عام انتخابات ۲۰۰۸ء اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۸ء

ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہیں۔ قاضی حسین احمد، عمران خان اور محمود خان اچکزئی کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ جبکہ ان کے علاوہ کم وبیش تمام سیاسی ودینی جماعتیں الیکشن کے عمل میں شریک ہیں اور دن بدن انتخابی مہم میں تیزی آ رہی ہے۔ ۸ جنوری ۲۰۰۸ء کو ہونے والے ان انتخابات پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور مختلف ممالک اور عالمی اداروں کی طرف سے ان کے نمائندے الیکشن کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان آنے والے ہیں۔

الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ ایمرجنسی اور پی سی او کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو ان کے مناصب سے الگ کر کے ملک کے عدالتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا ہے اور آئین میں شخصی طور پر کی گئی ترامیم کے ساتھ آئین کو مسخ کیا جا چکا ہے، اس لیے ان انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ ان کا بائیکاٹ کر کے ایک ایسی تحریک برپا کرنا ضروری ہو گیا ہے جو آئین کی سابقہ پوزیشن کی بحالی اور چیف جسٹس اور ان کے ساتھ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے تمام ججوں کی ان کے دستوری مناصب پر واپسی پر منتج ہو کیونکہ اس کے بغیر عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کا قیام ممکن نہیں ہے، جبکہ انتخابات میں حصہ لینے والوں میں سے اکثر کا موقف یہ ہے کہ موجودہ حالات میں اس الیکشن میں حصہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ سیاسی عمل سے الگ رہ کر آئین کی بحالی، ججوں کی واپسی اور جمہوری عمل کی بالادستی کے لیے موثر جدوجہد نہیں کی جا سکتی، اس لیے وہ بادل نخواستہ اس عمل میں شریک ہو رہے ہیں تاکہ عوام کی حمایت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچ کر وہ ملک کا دستوری قبلہ درست کرنے کے لیے کردار ادا کر سکیں۔

دونوں موقف اپنے اندر وزن رکھتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے حق میں دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہ بات ۸ جنوری کے انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کے تناسب سے معلوم ہوگی کہ ملک کے عوام نے ان میں سے کس موقف کو ترجیح دی ہے اور ملک کے آئندہ سیاسی نقشے کے خدوخال بھی اس کے بعد ہی صحیح طور پر واضح ہوں گے، البتہ ان انتخابات کے تناظر میں ایک بات جو ہمارے لیے باعث تشویش بنی ہے، وہ متحدہ مجلس عمل کا انتشار وخلفشار ہے کہ قومی سیاست میں دینی حلقوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا طویل مدت کے بعد ایک ایسا مشترکہ محاذ سامنے آیا تھا جس نے عام ووٹروں کی توجہ حاصل کی تھی اور اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں دینی سیاست کی معقول نمائندگی کے علاوہ صوبہ سرحد کی مکمل حکومت اور بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شرکت دینی راہ نماؤں کے حصے میں آئی تھی اور یہ توقع پیدا ہونے لگی تھی کہ اگر متحدہ مجلس عمل اپنی اس پوزیشن کو مزید پیش رفت کے لیے موثر طور پر کام میں لے آئی تو وہ قومی سیاست میں مزید آگے بڑھنے اور نفاذ اسلام کے لیے زیادہ موثر جدوجہد کے مواقع حاصل کر لے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اس کی پالیسی ترجیحات میں معروضی سیاست اور وقتی ضروریات کی بالادستی نے اس کے بارے میں عام حلقوں بالخصوص دینی عناصر کی توقعات اور امیدوں کو بریک لگا دی۔ بادی النظر میں قبائلی علاقوں میں دینی مدارس اور مجاہدین کے خلاف امریکی آپریشن، حدود آرڈیننس میں کی جانے والی خلاف شریعت ترامیم اور جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کی مصلحت آمیز روش اور صوبہ سرحد میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کوئی نظر آنے والی پیش رفت نہ کر سکنے کی صورت حال نے دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ کے بارے میں دینی حلقوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں سترھویں آئینی ترمیم کی منظوری میں متحدہ مجلس عمل کا کردار اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے دوبار صدر منتخب ہونے کے موقع پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے سوال پر اس کا طرز عمل اس کے اعتماد کو مجروح کرنے کا باعث بنا، لیکن اس سب کچھ کے باوجود اگر متحدہ مجلس عمل اپنا اتحاد برقرار رکھتی اور ۸؍ جنوری کے انتخابات کے حوالے سے کوئی متفقہ فیصلہ کر لینے میں کامیاب ہو جاتی تو گزشتہ غلطیوں یا غلط فہمیوں کی تلافی کے امکانات موجود تھے، لیکن افسوس کہ یہ بھی نہ ہو سکا اور ہمارے نزدیک اس معاملے کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہی ہے۔

ہماری دینی جماعتوں بلکہ زیادہ واضح الفاظ میں مسلکی حلقوں نے قومی سیاست میں نفاذ اسلام کے نعرے کے ساتھ اپنے الگ اور الگ الگ تشخص کے اظہار کو ضروری سمجھتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ اور ریاست کی تشکیل کے قومی مقصد کو ایک حد تک کارنر تو کر ہی لیا تھا جس کے مالہ وماعلیہ پر گفتگو ایک مستقل بحث کی متقاضی ہے لیکن اگر وہ اس کے منطقی اور ناگزیر تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے ان کی تکمیل کا ہی اہتمام کر پائیں تو بھی اس حوالے سے توقعات اور امیدوں کا تسلسل قائم رہنے کی صورت دکھائی دے رہی تھی مگر متحدہ مجلس عمل کے پانچ سالہ سیاسی کردار کے پس منظر میں نفاذ اسلام کے حوالے سے عوام کی امیدیں ایک سوالیہ نشان کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کا مشترکہ محاذ ابھی رسمی طور پر قائم ہے اور اس کے دائرۂ کار کو کسی حد تک محدود کرتے ہوئے اسے غیر سیاسی طور پر باقی رکھنے کی باتیں بھی بعض ذمہ دار حلقوں کی طرف سے کی جا رہی ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ سب دل کو بہلانے کی باتیں ہیں، اس لیے کہ متحدہ مجلس عمل کا اصل مقصد وجود قومی سیاست میں دینی حلقوں کی مشترکہ نمائندگی، نفاذ اسلام کے لیے متحدہ سیاسی کردار اور اسلامائزیشن کے عمل میں رائے عامہ کی متفقہ راہ نمائی ہے۔ اگر اس میں بھی متحدہ مجلس عمل کے قائدین کے راستے الگ الگ ہو رہے ہیں تو کسی اور بہانے سے خود کو قوم کے سامنے ’’متحدہ‘‘ شو کرنے کے تکلف کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟

ہماری خواہش اور دعا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اپنے حقیقی مقاصد کے لیے قائم رہے، خاص طور پر جمعیۃ علماے اسلام اور جماعت اسلامی کی قیادتیں اپنی معروضی اور جماعتی ضروریات ومفادات پر اجتماعی تقاضوں اور ملی مقاصد کو ترجیح دیتے ہوئے ایثار وقربانی سے کام لیں اور نفاذ اسلام کے حوالے سے عوامی امیدوں کی اس (خاکم بدہن) آخری شمع کو گل ہونے سے بچا لیں، آمین یا رب العالمین۔