قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بار پھر ملک میں اردو کے سرکاری طور پر نفاذ کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ہے جس میں اردو کو فوری طور پر رائج نہ کرنے پر وفاقی حکومت جبکہ پنجابی زبان کو صوبے میں رائج نہ کرنے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۱ء

عشرۂ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

ستمبر کا پہلا عشرہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی میں گزرا۔ یوم دفاع، یوم فضائیہ اور یوم بحریہ کی رونقوں کے ساتھ ساتھ یوم ختم نبوت کی مصروفیات نے قوم کے تمام طبقات کو مصروف رکھا اور مجھے بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ ۵ ستمبر کو لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری دی اور معروضات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ ستمبر ۲۰۲۱ء

چھ اور سات ستمبر کی ختم نبوت کانفرنسوں کی اہمیت و ضرورت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھ ستمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی اور سات ستمبر کو مینارِ پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں جو تاریخی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں ان کی تیاریوں کے سلسلہ میں یہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان میں شرکت کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت، ناموسِ رسالتؐ، خاندانی نظام کے تحفظ اور مسجد و مدرسہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کے جو مراحل اس وقت درپیش ہیں ان میں یہ بات سب دوستوں کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔ (۱) پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان میں طالبان کا نیا دور۔ توقعات و خدشات

کابل میں طالبان کے پُراَمن داخلہ پر اطمینان و مسرت کے اظہار کے لیے آج جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طلبہ نے قرآن خوانی کا اہتمام کیا، قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی کلاس میں طلبہ نے مکمل قرآن کریم کی قراءت کی اور جہاد افغانستان کے مختلف مراحل کے شہداء اور مرحوم راہنماؤں کو ایصالِ ثواب کیا گیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے درج ذیل خطاب کیا اور بزرگ استاذ مولانا عبد القیوم گلگتی کی پرسوز دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۱ء

آزادی کے اہداف اور درپیش خطرات

آج ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے چنانچہ اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ آباد ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے ماضی قدیم کی ایک تحریک آزادی کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور جس کی قیادت حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۱ء

فرقانِ حمید اور فاروقِ اعظمؓ

قرآنِ کریم نے اپنا دوسرا نام ’’الفرقان‘‘ بتایا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ’’الفاروق‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، دونوں کا معنٰی حق و باطل میں فرق کرنے والا بنتا ہے۔ جبکہ اس لفظی مناسبت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زندگی بھر کا طرز عمل بھی اس مشابہت و مماثلت کی گواہی دیتا ہے جس کی چند جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۱ء

گھریلو تشدد کی روک تھام کے قانون پر ہمارے تحفظات

ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ایک نیا قانون ہے جو صوبوں میں نافذ ہو گیا ہے اور مرکز میں نافذ ہونے جا رہا ہے، جس کو ”گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون“ کہتے ہیں۔ اس پر ملک بھر کے دینی حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ شرعی احکام کے خلاف ہے ، ہماری تہذیبی روایات کے خلاف ہے، دستور کے خلاف ہے اور مسلمہ انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس پر بحث چل رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے دینی حلقے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بات کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے ناگزیر تقاضے اور ہمارا اصل محاذ

بعد الحمد والصلوٰة۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ مختلف دینی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ حضرات کے اس اجتماع میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اجتماع سات ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقد ہوا ہے اور اس میں کانفرنس کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مختلف پروگرام تشکیل دیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۱ء

دینی مدارس کی اسناد کا توجہ طلب مسئلہ

ہری پور ہزارہ کے حضرت مولانا حکیم عبد السلامؒ ہمارے محترم بزرگوں میں سے تھے، تحریک آزادی کے نامور راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، میری ان سے نیازمندی رہی ہے اور کئی بار ان کی خدمت میں حاضری اور شفقتیں سمیٹنے کی سعادت ملی ہے۔ ان کے فرزند میجر (ر) محمد طارق مرحوم محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور ایک دور میں ثانوی تعلیمی بورڈز کی کسی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر انہوں نے خدمات سر انجام دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۱ء

Pages

Flag Counter