مولانا حافظ عبد الرحمنؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اگست ۲۰۱۶ء

گزشتہ روز گھوئینکی سیالکوٹ میں مولانا قاری عبد اللطیف صدیق سے ترجمہ قرآن کریم مکمل کرنے والے دو نوجوانوں کے سبق کی تکمیل کی تقریب میں حاضری ہوئی تو مولانا حافظ عزیز الرحمن قاسمی سے بھی ملاقات ہوئی جو جامعہ نصرۃ العلوم کے پرانے فضلاء میں سے ہیں اور فتح گڑھ سیالکوٹ میں مسجد و مدرسہ کا نظام چلانے کے ساتھ ساتھ صحافتی شعبہ میں بھی متحرک ہیں اور روزنامہ اسلام سمیت بہت سے اخبارات کی نمائندگی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے والد گرامی حضرت مولانا حافظ عبد الرحمنؒ کی بعض باتوں کا تذکرہ ہوا تو ماضی کے بعض مناظر نگاہوں کے سامنے گردش کرنے لگے۔

مولانا حافظ عبد الرحمنؒ ضلع سیالکوٹ کے متحرک اور باہمت مسلکی، جماعتی اور تحریکی راہ نماؤں میں سے تھے جنہیں طویل عرصہ تک حضرت مولانا مفتی بشیر احمد پسروریؒ ، حضرت مولانا محمد اسماعیل قاسمیؒ ، حضرت مولانا محمد فیروز خانؒ ، اور حضرت عبد الحقؒ آف ظفر وال جیسے بزرگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میرے متحرک جماعتی دور میں وہ بہت عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام ضلع سیالکوٹ کے سیکرٹری جنرل رہے ہیں، تب نارووال بھی ضلع سیالکوٹ کا حصہ ہوتا تھا۔ میرے ساتھ ان کی طویل جماعتی رفاقت رہی ہے اور پڑوسی ضلع ہونے کے بعد آمد و رفت کا سلسلہ بھی مسلسل قائم رہا اور متعدد تحریکات میں ہمارے درمیان مشاورت و معاونت کا ماحول ہر دور میں موجود رہا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ بھی ان کا عقیدت و استفادہ کا گہرا تعلق تھا اور دونوں بزرگ حافظ صاحبؒ کے ساتھ محبت و شفقت کا معاملہ رکھتے تھے۔

یہ ہماری اجتماعی کوتاہیوں کا ایک اہم پہلو ہے کہ بڑے مراکز سے ہٹ کر جو علماء کرام اور کارکن خلوص اور محنت و ایثار کے ساتھ زندگی بھر دینی و جماعتی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں وہ ہمارے تذکروں میں اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ مولانا حافظ عبد الرحمنؒ بھی انہی بزرگوں میں سے ہیں، ان کے تعارف اور جدوجہد کا ایک مختصر خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس دعا کی درخواست کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے خاندان و تلامذہ کو ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

’’مولانا حافظ عبد الرحمنؒ بھارت کے ضلع لدھیانہ کے علاقہ کتبہ میں ۱۹۳۱ء کے دوران ملک علی محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اندر ہی حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ کے مرید مولانا رحمت علیؒ کے مدرسہ سے حاصل کی اور صرف ۱۲ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت سے سرفراز ہوگئے۔ حفظ قرآن مجید کے بعد مزید دینی تعلیم کے لیے لدھیانہ شہر میں مولانا رحمت علیؒ کے قائم کردہ ایک مرکز میں داخلہ لیا مگر یہ سلسلہ تعلیم تقسیم ملک کے باعث پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ قیام پاکستان کے بعد مولانا حافظ عبد الرحمنؒ ابتداء میں شیخوپورہ بعد ازاں ضلع سیالکوٹ کے معروف قصبہ ’’چنوں موم‘‘ آگئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ہجرت کے وقت حافظ صاحبؒ کی عمر صرف ۱۶ سال تھی، آپ نے اپنے اکابر کی سنت کے مطابق چنوں موم میں دینی مدرسہ اور مسجد کی بنیاد رکھی اور سلسلہ بیعت حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مولانا محمد انوریؒ آف فیصل آباد سے جوڑا جنہوں نے تاحیات عملاً سپرستی فرمائی۔ بعد ازاں ان کے فرزند ارجمند مولانا سعید الرحمن انوریؒ اور اب ان کے لائق فرزند جناب مولانا رشید الرحمن انوری فرما رہے ہیں۔

حافظ عبد الرحمنؒ کے اخلاص اور قائم کردہ مرکزی مدرسہ تعلیم الاسلام کی تعلیمی شہرت اطراف میں تھوڑے ہی عرصہ میں اتنی زیادہ ہوگئی کہ مختلف علاقوں کے دیندار حضرات نے مسجد و مدرسہ کے لیے اپنی جائیدادیں دینا شروع کر دیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرب و جوار اکبر آباد، پکی کوٹلی، فتح گڑھ اور غوثپورہ میں تعلیم الاسلام جامع مسجد نور کے نام سے مرکزی مدرسہ کی برانچیں قائم ہوگئیں اور تدریس قرآن کی برکات دور دور تک پھیلیں۔ سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ وغیرہ کے مختلف علاقہ جات سے ہزاروں طلباء نے حافظ صاحبؒ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی۔ چنوں موم کے باسیوں کا کہنا ہے کہ اس قصبہ کا ہر گھر بالواسطہ یا بلاواسطہ حافظ عبد الرحمنؒ کا فیض یافتہ ہے۔ علاقہ میں ’’بڑے حافظ جی‘‘ کا لقب حافظ عبد الرحمنؒ کی شناخت بن چکا تھا۔ آپ نے مسلک حق اہل السنت والجماعت حنفی دیوبندی کی تعلیم و ترویج اور اشاعت کے لیے شب و روز کام کیا۔ مختلف مواقع پر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں مگر پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔

حافظ عبد الرحمنؒ کی وساطت سے لوگوں کو مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا دوست محمد قریشیؒ ، مولانا محمد علی جالندھریؒ ، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ ، مولانا محمد انوریؒ ، مولانا بشیر احمد پسروریؒ ، اور امام اہل سنت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ جیسے علمائے حق کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جو وقتاً فوقتاً حافظ صاحبؒ کی دعوت پر چنوں موم تشریف لاتے رہے اور جن کے وعظ و تبلیغ سے علاقہ میں توحید و سنت کی بہاریں اب بھی دکھائی دیتی ہیں۔ حافظ صاحبؒ نے ختم نبوت کے محاذ پر بڑی دانشمندی سے کام کیا جس کے نتیجہ میں قصبہ چنوں موم قادیانیت کے اثرات سے پاک ہوا۔ سیاسی لحاظ سے آپ جمعیۃ علماء اسلام سے وابستہ تھے اور متحدہ جمعیۃ کے زمانے میں ضلع سیالکوٹ بشمول نارووال کے جنرل سیکرٹری تھے۔

حافظ صاحبؒ ۲۰۱۲ء کے آخر میں شدید بخار کے حملہ میں سر کے عارضہ میں مبتلا ہوگئے۔ دوران علالت تلاوت قرآن مجید، ذکر الٰہی، اور ہاتھ میں تسبیح جزو لازم کے طور پر ساتھ رہی اور بالآخر ۲۶ اپریل ۲۰۱۶ء کو حافظ صاحبؒ نے اس دار فانی سے رحلت فرمائی۔ اور انہیں وصیت کے مطابق مرکزی مدرسہ تعلیم الاسلام کے احاطہ میں ہی سپرد خاک کر دیا گیا۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔