دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ!

روزنامہ جنگ ملتان میں ۲۱، مارچ ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (جنگ رپورٹر) عدالت عظمیٰ میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے ایک ملزم صفتین کی اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کی تعریف کے تعین کے لیے ۷ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں ۔۔۔۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ۱۹۹۷ء سے آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ کون سا کیس دہشت گردی کے زمرہ میں آتا ہے اور کون سا نہیں آتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ!

۸ اپریل ۲۰۱۹ء

سرکردہ علماء کرام کے ساتھ آرمی چیف کی ایک خوشگوار نشست

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ گزشتہ روز زندگی میں دوسری ملاقات کا موقع ملا، پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب انہوں نے سپہ سالار کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے آبائی شہر گکھڑ ضلع گوجرانوالہ کے سرکردہ شہریوں کے ساتھ گوجرانوالہ کینٹ میں اجتماعی نشست کی تو میں بھی اس میں شامل تھا اور اس کے تاثرات اسی کالم میں عرض کر دیے تھے کہ صاف گو اور بے تکلف آدمی ہیں اور بات کہنے کے ساتھ ساتھ سننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرکردہ علماء کرام کے ساتھ آرمی چیف کی ایک خوشگوار نشست

۳ اپریل ۲۰۱۹ء

دینی و عصری تعلیم کی تقسیم کا ذمہ دار کون؟

جامعہ خیر المدارس ملتان میں حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے، یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے، رائیس الاخیار حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فیوض و برکات کا مرکز ہے، آج یہاں ملک بھر کے أخیار کا اجتماع ہے اور اس میں حاضری و شرکت کا موقع فراہم کرنے پر حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا شکرگزار ہوں، مجھے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں اور ان کو درپیش چیلنجز کے حوالہ سے کچھ عرض کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی و عصری تعلیم کی تقسیم کا ذمہ دار کون؟

اپریل ۲۰۱۹ء

قومی رواداری کے عنوان پر ایک اہم سیمینار

۲۷ مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام سابق وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید محمد امین الحسنات شاہ نے کیا اور انہی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اعلامیہ (میثاق پاکستان)۔ بتاریخ ۲۷ مارچ ۲۰۱۹ء، اسلام آباد ہوٹل، اسلام آباد۔ پاکستان میں امن اور رواداری کے فروغ کے لیے مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی حلقوں کی طرف سے متفقہ طور پر جاری کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی رواداری کے عنوان پر ایک اہم سیمینار

۳۰ مارچ ۲۰۱۹ء

خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میں رسول اکرمؐ کے موئے مبارک کی زیارت

خانقاہ سراجیہ شریف میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد اور ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف بزرگوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا اور خواجہ صاحب نے سب سے بڑی شفقت یہ فرمائی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت سے شاد کام کیا جو خانقاہ شریف میں پورے احترام و انتظام کے ساتھ محفوظ ہیں اور ہر سال ۲۶ رمضان المبارک کے دن خانقاہ میں آنے والے حضرات کو ان کی زیارت کرائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میں رسول اکرمؐ کے موئے مبارک کی زیارت

۲۳ مارچ ۲۰۱۹ء

ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے حوالہ سے قارئین سے ایک اہم درخواست

ایک سال قبل مولانا صالح محمد حضروی، جناب صلاح الدین فاروقی آف ٹیکسلا اور راقم الحروف نے پاکستان کی دینی تحریکات کے بارے میں تاریخی ریکارڈ جمع کرنے کے ایک پروگرام کا اعلان کیا تھا جس کے پہلے مرحلہ میں ہفت روزہ خدام الدین لاہور اور ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی فائلیں مکمل کرنے پر محنت کی گئی اور اس میں خاص طور پر صلاح الدین فاروقی صاحب نے خاصی ہمت کر کے دونوں رسالوں کی فائلوں کو تقریباً مکمل کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے حوالہ سے قارئین سے ایک اہم درخواست

۱۶ مارچ ۲۰۱۹ء

شراب پر پابندی کا بل اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے حوالہ سے ایک افسوسناک خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری کہ قانون سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ایک غیر مسلم رکن ڈاکٹر رامیش کمار نے ملک میں شراب پر پابندی کے بارے میں بل پیش کیا جو مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رامیش کمار کا تعلق ہندو مذہب سے ہے اور وہ ایک عرصہ سے شراب پر پابندی کے حوالہ سے مسلسل آواز اٹھاتے چلے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ شراب اسلام کی طرح ہندو مذہب میں بھی حرام ہے مگر پاکستان میں غیر مسلموں کے نام پر شراب کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے جو درست نہیں ہے، اسے ختم ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شراب پر پابندی کا بل اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی

۱۶ مارچ ۲۰۱۹ء

نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

گزشتہ ماہ کے آخری عشرہ کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اکادمی کے تحت ایک اہم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اقدامات کا مرحلہ وار جائزہ لیا گیا اور کانفرنس کی طرف سے اس سلسلہ میں سفارشات پیش کی گئیں۔ شریعہ اکادمی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء اس وقیع علمی و تحقیقی کاوش پر شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے علمی و فکری سطح پر ایک سنجیدہ کام دیکھنے میں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

۱۳ مارچ ۲۰۱۹ء

جمعہ کی تعطیل اور نماز جمعہ کا وقفہ

جمعہ کے روز ہفتہ وار تعطیل کا مسئلہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور دینی حلقوں کا ایک عرصہ سے مطالبہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل جمعہ کے روز کی جائے جو فضیلت کا دن ہے اور نماز جمعہ اور خطبہ و خطاب وغیرہ اہتمام کے ساتھ پڑھنے اور سننے کے لیے بھی اس سے آسانی رہتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس سلسلہ میں قومی حلقوں میں بحث چلی تو بعض حضرات نے سوال اٹھایا کہ کیا جمعہ کے روز چھٹی کا قرآن و حدیث میں کوئی حکم موجود ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعہ کی تعطیل اور نماز جمعہ کا وقفہ

۱۰ مارچ ۲۰۱۹ء

سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل

سینٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل

۶ مارچ ۲۰۱۹ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔