اسلام کی تعبیر و تشریح اور قائد اعظمؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جون ۲۰۰۳ء

سرحد اسمبلی میں شریعت ایکٹ کی منظوری کے بعد ایک بار پھر ملک بھر میں اسلام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے بحث میں شدت آگئی ہے، اور اس سلسلے میں نئے مضامین اور بیانات منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں کہ جن اسلامی احکام اور قوانین کے نفاذ کی بات کی جا رہی ہے، ان کی عملی شکل طے کرنے کا معیار اور طریق کار کیا ہوگا اور ان کی تعبیر و تشریح کا حق کسے حاصل ہوگا؟ چنانچہ اس بارے میں فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال صاحب کا یہ دلچسپ بیان ایک قومی اخبار میں نظر سے گزرا کہ اسلام کی وہی تشریح پاکستان میں قبول کی جائے گی جو قائد اعظم نے کی ہے۔ اگرچہ سرحد اسمبلی کے منظور کردہ شریعت ایکٹ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے موجودہ سسٹم کو اس قسم کا کوئی خطرہ محسوس ہو نے لگے کہ صوبہ سرحد میں یہ سسٹم مذکورہ شریعت ایکٹ کے نفاذ سے کسی بھی درجہ میں متاثر ہوگا اور مروجہ نظام کے وجود یا طریق کار کے لیے کوئی پریشان کن مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ لیکن چونکہ اس سے قبل صوبہ سرحد کے پڑوس افغانستان میں شریعت کے نفاذ کے نام پر ایک سسٹم کو ختم کرنے کر کے اس کی جگہ دوسرا سسٹم نافذ کر دیا گیا تھا اور طالبان حکومت نے کمیونسٹ دور کے نظام حکومت کی کوئی علامت باقی نہیں رہنے دی تھی، اس لیے ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ کے مصداق صوبہ سرحد میں شرعی قوانین کے نفاذ کے رسمی اعلان پر بھی ہر طرف ہاہاکار مچ گئی ہے، ورنہ جسے نظام کی تبدیلی یا سسٹم کا انقلاب کہتے ہیں، سرحد اسمبلی کے منظور کردہ شریعت ایکٹ کے نفاذ سے اس کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

سرحد اسمبلی نے صرف اتنا ہی کیا ہے کہ ایک ایکٹ کے ذریعے طے کر لیا ہے کہ صوبہ سرحد میں صوبائی اختیارات کے دائرہ میں آنے والے احکام و قوانین کی تشریح قرآن و سنت کے مطابق کی جائے گی، اور اسلامی ضوابط کی عمل داری کا اہتمام کیا جائے گا۔ جبکہ موجودہ دستوری صورتحال پر نظر رکھنے والے حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایل ایف او کی موجودگی میں صوبائی اختیارات کو کوئی متعین دائرہ باقی نہیں رہ گیا، بلکہ جب تک سپریم کورٹ کے جج صاحبان پی سی او کے تحت فرد واحد کی دستوری ترامیم کی عملداری کے حلف پر قائم ہیں اور ان سے اصل دستور کی وفاداری کا از سر نو حلف نہیں لے لیا جاتا۔ تب تک دستور کے کسی دائرہ کار اور اس کے دیے ہوئے اختیارات کی عملداری کی ضمانت اور اس سلسلہ میں عدالتی دادرسی کی عملی شکل موجود نہیں ہے،اس لیے اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ سرحد اسمبلی کے منظور کردہ شریعت ایکٹ سے صوبہ سرحد کے نظام میں کوئی تبدیلی آئے گی اور اس خطے کو نظام شریعت کی برکات سے بہرہ ور ہونے کا کوئی موقع ملے گا تو اسے خوش عقیدگی اور رجائیت کے اظہار کے سوا کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ ورنہ ہمارے نزدیک اس ’’شریعت ایکٹ‘‘ کی حیثیت صرف اتنی ہے کی متحدہ مجلس عمل نے اپنے ووٹروں کو مطمئن کرنے کے لیے یہ بل صوبائی اسمبلی سے منظور کرا دیا ہے کہ ہمارے بس میں جتنی بات تھی، ہم نے کر دی ہے، اب آگے اگر اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آرہا یا مروجہ سسٹم شرعی قوانین کو اپنے اندر گھسنے کو موقع نہیں دے رہا تو اس سلسلہ میں ہم بے بس ہیں اور اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ مروجہ سسٹم اور اسے چلانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔

ہمارے خیال میں متحدہ مجلس عمل نے صرف اس حد تک کیا ہے اور درست کیا ہے۔ یہ اسے ضرور کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس نے عوام سے شرعی قوانین کے نفاذ کے وعدے پر ہی ووٹ لیے ہیں اور اسے اگلے الیکشن میں پھر اپنے ووٹروں کے پاس جانا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ کرنا موجودہ صوبائی حکومت کے بس میں ہی نہیں تھا لیکن حیرت ہوتی ہے ان اصحاب دانش پر جو اس ساری صورتحال سے باخبر ہوتے ہوئے بھی آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں کہ صوبہ سرحد میں طالبان کا نظام آ گیا ہے اور سرحد حکومت طالبان کے نقش قدم پر چل پڑی ہے۔ ...... یہ طالبان والے نظام کا ’’ہوا‘‘ بھی خوب ہے، جس کا ڈراوا دے کر بہت سے دانشور اپنی بصیرت و دانش کا سکہ جمانے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ یہ سب دوست کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ طالبان کی حکومت کو طاقت کے زور پر ختم کیے جانے کے بعد وہاں جو حکومت امریکہ کی حمایت اور پشت پناہی سے قائم ہوئی ہے، اس کی سپریم کورٹ نے بھی شرعی حدود، مثلاً رجم کرنا، ہاتھ کاٹنا، کوڑے مارنا، اور اس نوعیت کی دیگر اسلامی سزاؤں کو بدستور نافذ رکھا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے سے چند ماہ قبل کابل میں ویڈیو سنٹر زاور کیبل نیٹ ورک پولیس نے زبردستی بند کرا دیا تھا، اور ابھی حال ہی میں کابل کی سپریم کورٹ کا ایک اور حکم سامنے آیا ہے جس میں افغانستان کی عورتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ گھر سے باہر برقعہ پہن کر نکلا کریں۔ گویا قوانین کے نفاذ اور اس کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے ملا عمر کے موقف اور حامد کرزئی کی پالیسیوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا، لیکن جب یہ اقدامات طالبان حکومت اور ملا عمر کی طرف سے تھے تو پوری دنیا میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا کہ تہذیب تباہ ہو گئی ہے، تمدن اور ثفاقت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اور انسانوں کی آزادی غصب کر لی گئی ہے، لیکن اب وہی اقدامات کرزئی حکومت کی طرف سامنے آرہے ہیں تو اسلام آباد سے لے کر واشنگٹن تک کے ان اصحاب دانش کو اس طرح سانپ سونگھ گیا ہے جیسے وہ سرے سے اس دنیا میں موجود ہی نہیں رہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہی قوانین اسی انداز میں اور اسی تعبیر و تشریح کے ساتھ سعودی عرب میں بھی نافذ ہیں اور گزشتہ پون صدی سے مسلسل نافذ چلے آرہے ہیں مگر وہاں ان قوانین کا نفاذ کسی کے لیے تکلیف کا باعث نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ صورتحال بھی قابل توجہ ہے کہ صوبہ سرحد کا نفاذ شریعت ایکٹ کسی طرح بھی طالبان کے نظام اور طریق کار سے مطابقت نہیں رکھتا:

  • طالبان نے طاقت کے زور پر اقتدار حاصل کیا تھا، جبکہ صوبہ سرحد کی حکومت عوام کی منتخب کردہ ہے۔
  • طالبان نے کوئی دستور نافذ کیے بغیر امیر المومنین کے شخصی احکامات کے ذریعے نفاذ اسلام کی طرف پیشرفت کی تھی، جبکہ صوبہ سرحد کی حکومت اور اسمبلی نے پہلے سے نافذ شدہ دستور کے دائرہ میں رہتے ہوئے اور اس کے دیے ہوئے اختیارات کے تحت ’’شریعت ایکٹ‘‘ منظور کیا ہے۔
  • اسی طرح طالبان کا سسٹم پورے ملک کے مروجہ نظام میں مکمل انقلاب کی علامت تھا، جبکہ سرحد اسمبلی کا ’’شریعت ایکٹ‘‘ چند جزوی اصلاحات و ترامیم کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں دے سکے گا۔
  • نیز سرحد حکومت نے یہ بل منتخب صوبائی اسمبلی کے ذریعے نافذ کیا ہے، جبکہ طالبان کے ہاں منتخب اسمبلی کا سرے سے کوئی وجود نہیں تھا۔

اس واضح فرق کے باوجود سرحد حکومت کے نفاذ شریعت کے اقدامات کو طالبان طرز کے اسلام کے نفاذ کی کوشش قرار دے کر جو لوگ پوری دنیا کو اسلام اور پاکستان سے نفرت دلانے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ نہ اسلام کے ساتھ کوئی خیرخواہی کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کا طرز عمل پاکستان کے بارے میں ہمدردی اور خیرخواہی پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے۔

باقی رہی بات اسلام کی اس تعبیر و تشریح کی، جو بقول ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال صاحب کے قائد اعظمؒ نے کی تھی، تو ہمارے علم میں ایسی کوئی تعبیر و تشریح اس دنیا میں موجود نہیں ہے جسے قائد اعظمؒ نے قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور شرعی قوانین کی تعبیر کی صورت میں تحریر کیا ہو اور یہ کہا ہو کہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ اس تشریح کے مطابق ہوگا۔ اگر جسٹس جاوید اقبال کے علم میں قائد اعظمؒ کا تحریر کردہ ’’اسلامی قوانین‘‘ کا کوئی مسودہ ہو تو اسے کسی لائبریری کے خفیہ زینت خانہ بنانے کی بجائے سامنے لایا جائے۔

ہماری معلومات کے مطابق جنوبی ایشیا کے اس خطے میں سرکاری طور پر قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اسلامی قوانین کی تدوین اور تشکیل کے لیے سلطان اورنگزیب عالمگیر کے ’’فتاوٰی عالمگیری‘‘ کے بعد اگر کوئی علمی کام ہوا ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کا وہ کام ہے جسے متحدہ مجلس عمل کی سرحد حکومت نے نفاذ شریعت کے لیے بنیاد تسلیم کیا ہے۔ اگر محترم جسٹس جاوید اقبال صاحب کو اس پر کوئی اعتراض ہے اور ان کے پاس اسلامی قوانین کا کوئی اس درجے کا متبادل مسودہ موجود ہے تو ہماری مودبانہ درخواست ہے کہ وہ اسے قوم کے سامنے لائیں، ورنہ قائد اعظمؒ کے نام کو ملک میں شریعت کے کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے ’’بریکر‘‘ کے طور پر استعمال کرنا نہ قائد اعظمؒ کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب جیسی محترم اور دانا و بینا شخصیت کو زیب دیتا ہے۔