سودی نظام اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ جنوری ۲۰۰۰ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ نے ہر قسم کے سود اور سودی کاروبار کو قرآن و سنت سے متصادم اور غیر اسلامی قرار دے کر فیصلہ دے دیا ہے کہ سود اور سودی کاروبار کے بارے میں تمام مروجہ قوانین 31 مارچ 2000ء کو خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ جسٹس خلیل الرحمان خان، جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس وجیہہ الدین اور جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی پر مشتمل ایپلیٹ بینچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف متعلقہ فریقوں کی اپیلوں کی طویل سماعت کے بعد یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے اور حکومت پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک ماہ کے اندر کمیشن قائم کیا جائے جو دو ماہ کے اندر موجودہ مالیاتی نظام کو شریعت کے مطابق ڈھالے۔ جبکہ فیصلہ میں وزارت قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی معاونت سے ایک ماہ کے اندر ٹاسک فورس بنائی جائے جو اس بات کا جائزہ لے کہ اسلامی مالیاتی نظام کے لیے کون سے قوانین بنائے جا سکتے ہیں۔

بیسویں صدی عیسوی کے اختتام پر رمضان کے بابرکت مہینہ میں سپریم کورٹ کا یہ تاریخ ساز فیصلہ جنوبی ایشیا میں اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے لیے مسلمانوں کی جداگانہ ریاست کے قیام کے مقصد کی طرف ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت ہے جس کا نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ پورے عالم اسلام میں خیرمقدم کیا جائے گا۔ اور یہ فیصلہ صادر کر کے عدالت عظمیٰ کے معزز ججوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی اس خواہش کی تکمیل کی ہے جس کا اظہار انہوں نے 1948ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر کیا تھا اور ملک کے ماہرین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اقتصاد و معیشت میں مغرب کے ناکام استحصالی نظام کی پیروی کرنے کی بجائے اسلام کے فطری اصولوں پر پاکستان کے اقتصادی نظام کی بنیاد رکھیں۔

سود کی بنیاد ہی استحصال پر ہے جس کے ذریعہ ایک مجبور شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اس کی رقم کسی معاوضے اور محنت کے بغیر محض سرمائے کی بنیاد پر ہتھیا لی جاتی ہے۔ اور سودی نظام کا خاصہ یہ ہے کہ وہ سوسائٹی کے متوسط اور عام طبقوں کی رقوم کو جمع کر کے اسے ایک طبقہ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے جس سے معاشرہ پر اس طبقہ کی بالادستی اور گرفت قائم ہو جاتی ہے اور وہ سوسائٹی کو اپنے مفادات اور خواہشات کے مطابق چلانے کی پوزیشن میں آجاتا ہے۔ اسی لیے تمام آسمانی شریعتوں میں سود کی ممانعت موجود ہے اور وحی الٰہی نے کسی دور میں بھی انسانی معاشرہ میں سودی کاروبار کو گوارا نہیں کیا۔ قرآن کریم نے سودی کاروبار پر اصرار کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے خلاف اعلان جنگ سے تعبیر کیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود دینے والے، لینے والے، لکھنے والے، اور اس کے بارے میں گواہی دینے والے سب افراد کو لعنت کا مستحق قرار دے کر سود کے پورے نظام کو ملعون ٹھہرایا ہے۔ اس لیے اسلام میں کسی بھی درجے میں اس کی گنجائش نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے ملک بھر کے دینی حلقوں کا سب سے زیادہ زور اس بات پر رہا ہے کہ ملک سے سودی نظام جلد از جلد ختم کیا جائے تاکہ مروجہ ملعون اور منحوس معاشی نظام سے ملک کو نجات حاصل ہو۔

سود کے برا نظام ہونے کا تصور اس دور میں بھی موجود تھا جب عرب معاشرہ میں سودی نظام لوگوں کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھا اور اس سے چھٹکارے کو اس قدر مشکل سمجھا جاتا تھا کہ طائف کے شہریوں نے جناب رسول اللہؐ کی خدمت میں اسلام قبول کرنے کے لیے وفد بھیجا تو قبول اسلام کی شرائط میں اس بات کو شامل کیا کہ ہمارے کاروبار کی بنیاد ہی سود پر ہے اس لیے ہم سود کو کسی حال میں نہیں چھوڑ سکتے مگر آنحضرتؐ نے ان کی یہ شرط قبول کرنے سے انکار فرما دیا تھا۔ اس دور میں بھی سود کو بطور نظام اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا جیسا کہ معروف محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اپنی کتاب ’’محمد رسول اللہ‘‘ میں روایت بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہؐ کی بعثت سے قبل جب کعبۃ اللہ کو آگ لگ جانے کے باعث اس کی دوبارہ تعمیر کی گئی تو قریش مکہ کے سرداروں کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ بیت اللہ کی تعمیر کے لیے صرف حلال کی کمائی سے چندہ دیا جائے اور حرام کی کمائی کا کوئی پیسہ اللہ تعالیٰ کے اس پاک گھر کی تعمیر پر نہ لگایا جائے۔ حتیٰ کہ پورے مکہ مکرمہ سے حلال کمائی کا اتنا چندہ جمع نہ ہو سکا کہ پورے بیت اللہ پر چھت ڈالا جا سکے چنانچہ مجبورًا حطیم کا حصہ چھت سے باہر چھوڑ کر باقی حصے پر چھت ڈالا گیا۔ اس موقع پر جس کمائی کو ناپاک اور حرام کی کمائی قرار دے کر اسے بیت اللہ کی تعمیر میں نہ لگانے کا اعلان کیا گیا اس میں سود کی رقم اور طوائف کی کمائی بھی شامل ہے۔

جناب نبی اکرمؐ نے سود کی حرمت کا اعلان حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے تاریخی خطبہ میں کیا تھا اور لوگوں کو آئندہ سودی کاروبار اور سود کی رقوم کی وصولی سے منع کرتے ہوئے سب سے پہلے جن سودی رقوم کو ختم کرنے کا اعلان فرمایا وہ خود حضورؐ کے چچا محترم حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کی رقوم تھیں جو سود کا کاروبار کرتے تھے۔ مگر آپؐ نے اپنے پہلے اعلان میں ہی واضح کر دیا کہ حضرت عباسؓ کی رقوم جن لوگوں کے ذمہ ہیں وہ صرف اصل رقم واپس کریں، ان رقوم پر سود ختم کیا جاتا ہے۔

سود کی یہ حیثیت تو شرعی ہے کہ قرآن و سنت کی ہدایات کی روشنی میں کسی مسلمان ملک اور سوسائٹی میں سودی کاروبار کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر آج کے عالمی حالات کے تناظر میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو بھی حالات کا رخ اس طرف دکھائی دیتا ہے کہ سودی نظام کے خاتمہ کے بغیر عالم اسلام کی گردن کو یہودی سرمایہ داروں کے شکنجے سے نجات دلانے کی اور کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ یہودی سرمایہ کاروں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعہ عالم اسلام کے گرد جو اقتصادی شکنجہ قائم کر رکھا ہے اس کے نتیجہ میں معروف بھارتی دانشور جناب اسرار عالم کے بقول

’’جنگ خلیج کے بعد سعودی عرب کی مالی صورتحال نہایت متزلزل ہوگئی ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب نے تقریباً تین سو بلین ڈالر قرض لیے ہیں ہر چند کہ حکومت سعودیہ کا کہنا ہے کہ یہ سارے قرضے بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہیں۔ تاہم بیس تا تیس بلین سالانہ آمدنی کے ملک کے لیے یہ قرض اسے (اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو) پچاس سال سے زیادہ عرصے تک مقروض رکھے گا۔

ترکی میں قائم او آئی سی کی مالیاتی کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مسلم ملکوں پر بیرونی قرض کا بوجھ بیش از بیش ہوتا جا رہا ہے۔ پوری دنیا پر جو بیرونی قرض واجب ہے اس کا تیس فیصد تنہا مسلم ممالک پر ہے۔

گزشتہ دنوں قرض کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی پاداش میں آئی ایم ایف نے سوڈان کی رکنیت معطل کردی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق بہت دنوں سے قرض ادا نہ کر سکنے والے ملکوں میں چار مسلم ممالک ہیں (۱) سیر الیون (۲) لائبیریا (۳) صومالیہ (۴) سوڈان۔

جنگ خلیج کے بعد مسلم ملکوں کی قوت مدافعت بالکل ٹوٹ چکی ہے اور یہودی سرکاری و غیر سرکاری مالیاتی اداروں کے دباؤ کے سبب انہیں مجبور ہو کر پرائیویٹائزیشن کو قبول کرنا پڑ رہا ہے جو دراصل ملک کے تمام معاشی کاروبار کو یہودی بنکاروں، ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور منی مارکیٹ و ڈسکاؤنٹ مارکیٹ کی براہ راست تحویل میں دینے کے مترادف ہے۔ چنانچہ عنقریب تمام مسلم ملکوں میں تمام معاشی کاروبار یہودیوں کے ہاتھوں میں چلے جانے والے ہیں اور وہ اجرتوں کی اجارہ داری قائم کرنے والے ہیں۔ یعنی خرید و فروخت کے دونوں بازاروں میں ان کی Monopoly اور Monopsony قائم ہو جائے گی جس کا انجام یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام مسلم ملکوں کی ساری عوام غلام اور بندھوا مزدوروں کی طرح ہو جائے۔‘‘ (بحوالہ عالم اسلام کی اقتصادی صورتحال۔ مطبوعہ دارالعلم نئی دہلی)

ہماری صورتحال عالمی سودی نظام کی پیداکردہ ہے اور یہودی ساہوکاروں نے جس مقصد کے لیے یہ نظام تشکیل دیا تھا یہ اس کا نقطۂ عروج ہے جو بتدریج اپنے درجۂ تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا عالم اسلام اور مسلم حکومتوں کا کام ہے کہ مروجہ عالمی معاشی نظام کے نیٹ ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنے گرد معاشی غلامی کے اس خوفناک شکنجے کا حصار خود اپنے ہاتھوں تنگ کرتے چلے جانا ہے یا اس منحوس و ملعون اور استحصالی نظام کو کلیتاً مسترد کر کے اس طلسم ہوش ربا سے نجات حاصل کرنی ہے۔

ہمارے خیال میں سود اور اس کے نظام سے نجات ہمارا صرف دینی مسئلہ نہیں بلکہ معیشت و اقتصاد کے حوالہ سے ملت اسلامیہ کی آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہودی ساہوکاروں کے آہنی شکنجے سے چھٹکارا حاصل کرنے کا واحد ذریعہ بھی ہے جس کے لیے پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے یہ تاریخی فیصلے پورے عالم اسلام کے لیے راہنمائی کا روشن مینار ثابت ہو سکتے ہیں۔