اسلامی نظریات کونسل کی سفارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۳ء

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۴ ستمبر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی آئینی تقاضہ ہے اس لیے پارلیمنٹ کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتا یا کہ گزشتہ بارہ سال کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی منظور کردہ ہزاروں سفارشات ایک بار پھر پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی ہیں تاکہ ان کے بارے میں قانون سازی کے دستوری تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔

اسلامی نظریاتی کونسل جب سے قائم ہوئی ہے، ملک کے قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے اور آج کی ضروریات کے مطابق اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے سفارشات پیش کرنے کا عمل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر دور میں ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور ممتاز ماہرین قانون اس میں شریک رہے ہیں۔ اس کے بعض فیصلوں اور سفارشات سے علمی بنیادوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مجموعی طور پر اس کی کارکردگی اور محنت قابل داد ہے اور ہمارے خیال میں یہ آئینی ادارہ دستور پاکستان کے تحت اس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے بخوبی عہدہ برا ہو رہا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین اقبال احمد خان مرحوم نے، جو وفاقی وزیر قانون بھی رہے ہیں اور ہمارے ذاتی دوستوں میں سے تھے، ایک موقع پر بتایا کہ ملک میں رائج تمام قوانین کا تفصیلی جائزہ لے کر انہیں قرآن و سنت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے جامع سفارشات کا ایک مجموعہ وہ با ضابطہ طور پر وزارت قانون کے سپرد کر چکے ہیں جو ہزاروں سفارشات پر مشتمل ہے، لیکن وزارت قانون میں اس کے حوالہ سے دلچسپی کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دے رہا۔ اب وہی شکایت کونسل کے موجودہ چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے دہرائی ہے اور بتایا ہے کہ ہزاروں سفارشات جو پہلے بھی پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی تھی اب دوبارہ بھجوا دی گئی ہیں تا کہ پارلیمنٹ ان کے بارے میں قانون سازی کر سکے۔

مگر ہمارا خیال ہے کہ یہ سفارشات بھی حسبِ سابق وزارت قانون کے ڈیپ فریزر کی نذر ہو جائیں گی کیونکہ قیام پاکستان کے بعد سے ہماری اسٹیبلشمنٹ کا یہ طرز عمل چلا آرہا ہے کہ اسلامی قوانین کے حوالہ سے جہاں عوامی دباؤ کا سامنا ہو وہاں رسمی طور پر کچھ پیشرفت کر لی جائے جبکہ اگر دینی حلقوں اور عوام کے دباؤ سے کوئی قانون نافذ کرنا پڑ جائے تو اس پر عملدرآمد اور اس کے مؤثر نفاذ کی کوئی صورت پیدا نہ ہونے دی جائے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال مسلسل موجود ہے اور اس کے بارے میں دینی حلقوں کو متفقہ طور پر کوئی راستہ اختیار کرنا ہو گا، ہمارا خیال ہے کہ اگر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور تحفظ ناموس رسالت ؐ کے قانون کی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کیا جا سکے تو اس سلسلہ میں پیشرفت کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔