امریکہ، جہاں وسائل زندگی کی فراوانی ہے مگر ۔۔۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جون ۲۰۰۴ء

۱۹ جون کو لاہور سے پی آئی اے کے ذریعے نیویارک آتے ہوئے راستہ میں جہاز دو گھنٹے کے لیے مانچسٹر میں رکا تو روزنامہ جنگ لندن دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی گزشتہ دنوں جب امریکہ کے صدر بش سے ملے تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں اور وہاں قیام کو پسند کرتے ہیں مگر صدر بش نے انہیں بے ساختہ جواب دیا کہ وہ افغانستان جا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اس سوال جواب کے پیچھے ماضی کی ایک پوری دنیا آباد ہے مگر اس سے قبل ہم اس حقیقت کا اعتراف ضروری سمجھتے ہیں کہ واقعی جو شخص امریکہ میں آتا ہے اس کا یہاں رہنے کو جی چاہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیاوی زندگی کی ظاہری سہولتوں کی جس قدر فراوانی امریکہ میں ہے کسی دوسرے ملک بالخصوص تیسری دنیا اور مسلم دنیا کے کسی ملک میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سہولتیں اسباب وسائل کی فراہمی کے حوالے سے بھی ہیں اور قانون کی عملداری کے حوالے سے بھی ہیں۔

امریکہ کو سائنس و ٹیکنالوجی اور سیاست و معیشت میں اس وقت دنیا پر بالادستی حاصل ہے اور پوری دنیا کے نظام اور معاملات چلانے والے بین الاقوامی اداروں پر نہ صرف امریکہ کا کنٹرول ہے بلکہ وہ عملاً اس کے سامنے بے بس ہو کر اس کی ہاں میں ہاں ملانے اور اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مجبور ہیں۔ یہ ڈرامہ ساری دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے امریکہ کی بعض پالیسیوں سے اختلاف بھی کرتے ہیں اور اس کے خلاف قراردادیں بھی پاس کر لیتے ہیں لیکن امریکہ جب کوئی کام کرنے پر آجاتا ہے تو وہ ایک طرف دبک کر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور امریکہ کو وہ کام کرنے سے روکنے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کر پاتے۔ افغانستان اور عراق کے معاملات میں دنیا نے دیکھ لیا کہ افغانستان کے بارے میں تو اقوام متحدہ سے امریکہ نے کسی نہ کسی طرح آشیرباد حاصل کر لی تھی لیکن عراق کے مسئلہ میں اس نے اور برطانیہ نے اتنے تکلف کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور سب کچھ کر گزرنے کے بعد اب اپنی کاروائیوں کو دوام بخشنے کے لیے اقوام متحدہ کا سہارا لینے میں پھر سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اس وقت دنیا کی بالادست تہذیب کا مرکز ہے اور اگرچہ اس تہذیب کو اخلاقی قدروں اور عدل وانصاف کی حمایت حاصل نہیں ہے مگر سیاست ومعیشت، سائنس وٹیکنالوجی اور خوفناک عسکری قوت کی پشت پناہی اسے یقیناً میسر ہے اور اسی کے بل بوتے پر اس نے دنیا پر اپنے رعب ودبدبہ اور جاہ وجلال کی فضاقائم کر رکھی ہے۔

والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے ۱۹۸۶ء میں برطانیہ کا تین ہفتے کا دورہ کیا تھا اور جمعیت علماء برطانیہ کی ’’عالمی توحید وسنت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے علاوہ بہت سے علماء اور دانشوروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ وہ ایک دانش ور سے اپنی گفتگو کا قصہ سناتے ہیں کہ اس نے سوال کیا کہ آپ نے برطانیہ کے دورے کے دوران کیا محسوس کیا ہے؟ حضرت شیخ مدظلہ نے جواب دیا کہ آپ لوگوں نے جسم کی سہولت اور آرام کے لیے بہت کچھ انتظام کر رکھا ہے لیکن روح کے لیے آپ کچھ نہیں کر رہے۔ اس انگریز دانش ور نے اس بات کی تائیدکی اور کہا کہ آپ نے صورتحال کا صحیح تجزیہ کیا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ مغرب نے مذہب سے دست بردار ہو کر اس دنیا کو ہی سب کچھ قرار دے لیا ہے اس لیے تمام وسائل واسباب کو اسی زندگی کے لیے آسانیاں فراہم کرنے پر صرف کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اور اس کی دیکھا دیکھی مشرق اور عالم اسلام میں بھی سہولتوں اور آسانیوں کا فروغ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کام مشین کے ذریعے لینے کی کوشش ہو رہی ہے اور جسمانی مشقت کے امکانات کو کم سے کم کرنے کے لیے بے پناہ وسائل خرچ کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ شب واشنگٹن میں پینٹاگون کے قریب ایک محلہ میں ایک پاکستانی دوست نے، جو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے ریسٹورنٹ کے نئے شعبے کے افتتاح کے موقعہ پر اعزازی ڈنر کا اہتمام کیا جس میں مولانا عبد الحمید اصغر اور راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ یہاں پاکستانی ریسٹورنٹو ں پر کھانا کھانے والوں کا خاصا ہجوم ہوتا ہے اور خاص طور پر امریکی باشندے جو پھیکے کھانوں کے عادی ہیں چٹ پٹے پاکستانی کھانے شوق سے کھاتے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ ریسٹورنٹ صبح گیارہ بجے کھلتا ہے لیکن جب وہ اپنے کسی اور کام کے لیے ایک روز ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ ریسٹو رنٹ میں آئے تو دروازے پر سات آٹھ افراد لائن میں کھڑے تھے کہ جب ریسٹورنٹ کھلے گا تو وہ پہلے داخل ہوں گے۔ اس ریسٹورنٹ میں کھانا پکانے، آٹا گوندھنے اور دیگر اشیاء خوردو نوش تیار کرنے کا مشینی نظم دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ اب تو صرف یہ کسر رہ گئی ہے کہ روٹی کا لقمہ توڑنے اور منہ تک لے جانے کے لیے کوئی مشین ایجاد ہو اور انسان اس ’’مشقت‘‘ سے بھی نجات پا جائے۔

اس سہولت پسندی اور راحت طلبی نے جہاں انسان کو آسانیاں فراہم کی ہیں وہاں بہت سے مسائل بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ فطری مشقت سے محرومی کے بعد انسانی جسم نئی نئی بیماریوں کا شکار بن رہے ہیں اور جسم کو جو مشقت طبعی طور پر درکار ہے اس کے لیے مصنوعی طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ مغرب کا پروگرام نرالا ہے کہ روح کے سکون اور قلب و ذہن کی طمانینت کے فطری طریقوں سے دست بردار ہو کر اسے سکون کے لیے مصنوعی طریقوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، حتٰی کہ منشیات کے فروغ نے مغرب کی پریشانی کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے مگر وہ اس کے اسباب وعوامل اور محرکات پر غو ر کرنے اور ذہن وقلب کے اطمینان کے فطری طریقوں کی طرف واپسی کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسی طرح جسمانی مشقت سے نجات اور سہولت وراحت کے نتائج دیکھنے اور اس کے لیے متبادل صورتیں ایجاد کرنے پر مجبور ہونے کے باوجود وہ جسمانی تعیش کی دوڑ کی رفتار کم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ مشینی دور کا کرشمہ ہے کہ انسانی جسم کو مشقت سے بچانے کاکام بھی مشینیں کر رہی ہیں اور پھر اسے ضروری مشقت دلانے کا کام بھی مشینوں کے سپرد ہے۔

دولت اور سہولتوں کی یہی فراوانی ہے جس نے ایک دنیا کو مغربی معاشرت کا دلدادہ بنارکھا ہے۔ دنیا کے ہر حصے سے لوگ کھنچے چلے آرہے ہیں اور تیسری دنیا اور مسلم ممالک کے بہت سے لوگ ہر وقت ا س کو شش میں رہتے ہیں کہ انہیں کسی نہ کسی طرح امریکہ، برطانیہ یا کسی مغربی ملک میں قیام کی اجازت مل جائے جہاں روزگار بھی ہے اور زندگی کی سہولتیں بھی ہیں، امن وامان بھی ہے اور ڈسپلن بھی ہے ۔ جبکہ تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک میں بدقسمتی سے ان میں سے کسی با ت کا تحفظ اور ضمانت موجود نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ مغرب کی پالیسی اور حکمت عملی کا حصہ ہے کہ اس نے اس حوالہ سے بھی دوہرا معیار قائم رکھا ہوا ہے۔ ورنہ تیسری دنیا اور مسلم ممالک کے اکثر وبیشتر حکمران اور سرکاری مشینری کے کارندے مغرب ہی کے شاگرد ہیں جنہوں نے براہ راست مغرب سے یا نوآبادیاتی دور میں مغرب کے مسلط کردہ نظام تعلیم سے تعلیم وتربیت پائی ہے۔ اور یہ مغرب کے دوہرے نظام اور معیار کا کرشمہ ہے کہ اس نے اپنے ملک کا نظام چلانے کے لیے جن لوگوں کو تربیت اور ٹریننگ دی ہے وہ آج کل صحیح طریقہ سے سسٹم کو چلا رہے ہیں لیکن اسی مغرب نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر تیسری دنیا اور مسلم ممالک کا نظام چلانے کے لیے جو کھیپ تیار کی ہے اس میں بدعنوانی، نا اہلی اور کرپشن کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔

یہ صرف حامد کرزئی کی بات نہیں بلکہ جو بھی یہاں آتا ہے اس کا واپس جانے کو جی نہیں چاہتا۔ دس پندرہ برس پہلے کی بات ہے کہ لندن کے علاقہ ساؤتھال میں ایک سکھ دوست نے مجلس میں سوال کیا کہ کیا بات ہے جب ہم یہاں آکر کچھ دیر رہتے ہیں تو پھر واپس جانے کو جی نہیں چاہتا اور یہا ں کے درودیوار اچھے لگنے لگتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ان درودیوار کی بنیادوں میں ہمارا ہی خون ہے کیونکہ نوآبادیاتی دور میں ہمارے خون پسینے کی کمائی کا استحصال کر کے مغرب نے ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کی ہیں اس لیے جہاں خون کا تعلق ہو انس کا پیدا ہو جانا طبعی بات ہے۔ اس پر وہ سکھ سردار کہنے لگا ’’گیانی جی! تساں ٹھیک آکھیا اے‘‘ (صوفی جی !آپ نے صحیح کہا ہے)۔ امریکہ کو دیکھ لیجیے اس کی تر قی اور بلند وبالا عمارتوں کی بنیادوں میں ان لاکھوں غلاموں اور سیاہ فامو ں کی ہڈیاں دفن ہیں جنہیں بحری جہازوں میں بھر بھر افریقہ سے لایا جاتا تھا اور ان سے جانوروں کی طرح مشقت لی جاتی تھی۔ اگر ان لاکھوں سیاہ فام غلاموں کی محنت و مشقت کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو امریکہ کی ترقی وخوشحالی کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو کر رہ جاتی ہے۔

آج بھی ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے یہی کچھ کر رہے ہیں۔ سود کے استحصالی نظام نے پوری دنیا کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔ مغرب نے دولت کے وسائل اور مراکز پر نہ صرف زبردستی قبضہ جما رکھا ہے بلکہ تجارت، صنعت اور بینکاری کا ایسا نظام دنیا پر مسلط کر دیا ہے جس میں دولت کے بہاؤ کے سارے راستے مغرب یا ان کے ہمنوا ممالک کی طرف جاتے ہیں۔ دنیا بھر کی دولت اور اسباب دولت پر چند ممالک کی اجارہ داری ہے جن کی کمان مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے جدھر دولت کا بہاؤ ہو گا دولت کے طلب گاروں کا رخ بھی ادھر ہی ہو گا، یہ فطری بات ہے جس سے مفر کی کوئی صورت نہیں ہے۔ البتہ حامد کرزئی کا معاملہ تھوڑا سا مختلف ہے۔وہ بڑے اطمینان سے امریکہ میں رہ رہے تھے، کاروبار بھی تھا اور اطمینان بھی تھا کہ اچانک ان کے سر پر صدارت کا تاج رکھ دیا گیا اور انہیں ’’تخت کابل‘‘ پر رونق افروز کر دیا گیا جہاں ایک طرف طالبان ہیں جو اقتدار سے محروم ہونے کے باوجود افغان عوام کے دلوں میں موجود ہیں، دوسری طرف قبائلی سردار ہیں جنہیں راضی رکھنا اور ان کی خواہشات کو پورا کرنا حامد کرزئی کے لیے دشوار تر ہوتا جارہا ہے، اور تیسری طرف مغربی آقاؤں کا ایجنڈا ہے جس کی تکمیل کی طرف پیش رفت کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ ایسے میں اگر حامد کرزئی افغانستان کی صدارت کی بجائے امریکہ کے کسی شہر میں قیام کو ترجیح دے رہے ہیں تو ان کی بات ناقابل فہم نہیں، مگر یہ بات صدر بش کو کون سمجھائے، انہیں بہرحال اپنے کام سے غرض ہے اور حامد کرزئی یہ کام امریکہ کے بارونق شہروں میں نہیں بلکہ کابل کے کھنڈرات میں رہ کر ہی کر سکتے ہیں۔