مختلف شعبوں میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے نائب امیر مولانا قاری عبید اللہ عامر کے ہمراہ ۱۰ جون سے ۱۶ جون تک لکی مروت، ملانہ، ڈیرہ اسماعیل خان، موسٰی زئی شریف، بَن حافظ جی میانوالی، چودھواں، اسلام آباد، دھیر کوٹ، باغ، ہاڑی گیل، بیس بگلہ، ملوٹ، مانگا، مری، چکوال اور دیگر مقامات میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا۔ اس دوران ۱۳ جون کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ آزاد کشمیر کی ایک نشست میں بھی حاضری ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مختلف شعبوں میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

۱۸ و ۱۹ جون ۲۰۱۹ء

دُلّا بھٹی شہید ۔ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی

رائے احمد خان کھرل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نامور جرنیل تھے جنہوں نے قبولہ، گوگیرہ اور ساہیوال کے علاقہ میں انگریزوں کے خلاف جنگ کا محاذ گرم رکھا اور برطانوی فوجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ربع صدی قبل کی بات ہے میں ماہنامہ الرشید ساہیوال کے مدیر مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کے ساتھ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے گھوم پھر رہا تھا کہ ایک جرنیل کے مجسمے پر نظر پڑی، عموماً میں کوئی کتبہ یا مجسمہ دیکھتا ہوں تو اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دُلّا بھٹی شہید ۔ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی

۱۴ جون ۲۰۱۹ء

علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

وفاقی وزیر سائنسی امور فواد چودھری صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان بنانے والے قائدین مذہبی لوگ نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی راہنماؤں کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار ہے۔ باقی تمام باتوں سے قطع نظر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کا ایک خطاب پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے ۹ فروری ۱۹۳۲ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عید الفطر کے اجتماع میں ارشاد فرمایا تھا اور انجمن اسلامیہ لاہور نے اسے چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس خطبہ کا متن عبد الواحد معینی اور عبد اللہ قریشی کے مرتب کردہ ’’مقالات اقبالؒ‘‘ سے لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

۸ جون ۲۰۱۹ء

’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کے لیے ہماری گزارشات

رابطہ عالم اسلامی کے ’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کویت یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حمود فہد القشعان نے ایک دلچسپ کہاوت سے گفتگو کا آغاز کیا اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں اعتدال، وسطیت اور توازن کی اہمیت و ضرورت پر خوبصورت گفتگو کی۔ ان کی زبان سے یہ کہاوت سن کر مجھے اپنے آبائی شہر گکھڑ کے ایک پرانے بزرگ صوفی نذیر احمد کشمیری مرحوم یاد آگئے جن سے میں نے یہ کہانی نصف صدی قبل پنجابی زبان میں متعدد بار سن رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کے لیے ہماری گزارشات

۴ جون ۲۰۱۹ء

رابطہ عالم اسلامی کا مؤتمر عالمی

بحمد اللہ تعالٰی حرمین شریفین کی حاضری اور رابطہ عالم اسلامی کے عالمی موتمر میں شرکت کے بعد وطن واپس آگیا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں ۲۲ تا ۲۴ رمضان المبارک عالمی موتمر کا انعقاد کیا جس کا عنوان ’’الوسطیہ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنہ‘‘ تھا۔ خادم الحرمین الشریفین الملک سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالٰی کے خصوصی پیغام سے کانفرنس کا آغاز ہوا اور مسلسل تین روز جاری رہنے کے بعد ’’وثیقہ مکہ مکرمہ‘‘ کے اعلان پر موتمر اختتام پذیر ہوا۔ دو سو کے لگ بھگ ممالک سے بارہ سو کے قریب سرکردہ علماء کرام کانفرنس میں شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رابطہ عالم اسلامی کا مؤتمر عالمی

یکم جون ۲۰۱۹ء

دنیا کی ضرورت خلفاء راشدین والا اسلام ہے

برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں اپنے دانشوروں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ: ’’اسلام کا مطالعہ کریں اور بطور نظام زندگی اور متبادل سسٹم اسے اسٹڈی کریں۔ لیکن اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے دو باتوں کی طرف مت دیکھیں، ایک یہ کہ ہمارے بڑوں نے اسلام کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے، دوسرا یہ کہ اس وقت مسلمان کیسے نظر آرہے ہیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دنیا کی ضرورت خلفاء راشدین والا اسلام ہے

۲۸ مئی ۲۰۱۹ء

کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

پاکستان کے قیام کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کے ارباب حل و عقد کو سب سے پہلا اور اہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کا دستور اور نظامِ حکومت کیا ہو گا اور حکمرانی کا حق کسے حاصل ہو گا؟ طاقت کے بل پر کسی کو حکمرانی کا حق دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک کی آزادی اور پاکستان کا قیام دونوں جہادِ آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل، رائے عامہ اور جمہوری جد و جہد کا نتیجہ تھے اور اس تسلسل سے انحراف سرے سے ممکن ہی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

۲۱ مئی ۲۰۱۹ء

’’سودی نظام‘‘ پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

مفتیان کرام سے میں نے مختصرًا چند باتیں عرض کریں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تفسیر قرطبیؒ میں مذکور ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ہے۔ یہ سن کر وہ چلا گیا۔ اس پر مجلس کے حضرات نے عرض کیا کہ حضرت! توبہ کی گنجائش تو ہر گنہگار کے لیے ہوتی ہے اور آپ نے بھی اس سے قبل فرمایا تھا کہ قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے، جبکہ اس سائل کو آپ نے اس کے خلاف بات کہہ دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’سودی نظام‘‘ پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

۱۳ مئی ۲۰۱۹ء

نصابی کتابوں سے عقیدۂ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج

برصغیر پاک و ہند میں تو برطانوی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی دی اس پالیسی کے مرتب لارڈ میکالے نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم ایک ایسا نظام تعلیم دے رہے ہیں جس سے تعلیم و تربیت پانے والے مسلمان اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ چنانچہ اسی لیے مستقبل کے خدشات پر نظر رکھنے والے علماء کرام اور اہل دانش نے دینی تعلیم کا الگ سے پرائیویٹ نظام قائم کر کے مسجد و محلہ کی سطح پر قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم کا ماحول بنایا اور دینی مدارس کا ایک وسیع جال پورے جنوبی ایشیا میں پھیل گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نصابی کتابوں سے عقیدۂ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج

۷ مئی ۲۰۱۹ء

جامعہ عباسیہ بہاولپور کے حوالہ سے ایک وضاحت / سودی نظام کے خلاف قومی اسمبلی میں بل

فیس بک پر میرے نام سے ایک پوسٹ چل رہی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ پوسٹ میری نہیں ہے اور بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ دراصل میں نے ایک وائس میسج میں بتایا تھا کہ درس نظامی کے ایک بڑے ادارہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کو صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور حکومت میں محکمہ تعلیم کی تحویل میں دیا گیا تھا، اور اسے اسلامی یونیورسٹی کا نام دے کر عصری تعلیم اور درس نظامی کو یکجا کر کے کچھ عرصہ چلایا گیا تھا، مگر آہستہ آہستہ درس نظامی کے پورے نصاب کو اس سے خارج کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ عباسیہ بہاولپور کے حوالہ سے ایک وضاحت / سودی نظام کے خلاف قومی اسمبلی میں بل

۴ مئی ۲۰۱۹ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔