ہزارہ کا سفر اور صفہ اکیڈمی مانسہرہ کا منصوبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم نومبر ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
ہزارہ کا ایک سفر

ہزارہ کافی عرصہ کے بعد جانے کا اتفاق ہوا۔ چھوٹے بھائی مولانا عبد الحق خان بشیر کے فرزند حافظ عبد الرحمن خان انس کا ۲۹ اکتوبر کو اچھڑیاں میں نکاح تھا جو ہماری بڑی ہمشیرہ محترمہ کی نواسی اور عزیزم خورشید خان کی بیٹی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ۲۸ اکتوبر کو میں رات ٹاؤن شپ مانسہرہ کی صفہ اکیڈمی میں رہا، مجلس صوت الاسلام کلفٹن کراچی کے مولانا جمیل الرحمن فاروقی اور ان کے رفقاء نے یہ اکیڈمی علاقہ کے یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے ہاسٹل کے طور پر قائم کر رکھی ہے جہاں پچاس سے زائد بچے رہائش پذیر ہیں۔ یہ بچے مختلف معیاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان کی رہائش و طعام کے ساتھ تعلیمی اخراجات اور سرپرستی کی ذمہ داری صفہ اکیڈمی سر انجام دیتی ہے۔ کرائے کی بلڈنگ میں اچھی رہائش اور خوراک کے ساتھ دینی ماحول اور تربیت کا بھی اہتمام ہے جس کے لیے صبح و شام ضروری دینی تعلیم کی کلاسیں ہوتی ہیں جبکہ سکول کی تعلیم یہ بچے متعدد سکولوں میں حاصل کر رہے ہیں۔

صفہ اکیڈمی کا یہ طریق کار مجھے بہت پسند آیا بلکہ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی نور اللہ مرقدہ آف اٹک کی ایک پرانی تجویز یاد آگئی جو ہفت روزہ خدام الدین لاہور میں کم و بیش نصف صدی قبل شائع ہوئی تھی۔ ان کا ارشاد یہ تھا کہ بڑے دینی مدارس کو اپنی اقامت گاہوں میں ایسے بچوں کے لیے بھی کمرے تعمیر کرنے چاہئیں جن کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی توفیق نہ رکھتے ہوں۔ وہ تعلیم تو سکولوں اور کالجوں میں حاصل کریں مگر دینی ماحول اور اخراجات کی کفالت ساتھ ساتھ ضروری دینی تعلیم کا ان کے لیے انتظام کر دیا جائے۔ یوں وہ قومی زندگی کے جس شعبے میں جائیں گے ایک فرض شناس مسلمان کے طور پر جائیں گے اور اپنے مدرسہ و مسلک کے نمائندہ بھی ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت میں چند سالوں سے جاری جمعیۃ علماء ہند اور دارالعلوم دیوبند کی اس مہم کی یاد بھی ذہن میں تازہ ہوگئی جس میں ہمارے یہ بزرگ اس کوشش میں ہیں کہ مسلمان بچوں کی عصری تعلیم کے لیے بھی دینی حلقوں کی طرف سے ادارے قائم کیے جائیں جہاں مسلم بچے اور بچیاں عصری علوم و مضامین کی اعلیٰ اور معیاری تعلیم حاصل کریں جبکہ انہیں تعلیم و تربیت کا ماحول دینی مہیا کیا جائے۔ اس پس منظر میں صفہ اکیڈمی مانسہرہ کی یہ کاوش خوشی کا باعث بنی اور فجر کی نماز کے بعد میں نے ان بچوں کے ساتھ کچھ گفتگو بھی کی۔

اچھڑیاں کی جامع مسجد فاروق اعظمؓ کے خطیب مولانا عبد الحق عامر ہمارے بھانجے ہیں جو صبح صفہ اکیڈمی میں مجھے لینے آگئے اور میں ان کے ہمراہ بفہ گیا جہاں ہمارے ایک خالو محترم جناب پرویز خان کا گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، ان کے گھر تعزیت و دعا کے لیے حاضری ہوئی۔ بفہ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی قدس اللہ سرہ العزیز کا شہر ہے اس لیے اس دوران زیادہ تر تذکرہ انہی کا ہوتا رہا۔ ان کے نواسے مولانا پروفیسر محمد سعید شہر کی بڑی مسجد کے خطیب ہیں اور علاقہ کے لوگوں کی دینی و سماجی راہ نمائی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوں نے سنا تو وہ بھی تشریف لے آئے اور حضرت مولانا ہزارویؒ کے تذکرہ کا لطف دوبالا ہوگیا۔ بفہ ہی کے ایک اور بڑے بزرگ حضرت مولانا غلام رسول بفویؒ کا تذکرہ بھی ہوتا رہا جو دارالعلوم دیوبند کے قدیم فضلاء میں سے تھے اور دارالعلوم دیوبند میں ہی خاصا عرصہ مدرس رہے۔ اکابرین دیوبند میں سے تھے، ان کے شاگردوں میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ جیسے بزرگوں کا نام لیا جاتا ہے۔ بفہ میں ایک بہت پرانے مدرسہ کا ذکر ہوا جو دارالعلوم بفہ کے نام سے قائم تھا مگر اب دوبارہ آبادی اور رونق کے لیے کسی صاحب ذوق اور باہمت عالم دین کا منتظر ہے۔ میں نے دوستوں سے عرض کیا کہ اس کے قیام کا جو دور بتایا جاتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غالباً حضرت مولانا غلام رسول بفویؒ نے بنایا ہوگا جو دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد وہاں مدرس بننے تک کے درمیانی عرصہ میں چند سال اپنے وطن میں رہے ہیں۔ یہ میرا اندازہ ہے، ممکن ہے کوئی اور بزرگ اس کے بانی ہوں مگر اس کی دوبارہ بحالی اور اس میں تعلیمی ماحول کی واپسی بہرحال علاقہ کے اہل علم و دین کے ذمہ قرض ہے۔

بفہ سے کورے جانا ہوا جہاں ہمارے ماموں محترم قاری سخی سلطان صاحب اور خالو محترم ماسٹر محمد داؤد خان صاحب سے ملاقات ہوئی اور ایک پرانے بزرگ عبد الرزاق خان صاحب کی وفات پر ان کے اہل خاندان سے تعزیت کی۔ اچھڑیاں میں حاجی آباد کے مقام پر ظہر سے قبل نکاح کی تقریب تھی جبکہ ظہر کے بعد وہاں قریب ہی مدرسہ ابو ہریرہؓ میں مولانا عبد القادر نے ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔ یہ مدرسہ دو سال قبل شروع ہوا تھا اور تعمیر و تعلیم کے بہت سے مراحل سے گزر کر اب ایک اہم دینی درسگاہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ تھوڑے سے وقت میں بہت کام ہوگیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ حضرت ابوہریرہؓ کی نسبت کی برکت ہے اس لیے کہ انہیں بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین چار سال کا وقت ملا تھا مگر وہ حدیث نبویؐ کے سب سے بڑے راوی شمار ہوتے ہیں۔ تھوڑے سے وقت میں بہت زیادہ کام حضرت ابوہریرہؓ کی خصوصیات میں سے شمار ہوتا ہے۔

واپسی پر ہم مختلف گاڑیوں میں گجرات کی طرف روانہ ہوئے جہاں اگلے روز حافظ عبد الرحمن خان انس کا ولیمہ تھا مگر جب ٹیکسلا کراس کر کے ترنول پھاٹک پر پہنچے تو ٹریفک بری طرح بلاک تھی۔ بڑی ہمشیرہ محترمہ، راقم الحروف اور مولانا عبد القدوس قارن ایک گاڑی میں تھے جو سب سے آگے تھی اس لیے سب سے زیادہ پھنسی ہوئی تھی کہ آگے جانے کا راستہ تو بند تھا ہی پیچھے ہٹنے بلکہ دائیں بائیں ہونے کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے آنے والے اس کے ہزارہ و پشاور کے کارکنوں کو روکنے کے لیے ریلوے پھاٹک سے آگے باقاعدہ کنٹینر کھڑے کر کے راستہ بند کیا گیا ہے۔ دونوں طرف رکی ہوئی گاڑیوں ہزاروں کی تعداد میں تھیں اور کئی میل دور تک ان کی درجنوں لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ ہماری دوسری گاڑیاں بلکہ دولہا اور دلہن بھی اسی ہجوم میں محصور تھے مگر ہم موبائل فون پر ایک دوسرے کا بار بار حال پوچھنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ رات نو بجے سے بارہ بجے تک مسلسل تین گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد رکاوٹیں ختم کرنے کی نوید سنی اور ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ ہم گجرات پہنچنے میں کامیاب ہوئے، فالحمد للہ علیٰ ذالک۔