مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ جون ۲۰۰۳ء

سعودی عرب کے سفیر محترم نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالیہ عراقی جنگ کے بعد سعودی عرب میں سینکڑوں ائمہ مساجد کو امامت و خطابت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا گیا ہے اور مزید کئی ائمہ کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ سفیر محترم کا کہنا ہے کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے ہیں سیاسی افکار کے فروغ کے لیے نہیں ہیں، اس لیے سیاسی باتیں کرنے والے خطباء کو فارغ کر دیا گیا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اس دوران سعودی عرب کے مختلف شہروں میں آٹھ سو کے قریب ائمہ اور خطباء کو فارغ کیا گیا ہے اور مزید کئی سو ائمہ و خطباء کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیے جانے کی توقع ہے۔ اخباری رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ ائمہ اپنے نمازیوں کو جمعۃ المبارک کے خطبات اور دروس کے دوران فلسطین، عراق، کشمیر اور افغانستان کے حالات سے آگاہ کرتے تھے اور انہیں ان ممالک کے مسلمان عوام پر ہونے والے مظالم کے بارے میں بتایا کرتے تھے۔ ادھر مراکش میں بعض اخباری اطلاعات کے مطابق سرے سے چھ سو کے لگ بھگ مساجد ہی کو بند کر دیا گیا ہے جن کے بارے میں سرکاری موقف یہ ہے کہ وہ حکومت کی منظوری کے بغیر تعمیر ہوئی تھیں۔ جبکہ قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دینی سرگرمیوں کے باعث ان مساجد کو بند کیا گیا ہے کیونکہ ان سرگرمیوں سے حکومت مخالف جذبات کو فروغ ملنے کا خدشہ تھا۔

مساجد کے بارے میں ہمارے ہاں بھی بعض حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ان میں سیاست کی بات نہیں ہونی چاہیے اور مساجد میں صرف عبادت اور تعلیم کا کام ہونا چاہیے۔ بالخصوص جمعۃ المبارک کے خطبات اور مساجد کے اندر ہونے والے دینی اجتماعات میں سیاست کے حوالہ سے گفتگو سے علماء کرام کو گریز کرنا چاہیے۔ یہ سوچ دراصل مغربی فلسفہ و ثقافت کے اثرات کے باعث ہمارے ہاں در آئی ہے اور یورپی تمدن کے زیر اثر ہمارے ہاں بھی یہ خیال عام ہوتا جا رہا ہے کہ مسجد میں سیاست سے متعلقہ کوئی بات کرنا مسجد کے تقدس کے منافی ہے۔ یورپ اور مغرب میں تو انقلاب فرانس کے بعد مذہب اور چرچ کو قومی اور اجتماعی زندگی سے باقاعدہ طور پر بے داخل کر دیا گیا تھا اور اس بات کو فلسفہ اور عقیدہ کے طور پر اپنا لیا گیا تھا کہ مذہب کا تعلق انسان کے شخصی معاملات سے ہے اور اس میں بھی وہ آزاد ہے کہ مذہب کے ساتھ تعلق رکھے یا نہ رکھے۔ جبکہ قومی زندگی اور اجتماعی معاملات سے مذہب، پادری اور چرچ کا سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ اس فلسفہ کی رو سے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ چرچ اور عبادت خانہ میں صرف عقیدہ اور عبادت یا زیادہ سے زیادہ مذہبی کتاب کی تعلیم کی بات کی جائے اور اس سے ہٹ کر عبادت خانہ کے مذہبی اجتماعات میں کسی موضوع کو نہ چھیڑا جائے۔ مگر اسلام کے بارے میں یہ تصور درست نہیں ہے کیونکہ مسجد اور سیاست کو الگ الگ قرار دینے والوں سے بھی اگر پوچھا جائے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ اسلام صرف فرد کا دین نہیں بلکہ سوسائٹی اور معاشرہ کا دین بھی ہے اور اس کے احکام کا تعلق صرف انسان کے شخصی معاملات سے نہیں بلکہ ایک مسلم معاشرہ کے اجتماعی معاملات سے بھی ہے۔ لیکن جب وہ اسلام کے اجتماعی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے مسجد کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات کرتے ہیں تو ان کی ذہنی کنفیوژن پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ یہ دونوں باتیں بیک وقت کیسے کہہ دیتے ہیں؟

اسلام کے معاشرتی کردار کے حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدینؓ کا دور ہمارے لیے آئیڈیل دور ہے کیونکہ اسلام کے کسی بھی حکم، قانون یا کردار کے تعین کے لیے انہی ادوار سے راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ دور نبویؐ اور دور خلافت راشدہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اجتماعی امور سے متعلقہ تمام معاملات ان مثالی ادوار میں مسجد میں ہی طے ہوتے تھے۔ اور جناب نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدینؓ کے خطبات جمعہ و عیدین میں اس بات کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی کہ فلاں بات عبادت اور تعلیم سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اسے مسجد میں ہونا چاہیے اور فلاں بات سیاست اور حکومت سے متعلقہ ہے اس لیے اسے مسجد سے باہر کیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں سے متعلقہ معاملات کا تعلق عبادت سے ہو یا تعلیم سے، سیاست سے ہو یا عدالت سے، معاشرے سے ہو یا تمدن سے، صلح سے ہو یا جنگ سے، تجارت سے ہو یا زراعت سے، اور مقامی امور سے ہو یا بین الاقوامی معاملات سے، ان سب کا تذکرہ مسجد میں ہوتا تھا اور ان کے بارے میں ہر اہم فیصلہ مسجد میں کیا جاتا تھا جس کا اعلان مسجد میں ہوتا تھا اور اس کے بارے میں ہدایت بھی مسجد میں جاری کی جاتی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ مسجدیں صرف عبادت اور تعلیم کے لیے ہیں اور سیاسی معاملات کا مسجدوں میں تذکرہ نہیں ہونا چاہیے، جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ اور حضرات خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کے یکسر منافی ہے۔

تعلیم ہی کے حوالے سے دیکھ لیجیے کہ یہ بات سعودی عرب کے سفیر محترم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسجدیں قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے ہیں۔ اور ہمارے دیگر معترضین کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہے کہ قرآن کریم اور سنت رسولؐ کی تعلیم کے لیے مسجد ہی سب سے موزوں جگہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہوئے اس کے وہ حصے تعلیم سے خارج تو نہیں کیے جائیں گے جن میں اجتماعی امور کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں۔ اسی طرح حدیث نبویؐ کی تعلیم کے دوران حدیث کی کسی کتاب سے وہ ابواب مستثنیٰ نہیں کیے جا سکیں گے جن کا تعلق خلافت، تجارت، جہاد، عدلیہ اور دیگر اجتماعی امور سے ہے۔ اور اگر کسی مسلمان حکومت کا یہ اصرار ہو کہ قرآن کریم اور سنت نبویؐ کی تعلیم صرف ان ابواب کے حوالے سے دی جائے جن کا تعلق عبادت اور اخلاقیات سے ہے، اور مسجد میں قرآن کے ان حصوں اور حدیث کی کتابوں کے ان ابواب کی تعلیم نہ دی جائے جن میں سیاست و حکومت اور عدالت و جہاد کے احکام بیان کیے گئے ہیں تو قرآن و سنت کے تمام احکام کی یکساں فرضیت پر ایمان رکھنے والے علماء کرام کے لیے ایسے کسی حکم کو قبول کرنا کیسے ممکن ہوگا؟ اور ایسی مسلمان حکومت اور یورپ کی ان مسیحی حکومتوں کے درمیان کیا فرق رہ جائے گا جنہوں نے چرچ، پادری اور بائیبل کو شخصی زندگی اور عبادت و اخلاق کے دائرہ میں محدود کر کے معاشرتی اور اجتماعی زندگی سے لا تعلق کر رکھا ہے۔

میرا گزشتہ پینتیس سال سے معمول ہے کہ جمعہ کے بیان میں دینی حوالہ سے چند ضروری باتیں کرنے کے بعد آخر میں پانچ دس منٹ حالات حاضرہ پر بات کیا کرتا ہوں اور اسلام اور عالم اسلام سے متعلقہ کوئی بات ملکی یا بین الاقوامی سطح پر سامنے ہو تو اس پر مختصر تبصرہ کر دیتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک انتہائی مخلص بزرگ نے مچھ سے کہا کہ آپ جمعہ کے بیان میں صرف قرآن و سنت کی بات کیا کریں سیاست کی بات نہ کیا کریں۔ مجھے ان کی بات پر تعجب ہوا اور ان کے ساتھ ہمدردی بھی محسوس ہوئی کہ کیسے کیسے مخلص اور نیک لوگ کس طرح کی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ میں نے انہیں اپنے کمرہ میں آنے کے لیے کہا اور اطمینان سے بٹھا کر ان کے سامنے قرآن کریم کھول کر رکھ دیا۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں نماز اور زکوٰۃ کا حکم یکجا بیان کیا گیا ہے، آپ کا کیا خیال ہے کہ میں نماز کا حکم جمعہ کے بیان میں یا درس میں ذکر کروں تو اس کے ساتھ زکوٰۃ کا تذکرہ کروں یا نہیں؟ فرمانے لگے ضرور کریں میں نے عرض کیا کہ زکوٰۃ کا حکم ہمارے لیے انفرادی سطح پر ہے یا اس میں حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ فرمانے لگے کہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ بیت المال قائم کرنے اور زکوٰۃ کی وصولی اور اسے صحیح مصارف پر خرچ کرنے کا اہتمام کرے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر میں جمعۃ المبارک کے بیان میں زکوٰۃ کے بارے میں حکومت کی ذمہ داریاں بیان کروں گا اور اس سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کروں گا تو آپ کو شکایت ہوگی کہ میں سیاست کی بات کر رہا ہوں۔ پھر میں نے گزارش کی کہ قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی بلکہ اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم پر قصاص کا قانون فرض کیا گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں روزے والی آیت پڑھ کر اس کا ترجمہ و تشریح بیان کروں تو اس کے ساتھ قصاص والی آیت کا ترجمہ تشریح بھی کروں یا اسے بغیر ترجمہ و تشریح کے صرف تلاوت کر کے آگے گزر جاؤں؟ فرمانے لگے کہ اس کا ترجمہ و تشریح بھی ضروری ہے۔ میں نے عرض کیا کہ قصاص کا قانون میں نے تو نافذ نہیں کرنا بلکہ حکومت نے کرنا ہے، اس لیے ظاہری بات ہے کہ جب اس کا ترجمہ کروں گا اور اس کے احکام بیان کروں گا تو اس کا مخاطب وقت کی حکومت ہوگی اور میں اسی سے مطالبہ کروں گا کہ وہ ملک میں قصاص کے قانون کے نفاذ اور اس پر عمل درآمد کا اہتمام کرے۔ اور اگر میں ایسا کروں گا تو آپ کو پھر شکایت ہوگی کہ میں نے مسجد میں اور جمعہ کے بیان میں سیاست شروع کر دی ہے۔ نیک آدمی تھے، مخلص تھے اور محض سنی سنائی باتوں کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار تھے اس لیے جلدی سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ آپ جو مناسب سمجھیں جمعہ اور درس میں بیان کیا کریں۔ حتیٰ کہ اب اگر کسی جمعہ پر کسی وجہ سے حالات حاضرہ پر تبصرہ نہیں کرتا تو وہ بزرگ بعض اوقات مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس جمعہ کو آپ نے سیاست پر بات کیوں نہیں کی۔

پھر جمعہ کا اجتماع صرف اس لیے نہیں کہ خطیب اس میں حالات حاضرہ کے مطابق عامۃ المسلمین کی رہنمائی کرے بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اگر کسی عام مسلمان کو حکمرانوں کے کسی طرز عمل پر اعتراض ہو تو جمعہ کے اجتماع پر کھڑے ہو کر اس کے بارے میں دریافت کر کرے۔ حضرت عمرؓ سے ان کا کرتا لمبا ہونے کا سوال جمعۃ المبارک کے خطبہ کے دوران ہی کیا گیا تھا۔ اور خلیفہ اول حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ تاریخی جملہ مسجد نبویؐ میں خطبہ کے دوران ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ’’میں اگر سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے پکڑ کر سیدھا کر دو۔‘‘

اس لیے مسجد کے بارے میں یہ تصور کہ اس میں عبادت اور مذہبی تعلیم کے علاوہ کوئی بات نہیں ہونی چاہیے اور مسجد میں سیاسی امور کا تذکرہ اور حکمرانوں پر تنقید نہیں کی جانی چاہیے، اسلامی تعلیمات سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔ خا ص طور پر سعودی عرب کے حکمرانوں کے لیے تو کسی طرح بھی زیبا نہیں ہے کہ وہ اس تصور کا پرچارکریں کیونکہ سعودی حکومت قرآن و سنت کو ملک کا دستور قرار دیتی ہے، سعودی مملکت کے فرمانروا خود کو حرمین شریفین کا خادم کہتے ہیں، اور دنیا بھر میں آج کے دور میں ایک مسلمان حکومت کے طرز عمل کے طور پر سعودی عرب کی حکومت کو بطور حوالہ اور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کے سفیر محترم کی وساطت سے سعودی عرب کے معزز حکمرانوں سے بڑے ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ وہ مساجد کے ائمہ اور خطباء پر بے جا غصہ نکالنے کی بجائے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور اس کے لیے باہر سے کسی کی بات سننے کی بجائے سعودی عرب کے سابق چیف جسٹس الشیخ محمد بن ابراہیمؒ کے ارشادات اور اب سے بارہ سال قبل سعودی عرب کے دو سو سرکردہ علماء کرام اور دانش وروں کی پیش کردہ ’’عرضداشت‘‘ کو ہی سامنے رکھ لیں تو انہیں ایک صحیح اسلامی حکومت کی شکل اختیار کرنے کے لیے کسی اور سے کچھ دریافت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

درجہ بندی: