امریکی صدروں کے مذہبی رجحانات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ جنوری ۲۰۰۴ء

لاہور سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ نے 17 جنوری 2004ء کو اے ایف پی اور سدا نیوز کے حوالے سے دو خبریں شائع کی ہیں۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکی محکمہ انصاف سے عیسائی مشنری اداروں کے لیے تین ارب ستر کروڑ ڈالرز کا فنڈ فراہم کرنے کو کہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر بش نے عیسائی مشنری اداروں کو ان کے مذہبی خیراتی کاموں کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے سلسلے میں محکمہ انصاف کو قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دینے کا کہا ہے۔ صدر بش نے عیسائی مشنری اداروں کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ امریکی عوام کو مستقبل میں عیسائی مشنری اداروں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے تشویش نہیں ہونی چاہیے، ہم امریکہ کو ایک بہتر مقام دینے کے لیے ان اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ خبر کے مطابق صدر بش انتہا پسند عیسائی فرقے ایوینجیلیکل چرچ (Evangelical Church) سے تعلق رکھتے ہیں اور باقاعدگی سے چرچ جاتے ہیں۔

دوسری خبر کے مطابق صدر بش نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کے معجزے سے سنگین مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ نیو آرلینز میں یونین ہیتھل اے ایم ای چرچ کے خادمین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے سماجی پروگراموں پر زیادہ سے زیادہ اخراجات کرے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب سے دل لگا کر ہم اپنی برائیوں اور نفس یا دل کے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ شراب پیتے تھے لیکن انہوں نے اپنے دل کو تبدیل کر کے شراب چھوڑ دی ہے۔

خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مذہبی سماجی خدمات کے پروگراموں کے لیے خیراتی امداد کا پروگرام جاری کر دیا ہے تاہم صدر بش کے اس پروگرام کو کانگریس کی پوری حمایت حاصل نہیں ہے جہاں بہت سے ناقدین چرچ کے لیے فنڈ جمع کرنے کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور ریاست مذہب کی تبلیغ نہیں کرے گی۔ تاہم کانگریس نے فلاحی کاموں کے لیے دیے جانے والے چندوں پر ٹیکس میں کمی کی حمایت کی ہے۔ صدر بش نے مزید کہا کہ حکومت کی پالیسی کہتی ہے کہ مدد کی جائے اور دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ مذہب پر عمل نہ کیا جائے۔ صدر بش نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ

’’میں نے کانگریس سے کہا ہے کہ وہ مذہبی سرگرمیوں سے خوفزدہ نہ ہو اور یہ بحث کہ ریاست چرچ بن جائے گی یا چرچ ریاست بن جائے گا، ایسا نہیں ہو رہا اور نہ میں ایسا چاہتا ہوں‘‘۔

جہاں تک صدر بش کا شراب نوشی ترک کرنے کا فیصلہ ہے، ظاہر ہے کہ مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کا خیر مقدم ہی کیا جائے گا کیونکہ شراب اور نشہ اسلام کی طرح عیسائی مذہب میں بھی جائز نہیں تھا۔ اور امریکہ میں شراب پر ایک موقع پر پابندی لگائی جا چکی ہے جو اگرچہ کامیاب نہیں ہوئی لیکن اس سے شراب کے بارے میں امریکی قوم کے اجتماعی رویے کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔ علم و عرفان پبلشرز لاہور کی طرف سے شائع کردہ ’’بیسویں صدی کا انسائیکلو پیڈیا‘‘ میں 1920ء کے تذکرہ میں 16 جنوری 1920ء کے واقعہ کے طور پر درج ہے کہ آج ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے شراب پر سرکاری طور پر پابندی لگا دی گئی۔ اس ایکٹ کو قومی ممانعت ایکٹ یا Volstead Act کا نام دیا گیا ہے، جبکہ 25 ریاستوں میں اس قسم کا قانون پہلے ہی نافذ ہے۔ جن لوگوں نے مختلف سٹوروں، گوداموں، اور دوسری جگہوں پر شراب ذخیرہ کر رکھی ہے انہیں کل تک اسے وہاں سے ہٹانے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ لیکن اس قانون پر عملدرآمد ہونے کے بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں کیونکہ صرف نیویارک میں اس پر عملدرآمد کروانے کے لیے دو لاکھ پچاس ہزار پولیس مینوں کی ضرورت ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں شراب نوشی پر پابندی کے اس قانون پر اگر عمل نہیں ہو سکا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ قانون پر عملدرآمد کرانے کے لیے پولیس کی نفری کم تھی ورنہ یہ پابندی منتخب امریکی کانگریس نے عائد کی تھی۔ دوسری طرف اگر ہم ماضی قریب کے اس واقعہ کو سامنے رکھ لیں کہ افغانستان میں طالبان کے دور میں بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ملا محمد عمر کے صرف ایک حکم سے پورے افغانستان میں پوست کی کاشت مکمل طور پر ختم ہوگئی تھی تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کسی قانون پر عمل کے لیے صرف پولیس کی نفری اور لاء اینڈ آرڈر کا ڈنڈا کافی نہیں ہوتا بلکہ قانون کو اگر لوگوں کے عقیدے اور دین کی پشت پناہی حاصل ہو جائے تو کسی نفری اور ڈنڈے کے بغیر بھی اس قانون پر عملدرآمد کرایا جا سکتا ہے۔

امریکی دستور کی پہلی ترمیم میں مذہب کے ریاستی کردار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا اور اسی حوالے سے کانگریس کے بعض ارکان صدر بش کی طرف سے مسیحی مشنریوں کے لیے دی جانے والی مالی مراعات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ تاریخی حقیقت امریکی کانگریس کا منہ چڑا رہی ہے کہ جس شراب کو اس نے 1920ء میں ممنوع قرار دیا تھا اسے امریکہ کے صدر نے یہ کہہ کرترک نہیں کیا کہ امریکی کانگریس نے ایک موقع پر شراب پر پابندی عائد کر دی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے ان کے دل کی کیفیت بدلی ہے اور انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی ہے۔

مذہب کے معاشرتی کردار اور اس کی قوت کا اس سے قبل امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن بھی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کر چکے ہیں جب وہ صدارت کی دوسری مدت پوری کر کے ریٹائر ہوئے- فیروز سنز لاہور کی شائع کردہ کتاب ’’تاریخ امریکہ کی زندہ دستاویزات‘‘ کے مطابق انہوں نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ

’’ان تمام رجحانات کی مدد ناگزیر ہے جن سے سیاست، مذہب، اور اخلاق کی نشوونما ہوتی ہے۔ سیاست، مذہب، اور اخلاق عظمت کے مینار ہیں، جو شخص ان میناروں کو گرانے کی فکر میں ہے وہ محب وطن ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ مذہب، سیاست، اور اخلاق انسانی مسرتوں کے سرچشمے ہیں، ان کا تحفظ شہریوں اور حکومت کا فرض ہے۔ اگر کوئی شخص محض سیاستدان ہے تو وہ بھی عابد و زاہد شخص کا ہمسر ہے اور احترام و احسان کا مستحق ہے۔ مذہبی رہنما ہو چاہے سیاستدان دونوں کی پبلک اور پرائیویٹ زندگی ہے اور یہ فیصلہ ممکن نہیں کہ کون کس سے بڑا ہے۔ اگر مذہبی قیود اٹھ جائیں تو لوگوں کی جائیداد کب سلامت رہے گی ۔لوگوں کی شہریت اور ان کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔ انسان اگر مذہبی نہ ہو تو وہ عدالت میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر حلف کیونکر اٹھائے گا۔ آئیے تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیں کہ اخلاقی اقدار مذہب کے بغیر بھی کامیاب رہ سکتی ہیں، لیکن تجربہ اور منطق دونوں اس مفروضے کی راہ میں مانع ہیں۔ قوموں کا کردار مذہب کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ ‘‘

جارج واشنگٹن کے ان خیالات کو اگر امریکی دستور کی پہلی ترمیم کی روشنی میں دیکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی قیادت میں مغربی قوتوں کی اس عالمی مہم پر بھی نظر ڈال لی جائے جو وہ عالم اسلام اور مسلم ممالک کو مذہب کے قومی اور معاشرتی کردار سے دستبردار کرانے کے لیے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں تو مغربی فلسفہ و ثقافت کا وہ تضاد کھل کر سامنے آجاتا ہے جس نے آج پوری نسل انسانی کو خلفشار اور اضطراب سے دوچار کر رکھا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مسلم ممالک سے اصرار ہے کہ وہ قومی اور ریاستی معاملات میں اسلام کو دخل انداز نہ ہونے دیں اور سیکولر طرز سیاست کو اپناتے ہوئے مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبردار ہو جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک بطور خاص اپنی ریاستی پالیسیوں میں مذہب کا حوالہ ختم کر دیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان کا دستور ہدف تنقید بنا ہوا ہے، سعودی عرب کا نظام تعلیم اعتراضات کا نشانہ ہے، اور مسلمانوں کے شرعی خاندانی قوانین بھی طن و تشنیع کی زد میں ہیں۔ لیکن جب سوویت یونین کے خلاف جہاد افغانستان میں مذہب کا پرچم بلند ہوا تو امریکہ اورا س کے حواریوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس خالص مذہبی جہادی تحریک کو سیاسی، مالی، اور عسکری ہر حوالے سے مکمل سپورٹ فراہم کی گئی۔ مگر جب اسی مذہبی جہادی تحریک کا رخ امریکہ کی طرف ہوا تو وہ دہشت گردی قرار پا گئی اور اسے کچلنے کے لیے تمام حدود پامال کر دی گئیں۔

مسیحی مشنری اداروں کے حوالے سے بھی دیکھ لیجیے کہ صدر بش ایک طرف مسیحی مشنریوں کو اربوں ڈالر کی امداد دلوانے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور کانگریس سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مسیحی مشنری اداروں کی سرگرمیوں سے خوفزدہ نہ ہوں۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ مسلم ممالک میں ان مسیحی مشنریوں کا کردار سوسائٹی کے اجتماعی دھارے میں خلفشار پیدا کرنے اور رفاہی خدمات کی آڑ میں مسلمانوں کو ان کے دین و عقیدے سے دستبردار کرانے کی کوششوں پر مشتمل ہے۔ اور مسلم معاشروں میں ان مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف مسلم ممالک کی بیسیوں رفاہی تنظیمیں امریکی پابندیوں کا نشانہ بنی ہوئی ہیں، ان کے فنڈز منجمد کر دیے گئے ہیں، اور عالمی ذرائع ابلاغ ان کی مسلسل کردار کشی کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ مذہب کا کردار اور اس کا احترام امریکہ اور اس کے حواریوں کے نزدیک کسی اصول یا فلسفے پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ضرورت کا ہتھیار ہے کہ جہاں ضرورت پڑی اسے استعمال کر لیا اور ضرورت ختم ہوئی تو اسے ایک طرف رکھ دیا۔

مذہب کے حوالے سے ہم امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے خیالات سے متفق ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن صدر بش کی قیادت میں جدید امریکہ نے مذہب کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلنے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اسے کسی طرح بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ صرف اپنے مفاد کے لیے مذہب کا استعمال کرنا مذہب کی توہین ہے۔ اور اگر مذہب کے کردار و افادیت اور مذہبی رفاہی اداروں کی کوئی اہمیت ہے تو اس سے صدر بش کی مراد صرف مسیحی مذہبی ادارے ہیں۔ اگر وہ اس افادیت اور اہمیت کے دائرے میں اسلام کو شامل نہیں سمجھتے تو اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک صلیبی جنگ کی قیادت کر رہے ہیں اور اس کے لیے مسیحی مذہب کو متحرک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

درجہ بندی: