تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ جون ۲۰۱۰ء

متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے زیراہتمام ۸ جون کو دفتر احرار لاہور میں پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیرصدارت مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جو نمائندگی کے لحاظ سے بھرپور تھا اور اس میں لاہور میں قادیانی مراکز پر ہونے والے مسلح حملوں سے پیدا شدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ میڈیا میں قادیانی مسئلہ کے بارے میں بحث و مباحثہ اور میاں نواز شریف کے حالیہ بیان سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے حضرت صاحبزادہ رشید احمد نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ دیگرشرکاء میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، پیر سید کفیل شاہ بخاری، مولانا امیر حمزہ، صاحبزادہ سید محفوظ احمد مشہدی، سردار محمد خان لغاری، پروفیسر عبد الرحمان لدھیانوی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا محمد امجد خان، مرزا محمد ایوب بیگ، مولانا شمس الرحمان معاویہ، جناب متین خالد، حاجی عبد اللطیف خالد چیمہ اور مولانا محمد الیاس چنیوٹی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ راقم الحروف بھی اجلاس میں شریک تھا۔ اجلاس میں مقررین نے اس بات کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیا کہ قادیانیوں کے بارے میں تحریک ختم نبوت کے قائدین نے گزشتہ ایک صدی کے دوران کبھی تشدد کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ وقتی اور مقامی اشتعال کے باعث اکا دکا واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں لیکن اجتماعی طور پر کبھی تشدد اور مسلح کاروائیوں کو روا نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اب بھی تحریک ختم نبوت میں شریک جماعتوں اور کارکنوں کا طرزعمل یہی ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے لیے دستور و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن جدوجہد کر رہے ہیں اور تشدد کی کسی کاروائی کو درست نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دینی جماعتوں نے لاہور کے واقعات کی مذمت کی ہے اور ان سے برأت کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس میں اس بات کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا کہ لاہور کے واقعات کا ملبہ دینی جماعتوں پر ڈالنے اور جنوبی پنجاب میں نام نہاد پنجابی طالبان کا ہوّا کھڑا کر کے دینی مدارس کے خلاف کاروائیوں کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ اس صورتحال کا وسیع تناظر میں جائزہ لینے اور واقعات کے اصل محرکات اور عوامل کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں اس سلسلہ میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاہور کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کروائی جائے اور سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی انکوائری کمیشن قائم کیا جائے جو پورے واقعات کی چھان بین کر کے ان کے اصل محرکات کو بے نقاب کرے اور پھر مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

اجلاس میں اس بات کا بھی نوٹس لیا گیا کہ لاہور کے واقعات کے تناظر میں میڈیا پر قادیانی عقائد کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ کر ’’قادیانی مسئلہ‘‘ کو ری اوپن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ مقررین نے کہا کہ

  • قادیانی مسئلہ علمی، دستوری، سیاسی اور عدالتی سطح پر ہمیشہ کے لیے طے ہو چکا ہے۔
  • امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار اور غیر مسلم قرار دیا ہے۔
  • پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے کر ان کی دستوری حیثیت متعین کر دی ہے۔
  • اور عدالت عظمیٰ نے بھی اپنے واضح فیصلے میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے رکھا ہے۔

ان واضح اور دو ٹوک فیصلوں کے بعد قادیانی مسئلہ پر ازسرنو کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے اور میڈیا کے ذریعے بحث و مباحثہ کا دروازہ پھر سے کھول کر قادیانی مسئلہ کو ری اوپن کرنے کی جو مہم جاری ہے وہ اسلامی عقائد، ملتِ اسلامیہ کے جذبات اور دستور و قانون سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس پر اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ قادیانی مسئلہ کو ری اوپن کرنے کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسی مذموم کوششوں کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں اس ضرورت کا احساس اجاگر کیا گیا کہ اس مسئلہ پر دینی جماعتوں کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا چاہیے۔ چنانچہ ایک قرارداد کے ذریعے تمام دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد مل بیٹھیں اور قادیانی مسئلہ کے سلسلہ میں منظم طور پر پیدا کی جانے والی نئی صورتحال میں متحد ہو کر قوم کی قیادت کریں۔

اجلاس میں قادیانیوں کے سلسلہ میں میاں نواز شریف کا حالیہ بیان بھی زیربحث آیا۔ مقررین نے اس پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا کہ نواز شریف نے قادیانیوں کو بھائی کہہ کر اور محب وطن قرار دے کر اسلامیانِ پاکستان کے جذبات کی توہین کی ہے اور معروضی حقائق کو نظرانداز کیا ہے۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ قادیانیوں نے اپنے بارے میں امتِ مسلمہ کے متفقہ فیصلے کو مسترد کیا ہے، پارلیمنٹ کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا ہے جس کی وجہ سے قادیانیوں کو ملک کی دوسری غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کرنا قطعی طور پر غلط ہے۔ قادیانی گروہ عقیدۂ ختم نبوت سے انکار اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت متعدد حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کی کھلم کھلا توہین کے علاوہ ملک کے دستور و قانون کا بھی باغی ہے۔ اس لیے میاں محمد نواز شریف کا ان کو بھائی اور محب وطن کہنا ناقابل برداشت ہے۔ چنانچہ اجلاس میں میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس پر معافی مانگتے ہوئے اپنی پوزیشن کی جلد از جلد وضاحت کریں۔

اجلاس میں قادیانی راہنماؤں کی طرف سے مسلسل بیانات میں خود کو مسلمان قرار دینے اور دستور و قانون کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کا بھی جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ اس سلسلہ میں ضروری قانونی کاروائی کی جائے گی اور لاہور کے واقعات کی آڑ میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی صفوں میں گھسنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اجلاس میں غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والے قافلوں پر اسرائیلی حملے کو کھلم کھلا دہشت گردی قرار دیتے ہوئے او آئی سی اور دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں اور اسرائیلی جارحیت کی روک تھام کے لیے ٹھوس لائحۂ عمل اختیار کریں۔

اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے راقم الحروف اور دیگر راہنماؤں نے کہا کہ ہم دستورِ پاکستان کے تحت قادیانیوں کے اقلیتی حقوق اور ان کی جان و مال وغیرہ کے تحفظ کا حق تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے لیے قادیانیوں کو دستور کے دائرے میں آنا ہوگا اور دستوری فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی اقلیتی حیثیت کو قبول کرنا ہوگا۔ قادیانیوں اور ان کے ہمنواؤں کو یہ بات بہرحال پیش نظر رکھنا ہوگی کہ پاکستان میں ان کو مسلمانوں کا درجہ کبھی حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی امتِ مسلمہ انہیں مسلمان کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہوگی۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ قادیانی مسئلہ کے سلسلہ میں تازہ ترین صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی اور ’’متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی‘‘ کے مشترکہ اجلاس ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً ہوتے رہیں گے۔

اجلاس میں بعض مقررین کی طرف سے ملک کے دینی حلقوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی کہ قادیانیوں کے بارے میں دستوری فیصلے اور تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کی مخالفت میں پیش پیش خاتون راہنما عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے اس لیے دینی حلقوں کو اس سلسلہ میں بھی اپنا لائحہ عمل جلد طے کرنا چاہیے۔