صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ کی عقیدت و احترام کا ناگزیر تقاضہ

خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات مکرمات بھی پوری امت کی عقیدت و ادب کا مرکز ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں بیٹیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن کے ساتھ عقیدت و ادب ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ان میں سے چونکہ خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چھوٹی اور لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے فطری اور طبعی طور پر محبت و انس زیادہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۰ء

گلوبل سوسائٹی میں دینی تعلیم کی ضروریات

اس وقت کے عمومی حالات کے پیش نظر دینی تعلیم کے معروضی تقاضوں کے حوالے سے جو ضروریات محسوس کی جا رہی ہیں ان کا ایک ہلکا سا خاکہ آپ حضرات کے سامنے پیش کر رہا ہوں، اس خیال سے کہ دینی تعلیم کے نظام سے عملی طور پر وابستہ حضرات ان پر غور فرمائیں اور انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں کسی نہ کسی جگہ ایڈجسٹ کرنے کی عملی صورتیں تلاش کریں، کیونکہ ان ضروریات کو محسوس کرنا اور انہیں پورا کرنے کی عملی شکلیں تلاش کرنا بہرحال ہماری ہی ذمہ داری بنتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۲۰ء

تعلیمی سلسلہ کی بحالی اور یکساں نصاب تعلیم

کرونا بحران سے پیدا شدہ صورتحال پوری قوم بلکہ نسل انسانی کے لیے پریشانی اور بے چینی کا باعث ہے جس سے نظام زندگی مختلف شعبوں میں درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور اس پر کنٹرول کی کوئی مؤثر صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ اس دوران لاک ڈاؤن اور پھر سمال لاک ڈاؤن یقیناً قومی اور معاشرتی ضرورت ہے جس کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ و استغفار کے ساتھ اپنی بارگاہ میں جھکنے کی توفیق دیں اور اس ابتلا و وبا سے نجات عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۲۰ء

مغرب کی نقالی کا ایک افسوسناک پہلو

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’لتتبعن سنن من کان قبلکم حذو النعل بالنعل‘‘ تم پہلی امتوں کی قدم بہ قدم پیروی کرو گے۔ اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں محدثین کرامؒ نے مختلف پہلوؤں پر بات کی ہے، ان میں سے ایک پہلو پر آج کچھ معروضات پیش کرنے کا ارادہ ہے۔اس تمہیدی گزارش کے ساتھ کہ انسان بنیادی طور پر اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کے حوالہ سے شروع سے کم و بیش یکساں چلا آرہا ہے اور قیامت تک اس نے ایسا ہی رہنا ہے۔ اس کے اندر فطرت نے خیر و شر کی جو صلاحیتیں ودیعت کی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۲۰ء

افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم بھی ضروری ہے

معاشرے میں شرعی احکام پر عملداری کا رجحان فروغ دینے کے لیے محنت و کاوش کے مختلف دائرے ہیں جن میں بعض تو حکومت و ریاست سے تعلق رکھتے ہیں مگر زیادہ تر کام وہ ہیں جو حکومت و ریاست کے عمل دخل کے بغیر آزادانہ طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ سارے کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کا کام بھول جاتے ہیں اور سوسائٹی میں دینی ماحول کے کمزور ہوتے چلے جانے کی ساری ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۲۰ء

مذہبی تعلیمی اداروں کے حوالہ سے امریکی سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

آٹھ دس برس قبل کی بات ہے امریکہ کے ایک سفر کے دوران چند دوست ورجینیا میں ملے جو ایشین امیریکن تھے اور اپنا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بتا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ ایک مسئلہ پر اسٹڈی اور عوامی سروے کر رہے ہیں کہ اگر مذہب سوسائٹی میں واپس آ گیا تو کہیں وہ ریاستی نظم اور اجتماعی معاملات میں دخل اندازی تو نہیں کرے گا؟ میں نے ان کے اس سوال پر عرض کیا کہ اگر تو یہ واقعی مذہب ہوا تو ضرور کرے گا۔ کیونکہ جو مذہب اصل آسمانی تعلیمات پر مشتمل ہے اور اپنے پاس وحی الٰہی کے ذخیرے کے ساتھ صاحب وحی پیغمبرؑ کی ہدایات کو موجود پاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی ۲۰۲۰ء

قربانی کے بارے میں علماء کی تجاویز اور پنجاب حکومت کا پروگرام

جوں جوں عید الاضحٰی قریب آ رہی ہے کرونا بحران کے تسلسل کے باعث قربانی کی سنت ادا کرنے کے حوالہ سے درپیش مسائل کے بارے میں بحث و تمحیص اور تجاویز و آرا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ کالم میں پنجاب کے بعض سرکردہ علماء کرام کی طرف سے مجوزہ SOPs کا ایک خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا تھا، اب دینی مدارس کے وفاقوں کے مشترکہ فورم اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے قائدین کی طرف سے ان کے موقف کے ساتھ ایس او پیز کا خاکہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۲۰ء

قربانی کے لیے چند احتیاطی تجاویز

وفاقی وزارت مذہبی امور کے تحت گزشتہ دنوں سرکردہ علماء کرام اور وفاقی وزراء کے درمیان عید الاضحٰی اور قربانی کے انتظامات کے حوالہ سے ہونے والی ویڈیو لنک مشاورت کا تذکرہ گزشتہ کالم میں کیا تھا، اس سلسلہ میں بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے وفاقی وزارت مذہبی امور کو SOPs (سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز) کے لیے کچھ تجاویز بھجوائی ہیں جو انہی کے الفاظ میں پیش کی جا رہی ہیں۔ ان تجاویز پر کھلے دل سے گفتگو اور مباحثہ کی ضرورت ہے تاکہ ہم بروقت کسی نتیجہ تک پہنچ سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جون ۲۰۲۰ء

کرونا بحران کے ماحول میں عید الاضحٰی اور قربانی

وفاقی وزارت مذہبی امور نے گزشتہ روز ۲۰ جون کو ملک بھر کے سرکردہ علماء کرام و مشائخ کے ساتھ ویڈیو لنک مشاورت کا اہتمام کیا جس کا مقصد کرونا بحران کے ماحول میں عید الاضحٰی کی ادائیگی اور قربانی کے حوالہ سے درپیش مسائل کے بارے میں غوروخوض کر کے کوئی قابل عمل لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیرزادہ ڈاکٹر نور الحق قادری نے صدارت کی، جبکہ گفتگو کرنے والوں میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ا مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۲۰ء

مغرب پر کام کی ضرورت اور میرا ذوق

جب میں مغربی نظام و فلسفہ پر بات کرتا ہوں تو کچھ دوستوں کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ یہ نہ انگلش جانتا ہے، نہ اس نے باقاعدہ فلسفہ پڑھا ہے، اور نہ ہی مغربی فلسفیوں کا مطالعہ کیا ہے، تو پھر یہ مغربی نظام و فلسفہ پر بات کس بنیاد پر کرتا ہے؟ ان دوستوں کا یہ اشکال درست ہے کہ مذکورہ بالا تینوں موضوعات میرے علم و مطالعہ کے دائرے میں نہیں ہیں مگر اس کے باوجود مغربی فلسفہ و نظام کا بحمد اللہ تعالٰی سنجیدہ ناقد ہوں، کیونکہ اس حوالہ سے امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا پیروکار ہوں جو فرنگی حکمرانوں کے خلاف سب سے زیادہ بات کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۲۰۲۰ء

Pages

نوٹ:   بعض مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔