دینی مدارس کی آزمائش کا نیا دور ، ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ

5 اکتوبر کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں استاذ العلماء حضرت مولانا سلیم اللہ خان نور اللہ مرقدہ کی جگہ وفاق کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے والی ہے اور اس موقع پر ملک بھر سے دینی مدارس کے سرکردہ حضرات جمع ہو رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی علماء کرام اور دینی مدارس کی وحدت و مرکزیت، تعلیمی ترقی اور علمی وقار کی علامت ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی شاندار روایات اور تسلسل کے مطابق ملک و قوم اور دین و مسلک کی خدمات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔

۵ اکتوبر ۲۰۱۷ء

جنرل باجوہ اور بلوچستان

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے پونے دو سو کے لگ بھگ طلبہ کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں تلقین کی ہے کہ وہ مختلف بیرونی ایجنسیوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کے بارے میں کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہوں اور وطن عزیز کی سلامتی و استحکام اور فلاح و ترقی کے لیے تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور وہ بلوچستان کے شہریوں اور نوجوانوں سے محبت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۳۰ ستمبر ۲۰۱۷ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

ماہ ستمبر کے دوران ملک بھر میں جہاں وطن عزیز کے جغرافیائی دفاع و استحکام کے حوالہ سے مختلف تقریبات اور پروگراموں کا اہتمام ہوا وہاں تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے بھی ملک کے نظریاتی دفاع و استحکام کے فروغ کے موضوع پر متنوع تقریبات منعقد کی گئیں۔ 6 ستمبر کو 1965ء کی جنگ کی یاد میں ’’یوم دفاع‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ 7 ستمبر کو ’’یوم فضائیہ‘‘ کے علاوہ ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ کا عنوان بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس روز 1974ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی دستوری فیصلہ کیا تھا۔ مجھے اس حوالہ سے دو تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔

۲۶ ستمبر ۲۰۱۷ء

اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی آہستہ آہستہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ان کی داد رسی و حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ، ہیومن رائٹس واچ کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں اور شخصیات کی زبانوں پر اب میانمار میں کٹنے جلنے والے مسلمانوں کے حق میں کلمۂ خیر بلا جھجھک آنے لگا ہے۔ جبکہ ہمیں سب سے زیادہ اطمینان اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی پیش رفت سے حاصل ہوا ہے اس لیے کہ اس مسئلہ پر فطری طور ترتیب اور راستہ یہی بنتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۰ ستمبر ۲۰۱۷ء

ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات‘‘ اللہ تعالیٰ سود کے ذریعہ رقم کو بے برکت اور ڈی ویلیو کر دیتے ہیں جبکہ صدقہ کی صورت میں رقم کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے برکتی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں: مثلاً مال کسی نقصان میں ضائع ہو جائے، بے مقصد کاموں پر خرچ ہو جائے، یا وہ کام جو کم مال خرچ کرنے سے ہو سکتے ہوں ان پر زیادہ مال خرچ ہو جائے وغیرہ۔ یوں سمجھ لیں کہ بے برکتی ہماری مصنوعی کرنسی کی طرح ہے کہ گنتی بڑھتی جاتی ہے مگر افادیت اور قدر مسلسل کم ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ ستمبر ۲۰۱۷ء

اراکان اور کشمیر میں مماثلت

میانمار (برما) کی حکمران پارٹی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور میانمار کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے کہ روہنگیا (اراکان) اور کشمیر کے تنازعات ملتے جلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح بھارت کو کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا ہے اسی طرح ہمیں بھی روہنگیا میں مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کا معاملہ درپیش ہے۔ آنگ سان سوچی نے تو یہ بات بھارتی حکمرانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کی ہے جو ایک مفروضہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔

۱۲ ستمبر ۲۰۱۷ء

قربانی کی کھالوں کا مسئلہ

عید الاضحیٰ گزر گئی ہے اور دیگر قومی شعبوں کی طرح اکثر و بیشتر دینی مدارس بھی اپنی چھٹیاں گزار کر تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ عید الاضحیٰ پر دینی مدارس کی ایک مصروفیت یہ ہوتی ہے کہ ملک کے دیگر رفاہی اداروں کے ساتھ وہ بھی قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں جو ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں، اس لیے کہ سوسائٹی کے دیگر مستحقین کی طرح دینی مدارس کے مسافر اور نادار طلبہ بھی زکوٰۃ و صدقات اور قربانی کی کھالوں کا اہم مصرف ہیں۔ اور معاشرہ میں دینی تعلیم کے فروغ کے خواہاں مسلمان اس مد میں ان سے بھرپور تعاون کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

۹ ستمبر ۲۰۱۷ء

گولڑہ شریف اور بگھار شریف

عید الاضحیٰ سے قبل چھٹیوں کے دو دن اسلام آباد میں گزرے۔ 28 اگست کو مولانا سمیع الحق کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں حاضری کا وعدہ تھا، جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق پڑھا کر ظہر تک جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ھمک اسلام آباد پہنچا اور نمازِ ظہر کے بعد مسجد میں قربانی کی اہمیت کے حوالہ سے ایک نشست میں گفتگو کی۔ پھر مولانا حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوا جس کی مختصر رپورٹ گزشتہ کالم میں ذکر کر چکا ہوں ۔ ۔ ۔

۸ ستمبر ۲۰۱۷ء

’’اسلامائزیشن‘‘ کو درپیش خطرات اور آل پارٹیز کانفرنسیں

بہت سے اہم قومی و بین الاقوامی معاملات کچھ نہ کچھ کہنے کا تقاضہ کر رہے ہیں مگر ’’اسلامائزیشن‘‘ ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہی ہے اور اسی حوالہ سے گزشتہ ہفتہ کے دوران مختلف مکاتب فکر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں کے قومی سطح پر دو تین مشترکہ اجتماعات ہوئے ہیں جن کے فیصلوں کو ریکارڈ میں لانا ضروری ہے، چنانچہ ان اجتماعات کی اجمالی رپورٹنگ اس کالم میں شامل کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔

یکم ستمبر ۲۰۱۷ء

قومی مصیبتوں کے ظاہری و باطنی اسباب

سپریم کورٹ آف پاکستان کے محترم جناب جسٹس دوست محمد خان نے لڑائی جھگڑے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم ہر چیز میں اسلامائزیشن کو شامل کرنے کے شوقین ہیں لیکن اصل معاملات زندگی میں اسلامائزیشن نہیں لائی جاتی۔ تعزیرات پاکستان میں ترامیم کر کے بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، ملک میں قانونی کام بھی غیر قانونی طریقے سے کیے جاتے ہیں، حلف پر جھوٹ بولے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈینگی، دھماکوں اور دہشت گردی کی صورت میں عذاب کا سامنا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔

۲۷ اگست ۲۰۱۷ء

Pages

نوٹ:   درجہ بندی کی غرض سے بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی/پروف ریڈنگ مولانا راشدی نے کی ہے۔