فلسطین کا بہائی وزیر اعظم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۳ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ جولائی ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزیر اعظم محمود عباس کی سربراہی میں کابینہ نے فلسطین کے لیے جو مسودہ قانون منظور کیا ہے اس میں زنا ،شراب اور جوئے کو جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ محمود عباس کا تعلق اسلام سے منحرف گروہ بہائی فرقہ سے ہے جس کے سربراہ مرزا محمد علی باب اور اس کے جانشین مرزا بہاء اللہ شیرازی نے اب سے ڈیڑھ صدی قبل ایران میں مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مرزا بہاء اللہ شیرازی نے کہا تھا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا نبی ہے جس کی وحی ’’الواح مقدسہ‘‘ کو اب قرآن کریم کی جگہ نسل انسانی کی راہنمائی کے آخری سر چشمہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ مرزا محمد علی باب کو ایرانی حکومت نے سزائے موت دے دی جبکہ مرزا بہاء اللہ شیرازی نے فلسطین کے شہر عُکّا کو اپنا مرکز بنا لیا تھا جو اب دنیا بھر کے بہائیوں کا قبلہ ہے۔

محمود عباس کو امریکہ کے دباؤ پر فلسطین کا وزیر اعظم بنایا گیا ہے اور یاسر عرفات کو محصور کرکے ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے مستقبل کے معاملات محمود عباس کے ساتھ ہی طے کیے جا رہے ہیں۔ مذکورہ بالا خبر کے مطابق محمود عباس کی سربراہی میں فلسطینی کابینہ نے جس مسودہ قانون کی منظوری دی ہے اس کی دفعہ ۹ میں کہا گیا ہے کہ اگر زنا طرفین کی رضا مندی سے ہو تو جرم نہیں ہے، جبکہ دفعہ ۲۷۶ کے مطابق اگر شوہر عدالت میں شکایت نہ کرے تو شادی شدہ عورت سے بدکاری جرم نہیں ہے اور تین ماہ کے بعد شوہر کو بھی عدالت سے رجوع کا حق حاصل نہیں رہے گا۔ اسی طرح دفعہ ۲۸۳ میں کہا گیا ہے کہ لائسنس ہونے کی صورت میں جوا جائز ہوگا اور دفعہ ۲۸۹ کے مطابق پندرہ سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے شراب کا استعمال درست ہے۔

ہمارے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ’’روشن خیال اسلام‘‘ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور ابھی حال میں صدر پرویز مشرف نے تیونس، الجزائر اور مراکش کا دورہ کیا ہے جس کے دوران انہوں نے یہ معاہدہ بھی کیا ہے کہ مبینہ اعتدال پسند اسلام کے فروغ کے لیے یہ ممالک مل کر کام کریں گے۔ ان میں سے الجزائر میں اسلامی نفاذ کی داعی جماعت ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ کو قومی اسمبلی کے الیکشن میں واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود خلاف قانون قرار دے کر ریاستی جبر کے ذریعہ کچل دیا گیا تھا، تیونس میں ترکی کی طرح اسلامی قوانین کو جبرًا منسوخ کرکے ریاستی جبر کے تحت مغربی قوانین مسلط کر دیے گئے اور مراکش میں حال ہی میں دس علماء کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس پس منظر میں بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں کس قسم کے ’’روشن خیال اسلام‘‘ کے فروغ کا پروگرام بنایا جا رہا ہے اور ہمارے حکمران اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کس رخ پر لے جانا چاہتے ہیں ۔