کر کے آیا۔ انہوں نے دینی تعلیم جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں حاصل کی، دورۂ حدیث مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں پڑھ کر حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز سے سند فراغت حاصل کی اور اسی نسبت سے قاسمی کہلاتے تھے۔ انتہائی ذہین اور طباع ہونے کے باعث تحریر و تقریر کا ذوق طالب علمی کے دور سے ہی تھا اور انہوں نے اس دور کے معروف خطیب حضرت مولانا قاری لطف اللہ شہیدؒ سے استفادہ کیا جو جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے بانی حضرت مولانا عبد اللہؒ اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدیؒ کے بھائی تھے اور اپنے زمانے کے مقبول ترین عوامی خطیب تھے۔ پرانے حضرات کا کہنا ہے کہ مولانا ضیاء القاسمیؒ نے مولانا قاری لطف اللہ شہیدؒ کے طرز خطابت کو اپنایا۔ لیکن انہوں نے مسلسل محنت سے اس طرز خطابت کو اس حد تک آگے بڑھایا کہ ایک دور میں وہ پنجاب کا مقبول ترین انداز خطابت بن گیا، بیسیوں خطباء نے خطابت کے اس اسلوب کو اختیار کر کے اپنی خطابت کا جادو جگایا اور رفتہ رفتہ وہ انداز خطابت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے نام سے ہی منسوب ہوگیا۔

میرا طالب علمی کا دور تھا جب ملک میں دیوبندی بریلوی کشمکش عروج پر تھی اور عوامی سطح پر دیوبندی مسلک کی ترجمانی کے لیے مولانا ضیاء القاسمیؒ کا نام سب سے بڑے خطیب کے طور پر لیا جاتا تھا۔ ان کے جلسہ میں دور دراز سے لوگ اہتمام کر کے شریک ہوتے تھے اور ہزاروں بلکہ بسا اوقات لاکھوں افراد ان کے خطاب کو سننے کے لیے جمع ہو جاتے۔ خود ہم طالب علم دس دس میل تک سائیکلوں پر ان کا خطاب سننے کے لیے جایا کرتے تھے۔ان کی خطابت میں شیریں بیانی اور گھن گرج دونوں کا امتزاج تھا اور حسب موقع وہ ان میں سے کوئی بھی طرز اپنانے پر دسترس رکھتے تھے۔ ایک خطیب کی حیثیت سے ان کی جس خوبی نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھی کہ وہ صرف اپنے پسندیدہ یا مشنری موضوعات کے دائرہ میں محدود نہیں رہتے تھے بلکہ موقع محل کی مناسبت سے کسی بھی موضوع کو نباہ لیتے تھے اور کہیں بھی گفتگو یا خطاب کے لیے پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوتے تھے۔

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ نے جمعیۃ علماء اسلام، تنظیم اہل سنت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، اور سپاہ صحابہؓ میں مختلف اوقات میں جماعتی خدمات سر انجام دیں۔ وہ جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے سیکرٹری جنرل رہے اور ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے دوران جمعیۃ کی انتخابی مہم میں انہوں نے پرجوش اور متحرک کردار ادا کیا۔ میں انہی کے دور میں بلکہ ان کی تجویز و تحریک پر جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کا سیکرٹری اطلاعات بنا اور ان کی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے کئی سال کام کرتا رہا۔ بعد میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے جمعیۃ کا الگ گروپ تشکیل دیا تو مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور ہزاروی گروپ کے اہم رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ تنظیم اہل سنت پاکستان کے سیکرٹری جنرل رہے ہیں اور انہوں نے حضرت علامہ عبد الستار تونسوی، حضرت مولانا دوست محمد قریشی، اور حضرت مولانا سید نور الحسن بخاری جیسے زعماء کی رفاقت میں اہل سنت کے موقف کو آگے بڑھانے اور منوانے کے لیے اس پلیٹ فارم پر متحرک کردار ادا کیا ہے۔

قاسمی صاحب مرحوم نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ بھی کام کیا اور ایک دور میں وہ مجلس کے اہم عہدے داروں میں شامل رہے۔ ۱۹۸۵ء میں جب امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد قادیانیوں نے اپنا ہیڈکوارٹر لندن منتقل کیا اور ان کا سالانہ اجتماع وہاں منعقد ہونے لگا تو قادیانیوں کے سالانہ اجتماع کے بعد ختم نبوت کانفرنس کی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی، حضرت علامہ خالد محمود، حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، اور دیگر حضرات نے انٹرنیشنل ختم نبوت مشن تشکیل دے کر لندن کے ویمبلے کانفرنس سینٹر میں سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس کا آغاز کیا جس کے انتظامات بعد میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے سنبھال لیے۔ پہلی کانفرنس کے لیے مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ، مولانا چنیوٹی، مولانا عبد الحفیظ مکی اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود کے ہمراہ راقم الحروف کو بھی ایک ماہ پہلے لندن جا کر کانفرنس کے لیے کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرا لندن کا پہلا سفر تھا جس کے محرک مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ تھے۔ میں نے سفر بھی مولانا قاسمی اور مولانا چنیوٹی کے ساتھ کیا اور راستہ میں ایک دن کے لیے ہم استنبول رکے۔ بعد میں ان بزرگوں نے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے نام سے مستقل جماعت بنا لی جبکہ میرا تعلق بحمد اللہ دونوں جماعتوں بلکہ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی ہر جماعت کے ساتھ رہا ہے اور اب بھی بحمد اللہ تعالیٰ بدستور ہے۔

۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں، جو سیالکوٹ کے مبلغ ختم نبوت اسلم قریشی کے مبینہ اغواء کے بعد شروع ہوئی تھی، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا کردار بہت نمایاں اور کلیدی تھا۔ انہوں نے آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تشکیل اور اسے فعال بنانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں کے دورے کیے اور پرجوش محنت کی۔

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ وہ دینی اور مسلکی معاملات میں انتہائی غیور تھے اور صرف خطابت میں ہی غیرت و حمیت کا اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ عملاً بھی وہ مسائل و مشکلات کے حل کے لیے سرگرداں رہتے تھے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں جرأت و دلیری کا وافر حصہ عطا کیا تھا، وہ مشکل اوقات میں عافیت کا گوشہ تلاش کرنے کی بجائے مصیبت کے مقام پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دیتے تھے اور کسی بات کی پروا نہیں کرتے تھے۔

مولانا ضیاء القاسمیؒ کی بیعت کا تعلق شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے تھا اور ان کا سب سے زیادہ جذباتی تعلق بھی حضرت مدنی سے ہی تھا۔ وہ حضرت مدنی کے بارے میں کوئی مخالف بات سننے کو تیار نہیں ہوتے تھے اور صرف رسمی یا جذباتی تعلق کی بجائے ان کا وظائف و اوراد کا ایک مستقل معمول بھی تھا جس کی وہ ہمیشہ پابندی کرتے تھے۔ آخری سالوں میں جبکہ مسلسل بیماری کی وجہ سے جوانی والی وہ بات باقی نہیں رہ گئی تھی تب بھی انہوں نے سپاہ صحابہ کے نوجوانوں کی جس طرح سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی اور مشکل سے مشکل مقام پر انہیں پشت پناہی مہیا کی، یہ انہی کا کام تھا اور اسی سے ان کی جرأت و حوصلہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

مولانا قاسمی مرحوم اسلامی نظریاتی کونسل کے بھی رکن رہے اور اسلامی قوانین کی ترتیب و تدوین میں انہوں نے حصہ لیا۔ اس حوالے سے ان کی ایک خوبی بار بار ذہن کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے کہ کسی علمی اور تحقیقی مسئلہ میں اگر خود کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے تو کسی دوسرے ساتھی سے پوچھنے میں انہیں کبھی حجاب نہیں ہوتا تھا اور وہ متعلقہ مسئلہ میں کسی دوسرے سے رہنمائی حاصل کرنے میں ہتک محسوس نہیں کرتے تھے۔ خود مجھ سے انہوں نے بہت سے مواقع پر مختلف مسائل کے بارے میں رائے لی اور یہ کہہ کر مجھے رائے دینے کو کہا کہ اس مسئلہ پر میرا مطالعہ نہیں ہے، تمہیں معلوم ہوگا اس لیے تم بتاؤ کہ مسئلہ کی نوعیت کیا ہے۔ یہ بڑائی کی بات ہے جو میں نے مولانا قاسمی مرحوم میں بطور خاص دیکھی۔

مولانا ضیاء القاسمیؒ دوستی اور دشمنی میں واضح رائے رکھتے تھے اور اس کے اظہار میں بھی انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا تھا۔ وہ دوستوں کے دوست تھے اور جہاں دوستی ہوتی وہاں وہ سب باتیں بھول جایا کرتے تھے۔ آج وہ ہم میں نہیں ہیں تو ان کی بہت سی باتیں یاد آرہی ہیں اور ایک مدت تک یاد آتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter