متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۱۹۹۴ء

معزز ارکان سینٹ و قومی اسمبلی، اسلامی جمہوریہ پاکستان!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

گزارش ہے کہ ان دنوں قومی حلقوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی دستور کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے چند روز تک آئینی ترامیم کا ایک نیا بل سامنے آنے والا ہے۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث امور کے بارے میں دینی نقطۂ نظر سے چند ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں تاکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تحفظ کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ پورے شعور و ادراک کے ساتھ اس اہم بحث میں شریک ہو سکیں۔ امید ہے کہ یہ معروضات آپ کی سنجیدہ توجہ سے محروم نہیں رہیں گی۔

آٹھویں آئینی ترمیمی بل

آٹھویں آئینی ترمیمی بل کی منسوخی کے بارے میں بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے زور دیا جا رہا ہے اور وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے اس ترمیم کے تحت صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑنے کا غیر مشروط اختیار حاصل ہے جس کے استعمال کا نشانہ گزشتہ تین اسمبلیاں بن چکی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ صدر کے ان خصوصی اختیارات پر نظر ثانی کر کے صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات کا توازن قائم کیا جائے۔

جہاں تک اختیارات کے توازن کا تعلق ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بات پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ آٹھویں ترمیم کے خاتمہ اور سابقہ پوزیشن کی بحالی سے یہ توازن قائم نہیں ہوگا بلکہ الٹ جائے گا۔ کیونکہ اس صورت میں وزیراعظم مطلق العنان اور صدر بے اختیار ہو جائے گا جو کہ سربراہ مملکت کے منصب اور وقار کے منافی ہے۔ اس لیے صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں حقیقی توازن کے قیام کے لیے اعتدال کی راہ اختیار کرنا ہی قومی مفاد کا تقاضہ ہے۔

آٹھویں آئینی ترمیم کے حوالہ سے یہ بات بھی ارکان پارلیمنٹ کے پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ یہ ترمیم دراصل صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دورِ اقتدار میں ان کی طرف سے کیے جانے والے آئینی و قانونی اقدامات کو دستوری تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی گئی تھی جن میں

  1. قراردادِ مقاصد کو دستور کا باقاعدہ حصہ بنانا،
  2. قذف اور زنا کی شرعی حد کا نفاذ،
  3. چوری اور ڈاکہ کی شرعی حد کا نفاذ،
  4. اسلامی قانون شہادت،
  5. زکوٰۃ و عشر آرڈیننس،
  6. احترام رمضان آرڈیننس،
  7. امتناع قادیانیت آرڈیننس،
  8. جداگانہ الیکشن کا قانون،
  9. اور وفاقی شرعی عدالت کا قیام شامل ہیں۔

ان اقدامات کو آٹھویں ترمیم کی وجہ سے دستوری تحفظ حاصل ہے اور اس ترمیم کے خاتمہ کی صورت میں یہ تمام امور کالعدم ہو جائیں گے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ نفاذ اسلام کی سمت ہونے والی اس پیش رفت کو بچایا جائے اور آٹھویں ترمیم کے عنوان سے کوئی غیر محتاط قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے۔

پارلیمنٹ کی خودمختاری

دستور پاکستان کے حوالے سے پارلیمنٹ کی خودمختاری بحال کرنے کا مسئلہ بھی زیر بحث ہے اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے منافی آئینی دفعات کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کی رو سے قرآن و سنت کے احکامات کو قبول کرنے کے پابند ہیں اور دستور میں شامل ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی رو سے بھی خدا تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی مقرر کردہ حدود اور قرآن و سنت کے احکام کی پابندی کی ضمانت دی گئی ہے جس کی روشنی میں پارلیمنٹ کی مطلق خودمختاری کے مغربی تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرارداد مقاصد کے علاوہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا پابند بنانے والی آئینی دفعات اور وفاقی شرعی عدالت کا قرآن و سنت کے منافی قوانین کو کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کی غیر مشروط بالادستی کی راہ میں حائل ہے۔ غالباً انہی دفعات کو غیر موثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا غیر مشروط اختیار دینے کی دفعہ آئین میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خدانخواستہ کامیاب ہوگئی تو پاکستان اور دستور پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت ختم ہو جائے گی اور پاکستان ایک سیکولر ریاست کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اس لیے اس بارے میں انتہائی تدبر، احتیاط اور بیدار مغزی سے مجوزہ آئینی ترمیمات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

آئین کے تضادات

کہا جاتا ہے کہ آئین میں تضادات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے کیونکہ آئین میں خدا تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیے جانے کے باوجود ایسے تحفظات موجود ہیں جو انگریزی دور کی منحوس یادگار نوآبادیاتی نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے دستور کے حوالہ سے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ نوآبادیاتی نظام کو پناہ دینے والے دستوری تحفظات کی نشاندہی کر کے ان سے نجات حاصل کی جائے تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک صحیح عملی اسلامی ریاست کی شکل دی جا سکے اور مملکت خداداد میں ایک فلاحی اور اسلامی معاشرہ کا قیام ممکن ہو۔

امید ہے کہ آپ ان گزارشات کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے، بے حد شکریہ۔

ابوعمار زاہد الراشدی

خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم لندن