افغانستان اور پاکستان کی جنگ شروع ہو گئی ہے، اللہ پاک معاف فرمائے۔ تین باتیں گزارش کروں گا:
(۱) ایک بات تو یہ کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت، سرحدوں کا پہرا، سرحدوں میں مداخلت روکنا پاک افواج کی ذمہ داری ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ یہ مداخلت انڈیا سے ہو تب، افغانستان سے ہو تب، یا بسا اوقات ایران سے بھی شکایت ہو جاتی ہے۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت، ملک کے اندر دخل اندازی کو روکنا کہ باہر سے کوئی ہمارے ملک میں مداخلت نہ کرے، یہ پاکستان کی افواج کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ہم افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
(۲) دوسری بات، قرآن پاک کا حکم امتِ مسلمہ کو کیا ہے؟ ’’ان طآئفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما‘‘ (الحجرات ۹)۔ اگر دو مسلمان طبقے آپس میں لڑ پڑے ہیں تو باقی تماشا نہ دیکھو، صلح کراؤ۔ یہ قرآن پاک کا حکم ہے یا نہیں ہے؟ کس کے لیے ہے؟ ’’یا ایھا الذین اٰمنوا‘‘ (الحجرات ۶)۔ باقی مسلمان دنیا کے تماشا نہ دیکھیں، درمیان میں آئیں صلح کرائیں۔
اس لڑائی کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ عالمِ اسلام کی، او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کی، مسلمان حکمرانوں کی۔ وہ تماشا کیوں دیکھ رہے ہیں؟ جو شکایات ہیں، آپس میں بٹھائیں، طے کرائیں۔ لڑائی کسی شکایت پر ہی ہوتی ہے نا۔ کوئی شکایت اُن کو ہم سے ہو گی، کوئی ہم کو اُن سے ہو گی۔ میز پہ بیٹھ کے بات کریں۔
اور بات کروائے کون؟ یہ بات میں بطور خاص عرض کرنے لگا ہوں۔ ہمارے درمیان صلح کس کو کروانی چاہیے؟ ٹرمپ کو؟ وہ تو اور لڑائی کروائے گا۔ اس کا تو کام ہی یہ ہے کہ پہلے لڑاؤ، پھر صلح کراؤ، پھر اعزاز لو کہ مجھے نوبل انعام دو جی میں نے یہ لڑائی بھی رکوائی ہے۔ میرا ٹرمپ صاحب سے سوال ہے کہ یہ لڑائی کروائی کس نے تھی؟ یہ ہمارے پرانے چودھریوں کا مزاج تھا، پہلے لڑائی کراؤ، پھر صلح کراؤ اور کریڈٹ لو۔
یہ عالمِ اسلام کی ذمہ داری ہے۔ دو مسلمان ملکوں کی جنگ ہے۔ عالم اسلام کو درمیان میں آنا چاہیے یا نہیں آنا چاہیے؟ او آئی سی کی ذمہ داری ہے، مسلم حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ درمیان میں آئیں، لڑائی بند کروائیں اور معاملات طے کروائیں۔ کیوں جی میری گزارش ٹھیک ہے؟
(۳) تیسری بات اپنے حکمرانوں سے۔ آپ ہمارے حکمران ہیں، پاکستان کی جنگ لڑیں، ٹرمپ کی جنگ نہ لڑیں۔ ٹرمپ نے تو اب نچانا بھی شروع کر دیا ہے تم لوگوں کو۔ خدا کے لیے، ہاتھ جوڑ کر اپنے حکمرانوں سے عرض کرتا ہوں، اپنی جنگ لڑیں، ٹرمپ کی جنگ نہ لڑیں۔ ٹرمپ عالمی مولا جٹ ہے۔ کبھی اس کو لڑا، کبھی اس کو لڑا، کبھی اس کو لڑا۔ خدا کے لیے اس کے جال سے نکلیں۔
یہ تین گزارشات ہیں، اللہ کرے کسی کی سمجھ میں آجائیں۔ ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت بھی کرنی ہے، دخل اندازی کو بھی روکنا ہے، مسلمان بھائیوں کے ساتھ مسلمان حکمرانوں کی مداخلت کے ساتھ بیٹھ کے بات بھی کرنی ہے، اور ٹرمپ کے جال سے بھی بچنا ہے۔ اگر ہم ٹرمپ کی لڑائی لڑیں گے تو وہ تو پھر آپ کو پتہ ہے کیا کرتا ہے اور کیا کرے گا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائیں۔

