عدالتی فیصلوں پر شرعی تحفظات کا اظہار

وراثت کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی طرف ہم نے ملک کے اصحابِ علم کو ایک مراسلہ میں توجہ دلائی تھی جس پر علماء کرام کے ایک گروپ ’’لجنۃ العلماء للافتاء‘‘ نے فتوٰی کی صورت میں اظہار خیال کیا ہے ۔۔۔ ان دوستوں کی کاوش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم اس کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۲ء

مسلم وزرائے خارجہ کو خوش آمدید اور چند گزارشات

مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آمد شروع ہو گئی ہے جہاں ۲۲ و ۲۳ مارچ کو ان کے دو روزہ اجلاس کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہم اپنے معزز مہمانوں کو خوش آمدید اور اہلاً و سہلاً و مرحبا کہتے ہوئے اس اجلاس کے حوالہ سے چند معروضات ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۲۲ء

کم عمری کا نکاح ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا متنازعہ فیصلہ

مغرب نے جب سے معاشرتی معاملات سے مذہب اور آسمانی تعلیمات کو بے دخل اور لاتعلق کیا ہے، خاندانی نظام مسلسل بحران کا شکار ہے۔ اور خود مغرب کے میخائل گورباچوف، جان میجر اور ہیلری کلنٹن جیسے سرکردہ دانشور اور سیاستدان شکوہ کناں ہیں کہ خاندانی نظام بکھر رہا ہے اور خاندانی رشتوں اور روایات کا معاملہ قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۲۲ء

ہمارے دینی مدارس — توقعات، ذمہ داریاں اور مایوسی

ہمارے معاشرہ میں دینی مدارس کے کردار کے مثبت پہلو کے بارے میں کچھ گزارشات ’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ سے پیوستہ شمارے میں پیش کی جا چکی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ فرنگی اقتدار کے تسلط، مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار اور صلیبی عقائد و تعلیم کی بالجبر ترویج کے دور میں یہ مدارس ملی غیرت اور دینی حمیت کا عنوان بن کر سامنے آئے اور انہوں نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں سیاست، تعلیم، معاشرت، عقائد اور تہذیب مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۰ء

دینی مدارس کے نظام کا تاریخی پسِ منظر اور معاشرتی کردار

ہجری اعتبار سے یہ رجب المرجب کا مہینہ ہے، اس مہینے کے فضائل اور خصوصیات اپنے مقام پر، لیکن ہمارے ہاں دو باتوں کا اس میں زیادہ تذکرہ ہوتا ہے۔ ایک جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج کے حوالے سے اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا یہ آخری مہینہ ہوتا ہے۔ اس میں مدارس کی تقریبات ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۲ء

شیخ الہندؒ کی تاریخی جدوجہد کی صدائے بازگشت

یہ خبر ہمارے اکابر کی اس عظیم جدوجہد کی صدائے بازگشت ہے جو عالمِ اسلام پر استعماری قوتوں کی یلغار کے دوران خلافتِ اسلامیہ کے تحفظ اور متحدہ ہندوستان سمیت مسلم ممالک کی آزادی کے لیے دو صدیاں مسلسل جاری رہی ہے، اور مسلم ممالک کی موجودہ آزادی جیسی کیسی بھی ہے اس جدوجہد اور اس میں دی جانے والی بے پناہ قربانیوں کا ثمرہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۲ء

فکری شبہات کی دلدل اور اربابِ علم و دانش کی ذمہ داری

جامعہ خیر المدارس میں حاضری سے نسبتوں کی تازگی اور خیر بلکہ اخیار کے ماحول میں کچھ وقت گزارنے کا وقتاً فوقتاً موقع مل جاتا ہے جس پر مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا شکرگزار ہوں۔ میں یہاں مخدوم العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے دور سے حاضر ہوتا آ رہا ہوں اور میں نے ان کی زیارت پہلی بار یہیں کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۲۲ء

مسلم سوسائٹی میں مسجد اور امام و خطیب کا کردار

اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے اس پروگرام میں شرکت میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس سے اس عظیم ادارہ کے ساتھ پرانی نسبتیں بھی تازہ ہو رہی ہیں۔ اس کا پہلا دور جامعہ عباسیہ کے عنوان سے ہماری تاریخ کا حصہ ہے جس کی علمی و دینی خدمات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۲۲ء

فوجداری قانون میں ترامیم اور عدلیہ کا کردار

ملک کے فوجداری قوانین میں نئی اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور گزشتہ روز اسلام آباد میں فوجداری قانون اور نظام انصاف کے حوالہ سے ایک تقریب سے خطاب ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور عدالتی نظام انصاف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہے، اس لیے یہ اصلاحات لائی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۲۲ء

بخاری شریف اور عصرِ حاضر

آپ حضرات نے بخاری شریف کے آخری باب اور روایت کی قراءت کی ہے جو ہم نے سنی ہے اور اس سے آپ کا سبق مکمل ہو گیا ہے۔ مگر آپ کے پڑھے ہوئے اسباق میں سے دو تین باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ بخاری شریف کا نام ایک بار پھر ذہن میں تازہ کر لیں کہ اس کتاب کا اصل نام بخاری شریف نہیں ہے، یہ عرفی نام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۲۲ء

Pages


Flag Counter