آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات اور حکومت کی خاموشی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۲۶ فروری ۲۰۱۷ء

آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد منعقد یکم فروری ۲۰۱۷ء نے حکومت کے سامنے چھ نکاتی مطالبہ پیش کر کے اسے ایک ماہ کے اندر منظور کرنے کے لیے کہا تھا اور قبول نہ کیے جانے کی صورت میں عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک کے متعدد شہروں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نگرانی میں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے علمائے کرام اور دینی کارکنوں کے مشترکہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان اجتماعات کے ساتھ ساتھ خطبات جمعۃ المبارک میں بھی یہ مطالبات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں لیکن حکومتی حلقوں میں مکمل خاموشی ہے اور ان کی طرف سے اس پر کسی مثبت یا منفی ردعمل کا اظہار ابھی تک سامنے نہیں آیا جو ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں میں تعجب کا باعث بن رہا ہے۔ اس لیے کہ مطالبہ کرنے والوں میں ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، جناب سراج الحق، پروفیسر ساجد میر، علامہ ساجد نقوی، مولانا محمد حنیف جالندھری، حافظ عاکف سعید، مولانا اللہ وسایا، سید کفیل شاہ بخاری اور مولانا اشرف علی جیسے سرکردہ قائدین شامل ہیں جو اپنے مکاتب فکر اور بڑی دینی جماعتوں کی قیادت شمار کیے جاتے ہیں اور کم و بیش سبھی دینی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں حکومتی حلقوں کی خاموشی بتا رہی ہے کہ یہ بات اب حتمی طور پر طے کر لی گئی ہے کہ پاکستان کی قومی سیاست اور ملکی معالات میں دین اور دینی حلقوں کو پس پشت رکھا جائے اور ایسے تمام مطالبات جن میں ملک کے اسلامی تشخص، دینی روایات و اقدار اور شرعی احکام و قوانین کو تقویت ملنے کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہو انہیں خاموش حکمت عملی کے ساتھ ٹال دیا جائے۔

ملکی تاریخ یہ بتاتی ہے اور پرانے دینی و سیاسی کارکن جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایسا نہیں تھا۔ یہ دونوں حکمران ایک دوسرے کے مخالف اور ضد شمار ہوتے ہیں لیکن دونوں کے دور میں دینی مطالبات کو دینی نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے، دینی حلقوں کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی اور ملک کے اسلامی تشخص کے بارے میں بیرونی دباؤ کی ایک حد سے زیادہ پروا نہیں کی جاتی تھی:

  • ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے میں کس قدر بیرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا اس سے واقفانِ حال بے خبر نہیں ہیں لیکن جب انہیں یہ بات سمجھ میں آگئی کہ قادیانیوں کو مسلم سوسائٹی کا حصہ سمجھنا شرعی اور سماجی دونوں حوالوں سے غیرمنصفانہ بات ہے اور یہ پوری قوم کا متفقہ مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے تو انہوں نے ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے یہ قومی مطالبہ منظور کرایا اور آخر دم تک اس پر قائم رہے۔
  • جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے بھٹو مرحوم کے اسی فیصلے کے تسلسل کو آگے بڑھایا اور امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ کر کے پارلیمنٹ کے فیصلے پر قانونی طور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا۔

اس کے برعکس آج ہمیں مختلف صورتحال کا سامنا ہے اور بدقسمتی سے میاں محمد نواز شریف کے گزشتہ ادوار حکومت کی طرح اس مرتبہ بھی ان کی پالیسیوں کے گرد بیرونی دباؤ کے گہرے سائے موجود ہیں۔ ملک کے اسلامی تشخص کے حوالہ سے موجودہ حکومت کی بے پروائی انتہا کو چھوتی دکھائی دے رہی ہے اور قومی معاملات میں دینی حلقوں کی آواز کو نظرانداز کرنے بلکہ غیر مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے انہیں دباؤ میں رکھنے کا وتیرہ بھی واضح نظر آرہا ہے۔ حتٰی کہ بعض مجالس میں سنجیدہ و دینی کارکنوں کی طرف سے اس تاثر کا اظہار کیا گیا ہے کہ دینی مطالبات اور دینی حلقوں کی اہمیت و احترام کے لحاظ سے پیپلز پارٹی کا دور حکومت مسلم لیگ کے دور حکومت سے بہتر رہا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں دینی مطالبات و مسائل کے بارے میں جس قدر بڑے بڑے کھلواڑ ہوئے ہیں مسلم لیگی حکومتوں کے دور میں ہوئے ہیں۔ اگر ان پہلوؤں کے حوالہ سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے مختلف ادوار حکومت کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے کوئی صاحب قلم اس کا تجزیہ پیش کر سکیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ تاثرات مبنی برحقیقت ہوں۔ چنانچہ اب یوں لگ رہا ہے کہ حدود آرڈیننس کی طرح تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کے بارے میں بھی کوئی بڑا کھلواڑ ہونے جا رہا ہے اور اسی لیے اعلٰی ترین دینی قیادت کے متفقہ مطالبے پر مسلم لیگی حکومت نے چپ سادھ رکھی ہے۔

آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی تھی، یہ مہینہ بھی اتفاق سے ۲۸ دن کا ہے اور ختم ہونے کے قریب ہے، دینی طبقات انتظار میں ہیں کہ یکم مارچ کے بعد مرکزی رابطہ کمیٹی کے کسی اجلاس سے یہ معلوم ہو کہ ہماری دینی قیادت عوامی جدوجہد اور تحریک کے لیے سنجیدہ ہے یا حسب سابق ’’اسی تنخواہ‘‘ پر گزارا کرنے کا پروگرام ہے۔

دوسری طرف دینی حلقوں میں سودی نظام کے خلاف جدوجہد بھی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہے، گزشتہ دنوں اسلام آباد کے علماء کرام کا ایک مشترکہ اجلاس مولانا محمد رمضان علوی کے ہاں ہوا، اس کے بعد خانیوال میں جمعیۃ علماء اسلام (س) کے صوبائی سیکرٹری جنرل مفتی خالد محمود ازہر نے اس سلسلہ میں مشترکہ اجتماعات کا اہتمام کیا ہے اور اجتماعات و اخبارات میں عوامی بیداری کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جبکہ لاہور کے علماء کرام کو ایک مشترکہ اجتماع میں جمع کرنے کے لیے متحدہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف ملک اور جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا حافظ محمد سلیم متحرک ہیں۔ یہ مشترکہ اجتماع یکم مارچ بدھ کو ظہر کی نماز کے بعد آسٹریلیا مسجد نزد ریلوے اسٹیشن لاہور میں منعقد ہو رہا ہے جس میں مختلف مکاتب فکر کے زعماء خطاب کریں گے، ان شاء اللہ تعالٰی۔ ملک بھر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کے حق میں اور سودی نظام کے خلاف عوامی بیداری کی اس مہم میں دلچسپی لیں اور اپنے اپنے علاقے میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن جدوجہد کا اہتمام کریں۔