ہمارے عدالتی نظام کا ماحول

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۱۶ء

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۸ اگست ۲۰۱۶ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے یہ ریمارکس دیے ہیں کہ

’’پنجاب دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں مرتے ہوئے بھی جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ڈکیتی کے کے مبینہ ملزم کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فاضل جج نے کہا کہ یہ میں نہیں کہتا بلکہ ۱۹۲۵ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک انگریز جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ پنجاب کے لوگوں کے نزعی بیان پر یقین نہ کیا کریں یہ مرتے ہوئے بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا خطہ ہے جہاں نزعی بیان میں دشمنی کا حساب برابر کیا جاتا ہے اور خاندان کے خاندان کو نامزد کر دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پہلا ڈاکہ ڈکیت ڈالتے ہیں اور اسی کے تسلسل میں دوسرا ڈاکہ مدعی پولیس کے ساتھ مل کر ڈال لیتا ہے، مدعی کے ساتھ مل کر پہلے ملزمان کو نامزد کیا جاتا ہے اور بعد میں چھاپہ مار کر مال برآمد کیا جاتاہے اور مدعی سے تصدیق کرائی جاتی ہے کہ مال مسروقہ ان کا ہی ہے۔‘‘

عدالت عظمیٰ کے فاضل جج کے یہ ریمارکس ہمارے عمومی معاشرتی ماحول اور نفسیات کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ معاملہ صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے بہت سے دیگر حصوں کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے جبکہ اس کی ایک بڑی وجہ ملک کا عدالتی نظام بھی ہے جس کی بنیاد مقدمات کو نمٹانے پر نہیں بلکہ مختلف حوالوں سے تاخیری حربوں اور طوالت کے ذریعہ انہیں الجھائے رکھنے پر ہے۔ اس کا آخری نتیجہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ انصاف کا حصول اور فراہمی ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں اور باہمی مفادات کا رجحان مجموعی عدالتی ماحول او رپراسس پر غالب آکر جرائم پر کنٹرول کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی اور ان میں مسلسل اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ باہمی مفادات صرف مدعی اور مدعا علیہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ پولیس، وکالت کا نظام، اور عدالت بھی باہمی مفادات کی اس کشمکش میں پوری طرح حصہ دار بن جاتے ہیں جس کے نتیجے میں جھوٹ اور مکر بلکہ جھوٹ در جھوٹ کا ایک ایسا جال ہمارے عدالتی ماحول کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے جس کی ایک جھلک اس عوامی محاورے میں دیکھی جا سکتی ہے کہ

’’پنچائت میں جھوٹ بولنے والا اور عدالت میں سچ بولنے والا اپنے کیس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘‘

ہم نے یہ محاورہ انتہائی نرم الفاظ میں بیان کیا ہے ورنہ اصل الفاظ اتنے سخت ہیں کہ ہم انہیں بیان کرنے کے متحمل نہیں ہیں ، ہمیں خود کئی بار اس سلسلہ میں تجربات و مشاہدات کا سامنا کرنا پڑا جن میں بعض اس طرح ہیں کہ

  • ایک صاحب نے، جو بہت دین دار تھے، ایک جھگڑے کی رپورٹ درج کرانے کیلئے میرے سامنے اس بات کا تقاضہ کیا کہ ان کی ٹانگ ٹوکے سے توڑ دی جائے تاکہ مخالف فریق کے خلاف وہ سخت مقدمہ درج کرا سکیں۔
  • خود میرے گھر میں ایک دفعہ چوری ہوئی جس میں گھر والوں کے کچھ زیورات چرا لیے گئے ، میں نے مقدمہ درج کرانے کے لیے ایک معروف وکیل صاحب سے، جو اب مرحوم ہو چکے ہیں، مشورہ کیا تو انہوں نے ایف آئی آر کے لیے ایک لمبی کہانی لکھ کر میرے ہاتھ میں تھما دی جسے پڑھتے ہی میں بے ساختہ بول اٹھا کہ ’’میرے بھائی! اس میں کم از کم پچاس فی صد سچ تو ہونا چاہیے‘‘۔ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ پھر ایف آئی آر درج کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس پر میں چپکے سے وہاں سے اٹھ کر آگیا۔
  • جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے سابق امیر علامہ محمد احمد لدھیانویؒ نے یہ واقعہ خود مجھ سے بیان کیا کہ ان کے گھر سے کچھ زیورات چوری ہو گئے، انہوں نے پولیس کے ضلعی حکام سے بات کی تو متعلقہ پولیس آفیسر کچھ زیور لے کر ان کے پاس آئے اور کہا کہ یہ آپ کے زیور ہیں جو مل گئے ہیں، علامہ صاحب مرحوم نے کہا کہ بھائی یہ ہمارے زیور نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھر والوں کو دکھائیں ، یہ آپ ہی کے زیور ہیں مگر علامہ صاحب مرحوم نے یہ کہہ کر زیور وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ میں اپنے گھر والوں کے زیور پہچانتا ہوں اور یہ ہمارے زیور نہیں ہیں۔

اس قسم کی سینکڑوں داستانیں ہمارے اردگرد بکھری پڑی ہیں جو ہماری معاشرتی نفسیات اور عدالتی ماحول کی زبوں حالی کا ماتم کر رہی ہیں حتیٰ کہ اب تو ان باتوں کو عیب اور گناہ سمجھنے کی بجائے انصاف کے تقاضوں میں شمار کیا جانے لگا ہے جس کی صدائے بازگشت عدالت عظمیٰ کے ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کی اصل وجہ کیا ہے اور اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ یہ سوال ملک کے جس شہری کے سامنے رکھا جائے گا تو اس کا جواب یہی ہو گا کہ اسلامی تعلیم و تربیت اور دینی اخلاقیات سے لوگوں کی دوری اس کا سب سے بڑا سبب ہے کیونکہ جس معاشرہ کی مجموعی تعلیم و تربیت قرآن کریم کی تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ و سنت کی روشنی میں ہوئی ہو اس میں اس طرح کی صورت حال کی گنجائش نہیں ہوتی۔ لیکن اس سے اگلے سوال کا جواب ہر جگہ سے مکمل خاموشی کی صورت میں ملے گا کہ کیا ہمارے ریاستی ادارے، تعلیمی نظام، اور میڈیا سمیت عوامی ذہن سازی کے مراکز اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟ پھر اس صورت حال کا ایک بڑا باعث موجودہ عدالتی نظام کی پیچیدگیاں، مقدمات کی طوالت اور الجھاؤ بھی ہے جس کا حل سادہ اور فطری شرعی عدالتی نظام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن یہ بات کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا ہے کہ عدالتی نظام کے تین بڑے ستونوں بنچ، بار ،اور پولیس میں سے کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہو گا اور ایسے کسی حل کے اہتمام کے لیے خود کو تیار نہیں پائے گا۔

ہم فاضل جج محترم جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ان ریمارکس سے متفق ہیں اور انہیں معاشرے کے مجموعی ماحول اور نفسیات کا آئینہ دار سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ محترم جسٹس صاحب سے یہ بھی گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا کام صرف خرابیوں کی نشاندہی کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا حل پیش کرنا اور حل کی طرف عملی پیش رفت کا ماحول پیدا کرنا بھی شاید ان کے دستوری فرائض میں شامل ہے۔ ہماری معاشرتی خرابیوں کا حل صرف اور صرف قرآن کریم اور سنت نبویؐ کے ماحول کی طرف واپسی ہے لیکن وہ صرف بیانات اور وعظ و خطاب کے ذریعہ نہیں ہو گی بلکہ تمام ریاستی اداروں مثلاً حکومت، عدلیہ، پارلیمنٹ، وکلاء ،پولیس، تعلیمی اداروں، اور میڈیا وغیرہ کو اس کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر ایسی خرابیوں کا وقتاً فوقتاً مختلف فورموں پر ماتم کرتے رہنے سے کیا حاصل ہو گا؟