مدارس کی رجسٹریشن اور یکساں نصاب تعلیم کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جنوری ۲۰۲۰

ملک بھر کے دینی مدارس کی محکمہ تعلیم کے تحت ازسرنو رجسٹریشن اور ’’لازمی یکساں تعلیمی نصاب‘‘ کے حوالہ سے دینی حلقوں بالخصوص اساتذہ و طلبہ میں بعض ابہامات کے باعث جو تشویش پائی جاتی ہے اس کا مختلف دائروں میں اظہار ہو رہا ہے اور اس کا سلسلہ دن بدن پھیلتا جا رہا ہے۔ گزشتہ اتوار کو جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں میری معمول کی حاضری کے موقع پر ملی مجلس شرعی پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین تشریف لائے اور ملک کے مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں آگاہی اور بیداری کو عام کرنے کے لیے علماء کرام، اساتذہ اور دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے مشترکہ اجتماعات کی تجویز پر ہم نے باہمی مشورہ کیا۔ اسی روز جمعیۃ اساتذہ پاکستان کے زیر اہتمام مکی مسجد ملتان روڈ لاہور میں مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جبکہ اگلے روز پیر کو پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ کی دعوت پر مرکزی جامع مسجد میں شہر کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ اجلاس میں اس صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ان دونوں نشستوں کی مختصر رپورٹ حافظ غضنفر عزیز اور حافظ امجد محمود معاویہ کے قلم سے پیش کی جا رہی ہیں۔

باقی باتوں سے قطع نظر اس وقت جو امور سب سے زیادہ تشویش کا باعث بن رہے ہیں انہیں مختصرًا یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ:

  • سارا زور دینی مدارس کے نصاب میں عصری تعلیم کو لازمی طور پر شامل کرنے پر دیا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی دائرے کے تعلیمی نظام و نصاب میں قرآن کریم، حدیث و سنت، فقہ و شریعت، تاریخ اسلام اور عربی زبان کی تعلیم کے اہتمام کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں ہے، جو ایک مسلم معاشرہ کی حیثیت سے ہم سب کی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ دستور و قانون کا تقاضہ بھی ہے۔
  • پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے بیکن ہاؤس طرز کے تمام نیٹ ورک ’’لازمی یکساں نصاب تعلیم‘‘ کے اس دائرے سے یکسر خارج ہیں اور ان کی کوئی بات نہیں کر رہا۔
  • محکمہ تعلیم کے تحت تمام دینی مدارس کی لازمی رجسٹریشن کے لیے جو پروسیجر، شرائط اور فارم وغیرہ سامنے آئے ہیں وہ رجسٹریشن کے نہیں بلکہ الحاق کے دائرے میں آتے ہیں۔ اور اکثر جگہ اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں کا رویہ دینی مدارس کے ساتھ اس سلسلہ میں انتہائی توہین آمیز ہے، وغیر ذٰلک۔

سب احباب سے گزارش ہے کہ اس پس منظر میں دونوں اجلاسوں کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں اور صورتحال کو دینی اور قومی حوالوں سے بہتر بنانے کے لیے اپنی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کریں۔

گوجرانوالہ کے اجلاس کی رپورٹ:

’’پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ کی دعوت پہ مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں تحفظ مدارس کے حوالہ سے منعقدہ مشترکہ اجلاس میں اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے نمائندگان اور تمام مسالک کے اکابر علماء نے شرکت کی۔ اجلاس پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی کی تحریک پر علامہ خالد حسن مجددی کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں دینی مدارسِ کی رجسٹریشن اور لازمی یکساں نصاب کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ عصری ادارے جن کا تعلیمی معیار روز بروز پستی کی طرف جا رہا ہے ، اور ریاستی نصاب تعلیم سے اسلامیات کا نصاب مسلسل کم سے کم کیا جا رہا ہے، مگر ان کی اصلاحات اور بہتری کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے بیرونی قوتوں کے ایما پر مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اہل مدارس وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، ریاستی اداروں سے ہر معاملہ میں تعاون کرتے آ رہے ہیں، اداروں کو بھی چاہیے کہ مدارس کے کوائف کے حصول کے لیے اور مدارس کے اساتذہ اور طلباء کی جملہ معلومات کی دستیابی کے لیے متعلقہ وفاق المدارس کے ذمہ داران سے رابطہ کرتے ہوئے ماحول کو انتشار سے محفوظ رکھیں۔ نصاب میں ترمیم یا تجویز کے حوالے سے FTFA کے ایجنڈے سے مکمل طور پہ آگاہ کیا جائے اور مبہم اشکالات کو دور کیا جائے۔ یکساں نظام تعلیم اگر مقصود ہے تو عصری اداروں میں بھی ترجمہ قرآن تفسیر اور احادیث و فقہ کی بنیادی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ شرکاء اجلاس معزز علماء کرام نے قومی سطح پہ ہونے والے مذاکرات میں قائدین اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے اس موقف کہ مدارس کی خود مختاری اور آزادی کو سلب نہیں ہونے دیں گے، کی بھرپور حمایت کی اور تحفظ مدارس کے لیے ہر سطح پہ تعاون اور تائید کا یقین دالایا۔ اجلاس میں مولانا محمد امین محمدی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا ضیاء الرحمان قاسمی، علامہ عارف حسین تائبی، مولانا ابرار احمد ظہیر، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا جواد محمود قاسمی، حافظ گلزار احمد آزاد، بابر رضوان باجوہ، جناب یوسف کھوکھر، قاری احسان اللہ قاسمی، ظہیر حسین نقوی، سید احمد حسین زید، مولانا نصر الدین خان عمر، حافظ عبد الجبار، اور محمد عثمان قادر نے شرکت کی۔‘‘

لاہور کے اجلاس کی رپورٹ:

’’قومی نصاب تعلیم کی تشکیل قیام پاکستان کے بعد سے ایک مستقل حل طلب مسئلہ رہا ہے جس کے لیے مختلف سطحوں پر وقتاً فوقتاً مطالبہ کیا جاتا رہا لیکن حکومتی سطح پر مغربی قوتوں کے ساتھ فدویانہ تعلق کی نوعیت نے اس مسئلہ کو ناقابل حل بنا کر رکھ دیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اسی عنوان سے یکساں نصاب تعلیم کی تشکیل کا اعلان کیا ہے لیکن سنجیدہ اور فہمیدہ طبقات میں اس حوالے خدشات سر اٹھا رہے ہیں اس سلسلے میں تمام قومی طبقات اور حلقوں کو اعتماد میں نہ لینے کی روش نے حکومت کی نیک نیتی اور سنجیدگی کو مشکوک بنا دیا ہے۔ مختلف سطحوں پر اس حوالے سے سنجیدہ اعتراضات اور شبہات سامنے آرہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جمعیت اساتذہ ضلع لاہور نے مولانا زاہد الراشدی کے مشورہ سے گزشتہ روز مکی مسجد ملتان روڈ لاہور میں ’’نصاب تعلیم اور قومی تقاضے‘‘ کے عنوان پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا۔

مجلس کا آغاز قاری محمد ادریس کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ آغاز میں جمعیت اساتذہ ضلع لاہور کے صدر حافظ غضنفر عزیز نے مجلس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

مجلس مذاکرہ سے تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے حافظ عبد الخالق وٹو صدر جمعیت اساتذہ پاکستان پنجاب نے جمعیت اساتذہ کے قیام کے محرکات پر تفصیلی گفتگو کی اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلباء کو درپیش نصابی اور اخلاقی مسائل و مشکلات کی نشاندہی کی۔ مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے اس سلسلہ میں مربوط کام کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس مجلس مذاکرہ کو خوش آئند قرار دیا۔ ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز نے اسلامی تھنک ٹینک کے قیام کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ مولانا مفتی محمد اکرم نے مولانا زاہد الراشدی کے اس اقدام کو سراہا اور انہیں قدم بقدم ساتھ دینے کا یقین دلایا۔ مولانا عبداللہ مدنی ناظم اعلی جامعہ فتحیہ نے بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

آخر میں مولانا زاہد الراشدی نے اب تک قومی سطح پر یکساں نصاب تعلیم کی تشکیل، اس کے پس پردہ محرکات، اس سلسلہ میں عالمی طاقتوں کی مداخلت، جدوجہد کے مختلف دائروں اور اجتماعی محنت و کوشش کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور مستقبل کے حوالے سے پیش بینی کرتے ہوئے صف بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی پر مغز اور بامقصد گفتگو سے موضوع کی اہمیت اور جدوجہد کی ضرورت واضح ہوئی۔

چنانچہ اس سلسلہ میں اب تک ہونے والی سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں اور مجوزہ نصاب تعلیم کا جائزہ لینے وغیرہ کے لیے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس سارے نصاب اور مغربی اداروں بالخصوص این جی اوز کی طرف سے شائع شدہ رپورٹس کا مطالعہ کر کے بریفنگ رپورٹ مرتب کرے گی اور تجاویز بھی تیار کرے گی۔ اس کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر سمیع اللہ فراز کریں گے جبکہ بقیہ ارکان میں ڈاکٹر عبد الماجد ندیم، حافظ عبد الخالق وٹو، مفتی محمد اکرم، مولانا محمد عثمان رمضان، مولانا عبداللہ مدنی اور حافظ غضنفر عزیز شامل ہیں۔

امید ہے کہ قومی نصاب تعلیم کو قومی سیاسی اور ادارہ جاتی حلقے قومی امنگوں کے مطابق تشکیل دیں گے اور سنجیدہ طبقات کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے قوم کو مزید کسی اضطراب میں مبتلا کرنے سے پرہیز کریں گے۔‘‘