دینی حلقوں کا بڑھتا ہوا اضطراب

کرونا بحران کی سنگینی اور وسعت میں مسلسل اضافہ کے باوجود احتیاطی تدابیر اور علاج و معالجہ کے انتظامات کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد و طبقات کو ضروری کام کاج کی مختلف شعبوں میں سہولت دی جا رہی ہے مگر مسجد و مدرسہ اور نماز باجماعت و جمعۃ المبارک پر پابندیوں کا دائرہ دن بدن تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ رمضان المبارک کے بارے میں ابھی سے سرکاری حلقوں کی طرف سے ہدایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں کہ سابقہ پابندیوں کے ساتھ ساتھ نماز تراویح کے لیے بھی مسجدوں میں گنجائش نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی حلقوں کا بڑھتا ہوا اضطراب

۱۰ اپریل ۲۰۲۰ء

کچھ گھریلو ماحول کے بارے میں

ان دنوں بعض دوست انتہائی تعجب سے پوچھتے ہیں کہ تم آرام سے گھر میں کیسے بیٹھے ہو اور وقت کیسے گزرتا ہے؟ ان کا تعجب بجا ہے اس لیے کہ میرے ساتھ پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ مجھے ’’دابۃ الارض‘‘ کہا کرتے تھے اور خاندان کے کسی معاملہ میں میری حاضری ضروری ہوتی تو وہ گھر والوں سے فرماتے کہ اس دابۃ الارض کو تلاش کرو کہاں ہے۔ حتٰی کہ جب جامعہ نصرۃ العلوم میں میرے ذمہ کچھ اسباق لگائے گئے تو اس کے لیے عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے اساتذہ کے اجلاس میں کہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کچھ گھریلو ماحول کے بارے میں

۵ اپریل ۲۰۲۰ء

قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی

سورۃ یوسف کے آخر میں اللہ تعالٰی نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور مختلف اقوام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم میں ماضی کی قوموں کے واقعات کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ارباب فہم و دانش کے لیے سبق اور عبرت کا ذریعہ بنیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کردہ باتوں کی تصدیق اور وضاحت کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ماضی کی دو قوموں کا تذکرہ موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ ہمیں ان سے سبق حاصل کرنے اور عبرت پکڑنے کا موقع ملے، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی

۳ اپریل ۲۰۲۰ء

کرونا کنٹرول میں چین کی پالیسی اور ہمارا طرز عمل

کرونا وائرس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ چائنہ نے کافی حد تک اسے کنٹرول کر لیا ہے مگر ایران اور اٹلی کے بعد امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ رپورٹیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں کہ کرونا وائرس یا وبائی فلو کی یہ لہر فطری ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ ہم اس سلسلہ میں اپنے ایک کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ اس کا پورا امکان موجود ہے کہ یہ حیاتیاتی جنگ یا وائرس وار کا کوئی مرحلہ ہو، مگر ابھی اس بحث کو چھیڑنے کی بجائے ہم اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرین کی مدد کے پہلو کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرونا کنٹرول میں چین کی پالیسی اور ہمارا طرز عمل

۳۱ مارچ ۲۰۲۰ء

کرونا وائرس کے سلسلہ میں لاک ڈاؤن اور مساجد کی بندش کا مسئلہ

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کی طرف سے ایک اپیل سامنے آئی ہے جو انہوں نے کرونا وائرس کے سلسلہ میں بھارتی مسلمانوں سے کی ہے، ہمارے خیال میں وہ بہت متوازن اور قابل عمل ہے، اسے انہی کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے: ’’ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر تمام باشندگان ملک خصوصاً مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمۂ صحت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی کریں اور وطن عزیز کو اس وبا سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرونا وائرس کے سلسلہ میں لاک ڈاؤن اور مساجد کی بندش کا مسئلہ

۲۷ مارچ ۲۰۲۰ء

کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن

بعد الحمد والصلوٰة ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں جو صورتحال پیدا کر دی ہے، اس کا سب سے پہلا تقاضا تو اللہ رب العزت کی قدرت اور تمام معاملات کے کنٹرول پر ہمارے ایمان کی تازگی کا ہے۔ کائنات میں بہت کچھ موجود ہے جس کے پیچھے سب سے بڑی قوت اللہ تعالٰی کی ذات ہے، جو کچھ ہوتا ہے اسی کی مرضی سے ہوتا ہے، یہ جو وبائیں، آزمائشیں اور مصیبتیں آتی ہیں، یہ اللہ تبارک و تعالٰی کی جانب سے تنبیہ بھی ہوتی ہیں اور اس کی قدرت کا اظہار بھی، لہٰذا ایسے مواقع پر اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن

۲۴ مارچ ۲۰۲۰ء

کرونا وائرس کے اثرات اور چند احساسات

کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات ہر طرف ظاہر ہونے لگے ہیں۔ اس سے قبل اس سلسلہ میں کچھ تاثرات کا اظہار گزشتہ کالم میں کر چکا ہوں، آج کچھ مزید احساسات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں بتا رہے ہیں کہ کائنات میں صرف وہ کچھ نہیں جو تم دیکھ رہے ہو اور محسوس کر رہے ہو بلکہ اس کے علاوہ بلکہ اس سے کہیں زیادہ وہ کچھ بھی تمہارے اردگرد موجود و متحرک ہے جو تمہیں نظر نہیں آتا اور محسوس نہیں ہوتا۔ دنیائے غیب کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو اپنا کام کر رہا ہے اور تم اس کے درمیان میں رہتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کر پاتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرونا وائرس کے اثرات اور چند احساسات

۲۱ مارچ ۲۰۲۰ء

کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داری

حالیہ اسفار کے دوران مختلف مجالس میں کرونا وائرس اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالہ سے گفتگو کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ کرونا فلو طرز کی ایک وبائی بیماری کو کہا جاتا ہے جس کے وائرس کچھ دنوں قبل چائنہ میں پھیلنا شروع ہوئے اور ان کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جس نے پوری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وبائی بیماریاں دنیا میں مختلف مواقع پر رونما ہوتی آئی ہیں جن کا دائرہ اس سے قبل عام طور پر علاقائی ہوتا تھا، لیکن جوں جوں انسانی سوسائٹی گلوبل ہوتی جا رہی ہے یہ وبائیں بھی گلوبل رخ اختیار کرنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داری

۱۷ مارچ ۲۰۲۰ء

نصاب تعلیم کی یکسانیت پر قومی تعلیمی کانفرنس

ملک میں تعلیمی نصاب و نظام کے دوہرے پن کو ختم کرنے اور خاص طور پر دینی و عصری تعلیم کے نصاب و نظام میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے قومی سطح پر جو کوششیں جاری ہیں میں ان کے مؤیدین اور ناقدین دونوں کی صف اول میں شامل ہوں۔ مؤیدین میں تو اس لیے کہ میں خود گزشتہ نصف صدی سے اس کا داعی چلا آرہا ہوں، اس دوران اس اہم قومی مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر میرے بیسیوں مقالات و مضامین متعدد جرائد اور اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نصاب تعلیم کی یکسانیت پر قومی تعلیمی کانفرنس

۱۴ مارچ ۲۰۲۰ء

دینی تعلیم کے فروغ کے نئے رجحانات

بعض ضروری اسفار کے لیے اسباق کو جلدی سے سمیٹ کر ایک ہفتہ فارغ کرنا پڑا اور متعدد دینی مدارس کی سالانہ تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ ۶ مارچ کو جمعۃ المبارک کے موقع پر جامعہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جس میں حضرت مولانا انوار الحق حقانی اکوڑہ خٹک سے تشریف لائے اور بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا۔ ۷ مارچ کو صبح دس بجے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی میں بخاری شریف کے آخری سبق کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی تعلیم کے فروغ کے نئے رجحانات

۱۱ مارچ ۲۰۲۰ء

Pages

نوٹ:   بعض مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔