جامعہ حفصہ کی تعمیر نو اور ’’تحریک طالبان و طالبات اسلام‘‘

   
مجلہ: 
نا معلوم
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اکتوبر ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ کے حکم پر لال مسجد کے کھل جانے کے بعد سے وہاں نماز وغیرہ کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔ عدالت عظمٰی نے لال مسجد کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کا ازخود نوٹس لینے کے بعد اس سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے دائر کی جانے والی رٹ اور غازی عبد الرشید شہید کے خاندان کی طرف سے دی جانے والی درخواستوں کو یکجا کر دیا ہے اور ان سب پر مجموعی طور پر کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔ جس میں لال مسجد کے دوبارہ کھولے جانے اور جامعہ حفصہ کی ازسرنو تعمیر کا معاملہ بھی شامل ہے اور جامعہ فریدیہ میں تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کا مسئلہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علمائے کرام بالخصوص مولانا قاری سعید الرحمن، مولانا قاضی عبد الرشید، مولانا محمد نذیر فاروقی اور مولانا ظہور احمد علوی مسلسل سرگرم عمل ہیں، ان کا انتظامیہ سے بھی رابطہ ہے اور مولانا عبد العزیز کے ساتھ بھی ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی باہمی مشاورت کے نتیجے میں مولانا عبد الغفار کا لال مسجد کے خطیب کے طور پر تقرر عمل میں آیا ہے اور باقی معاملات دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مولانا عبد العزیز کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا محمد تقی عثمانی اور حضرت مولانا قاری سعید الرحمن کی سملی ڈیم کی سب جیل میں ملاقات ہو چکی ہے۔ ہسپتال میں بھی ان سے علمائے کرام کے ایک وفد نے مولانا قاری سعید الرحمن کی سربراہی میں ملاقات کی ہے اور بیمار پرسی کے علاوہ ان سے بہت سے معاملات پر ان کی مشاورت ہوئی ہے۔

جامعہ حفصہ کی صورتحال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو دوبارہ ایک سال کے اندر اس کی تعمیر مکمل کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس حکم میں یہ بات شامل ہے کہ جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر اسی رقبہ میں ہوگی جو اس کے لیے ابتدا میں الاٹ کیا گیا تھا۔ میں نے دوستوں سے اس کی تفصیل معلوم کی تو بتایا گیا کہ جامعہ حفصہ کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کی طرف سے باقاعدہ طور پر الاٹ شدہ رقبہ صرف ۲۰۵ مربع گز ہے، جبکہ آپریشن کے دوران جامعہ کی جس عمارت کو منہدم کیا گیا ہے وہ ۹۰۰۰ مربع گز کے رقبہ کو محیط تھی۔ اس طرح دو سو پانچ مربع گز سے زائد رقبہ سرکاری حکام کے بقول ناجائز تجاوزات میں شمار ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد وہ اسے جامعہ حفصہ میں دوبارہ شامل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ جبکہ دو سو پانچ مربع گز کے رقبہ پر جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کے حکم کے بارے میں بھی وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے یہ خبر آ چکی ہے کہ حکومت سپریم کورٹ میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ البتہ علمائے کرام اپنے اس موقف پر قائم ہیں اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں کہ جامعہ حفصہ آپریشن کے وقت جتنے رقبے میں موجود تھا، اتنی جگہ پر ہی دوبارہ تعمیر کیا جائے اور دو سو پانچ مربع گز سے زائد رقبہ کی قیمت متعلقہ ادارے اگر وصول کرنا چاہیں تو وہ ان کو ادا کر دی جائے جس کے لیے بہت سے مخیر حضرات تیار ہیں۔ مگر سپریم کورٹ کے مذکورہ بالا فیصلے کے بعد اس کی عملی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ عدالت عظمٰی اس پر نظر ثانی کرے اور آپریشن کے وقت گرائی جانے والی تمام عمارت کے رقبہ کو جامعہ حفصہ کی ازسرنو تعمیر میں شامل کرنے کا حکم صادر کرے، اس کے بغیر شاید اس کی کوئی عملی صورت نہ نکل سکے۔

جامعہ فریدیہ میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کا مسئلہ بھی تعطل کا شکار ہے۔ مولانا قاری سعید الرحمن نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ اور دیگر حکام کے ساتھ مسلسل گفتگو اور مطالبہ جاری ہے کہ جامعہ فریدیہ کو فوری طور پر واگزار کیا جائے اور اساتذہ کی کمیٹی کو وہاں تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا موقع دیا جائے۔ حکومت نے اس کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن عملاً کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔ اس سلسلہ میں ایک رکاوٹ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور ان سے متعلقہ خواتین اور طالبات کو بھی جامعہ فریدیہ میں منتقل کرنے کے لیے کہا ہے۔ حکومت اس حوالے سے طالبات اور خواتین کو جامعہ فریدیہ میں لے جانے کی خواہش مند ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں یہ ضروری ہوگا کہ جامعہ فریدیہ کی بلڈنگ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کا ایک حصہ طالبات کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔

بہرحال وقت گزرتا جا رہا ہے اور معاملات چونکہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں، اس لیے انتظامیہ یا علماء میں سے کوئی فریق بھی اپنے طور پر کسی آزادانہ فیصلے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اب جو کچھ بھی ہوگا سپریم کورٹ کی ہدایت کے دائرے میں ہوگا۔ چونکہ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے اور شوال کے تیسرے ہفتے کے دوران میں عام طور پر دینی مدارس میں طلبہ کے داخلوں اور اسباق کے آغاز کا کام مکمل ہو جاتا ہے، اس لیے حالات کی رفتار سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اگر معاملات اسی رفتار سے آگے بڑھے تو خدانخواستہ اس سال جامعہ فریدیہ میں معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکے گا اور تمام متعلقہ امور کے طے پا جانے تک انتظار کا مطلب یہ ہوگا کہ جامعہ فریدیہ کے اساتذہ اور طلبہ اس سال اپنا تعلیمی پروگرام جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

اسی دوران میں ایک اور معاملہ بھی ہمارے علم میں لایا گیا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے افسوسناک سانحہ کے پس منظر میں پشاور میں منعقدہ کسی اجلاس کے دوران ’’تحریک طالبان و طالبات اسلام‘‘ کے نام سے ایک فورم کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے جس کا سربراہ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم کو منتخب کیا گیا ہے اور ان کی امارت میں صوبائی امراء اور دیگر ذمہ داروں کا تعین کر کے اسی رخ پر تحریک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن سے قبل موجود تھا۔ ’’تحریک طالبان و طالبات اسلام‘‘ کا مقصد اسی تحریک کو آگے بڑھانا بیان کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے مختلف سطحوں پر رابطوں کا سلسلہ بھی تازہ معلومات کے مطابق شروع ہو گیا ہے۔ مجھ سے اس سلسلے میں رائے پوچھی گئی تو میں نے عرض کیا کہ پاکستان میں نفاذ اسلام اور انسداد منکرات کے لیے جدوجہد کرنا، مطالبات کرنا، رائے عامہ کو منظم کرنا، عوامی دباؤ کو بڑھانا اور پراَمن جدوجہد کا ہر ممکن راستہ اختیار کرنا نہ صرف ہمارا حق ہے بلکہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔ لیکن ان مقاصد کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینا، حکومت کے ساتھ تصادم کی صورت اختیار کرنا، ہتھیار اٹھانا اور کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرنا جسے فقہائے کرام نے ’’خروج‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، ہمارے نزدیک درست نہیں ہے اور ہم اس کی تائید کے لیے تیار نہیں ہیں۔ البتہ ہمارے جو بزرگ اسے درست سمجھتے ہیں، اس کے شرعی اور جائز ہونے پر مطمئن ہیں اور اسے اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ حق ہم تسلیم کرتے ہیں مگر اس درخواست کے ساتھ کہ اس تحریک کا مورچہ ’’دینی مدارس‘‘ سے الگ رکھا جائے اور کسی دینی مدرسہ کو اس تحریک کا مورچہ نہ بنایا جائے۔ ہماری ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں مدرسہ کبھی کسی مسلح تحریک کا مورچہ نہیں رہا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے بھی اس دور میں جب وہ برصغیر کی آزادی کے لیے برطانوی استعمار کے خلاف مسلح تحریک کا تانابانا بن رہے تھے جسے تاریخ میں تحریک ریشمی رومال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس تحریک کا مورچہ دارالعلوم دیوبند کو نہیں بنایا تھا بلکہ اس سے علیحدگی اختیار کر کے اپنا نظام الگ تشکیل دیا تھا تاکہ دارالعلوم دیوبند اور اس سے متعلقہ دینی اداروں کا تعلیمی کردار کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے اور ان کے لیے خواہ مخواہ مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی نہ ہوں۔

ہمارے نزدیک دینی مدارس کا تعلیمی کردار، ان کا آزادانہ وجود اور دینی تعلیمات کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد اور عام مسلمان کا دین کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کے لیے ان کی مساعی دیگر تمام امور سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ کسی بھی تحریک کے لیے اس کو خطرے میں ڈالنا اور کسی بھی حوالے سے دینی مدارس کے لیے مشکلات پیدا کرنا نہ شریعت و حکمت کے لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی ہمارے اکابر و اسلاف بالخصوص شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور ان کے رفقائے کار کی روایات اور مزاج سے مطابقت رکھتا ہے۔ اگر کچھ دوست اکابر کے طے کردہ ان تحفظات کا دائرہ قائم رکھتے ہوئے ’’تحریک طالبان‘‘ کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اس طریق کار پر شرح صدر نہ ہونے کے باعث ہم ان کا ساتھ تو نہیں دے سکیں گے، مگر ان کے خلوص اور مقصد کی سچائی کی وجہ سے ہماری دعائیں ضرور ان کے ساتھ ہوں گی۔