مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ جون ۲۰۱۷ء

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ عید کے موقع پر رؤیت ہلال کا مسئلہ پھر حسب سابق زیر بحث آئے گا اور میڈیا حسب عادت اس سلسلہ میں اختلاف کی من مانی تشہیر کرے گا۔ اس حوالہ سے ہم اپنا موقف مختلف مواقع پر اس کالم میں تحریر کر چکے ہیں کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی ایک باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے، اسے مجاز اتھارٹی کے طور پر پاکستان میں سب جگہ تسلیم کیا جانا چاہیے اور اگر اس کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اسے اختلاف کے درجہ میں رکھتے ہوئے صحیح طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر کوئی متوازی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن یہ ایک رائے ہے جسے قبول کرنا یا نہ کرنا متعلقہ دوستوں کی صوابدید پر موقوف ہے۔ البتہ آج کے کالم میں ہم دو محترم دوستوں کی رائے شامل کرنا چاہتے ہیں، ہو سکتا ہے اس اختلاف و تنازعہ کو بہتر طور پر حل کرنے میں ان سے کوئی راہنمائی مل جائے۔

مولانا مفتی منیر احمد اخون ہمارے فاضل دوست ہیں، استاذ العلماء حضرت مولانا نیاز محمد ختنیؒ آف بہاولنگر کے فرزند اور شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے داماد و خلیفہ ہیں۔ کافی عرصہ سے نیویارک میں مقیم ہیں اور ایک علمی مرکز قائم کر کے فتویٰ اور اصلاح و ارشاد کے میدان میں مسلمانوں کی راہنمائی کر رہے ہیں۔ ان کی تجویز یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کی رؤیت پر اعتماد کر کے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس کے مطابق ایک ہی دن روزہ کا آغاز کرنا چاہیے اور ایک ہی دن عید منانی چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کتاب بھی لکھی ہے جس کی گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں تقریب رونمائی منعقد ہو چکی ہے۔ انہوں نے برصغیر پاک و ہند کے دو بڑے مذہبی مکاتب فکر دیوبندی اور بریلوی کے اکابر علماء کرام کے فتاویٰ کو اس تجویز کی بنیاد بنایا ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا یہ ارشاد انہوں نے ’’الکوکب الدری‘‘ سے نقل کیا ہے کہ

’’اگر کلکتہ (ہندوستان) میں چاند جمعہ کی رات میں نظر آیا اور مکہ میں خمیس (جمعرات) کی رات کو، اور کلکتہ والوں کو پتہ نہ چل سکا کہ مکہ میں رمضان خمیس (جمعرات) سے شروع ہو چکا ہے تو جب ان کو اس بات کا پتہ چلے گا تو ان کے لیے ضروری ہوگا کہ عید مکہ والوں کے ساتھ منائیں اور پہلا روزہ قضا کریں‘‘۔

حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کا فتویٰ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ سے انہوں نے اس طرح نقل کیا ہے کہ

’’عمرو کا قول کہ ہندوستان سے دور دراز ملک مکہ معظمہ میں ۲۹ کا چاند ہوگیا ہے تو پھر بہرائچ والوں کو ان کے ساتھ روزہ نہ رکھنے کی بنا پر ایک روزے کی قضا کرنا لازم ہے صحیح ہے، ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح معتمد یہی ہے‘‘۔

جبکہ ’’فتاویٰ رحیمیہ‘‘ کے حوالہ سے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا فتویٰ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے کہ

’’اگر مکہ یا مدینہ میں شرعی ثبوت کے ساتھ خبر آجائے کہ وہاں یہاں سے پہلے چاند ہوا ہے تو ہندوستان والوں پر اس خبر کی وجہ سے ایک روزہ رکھنا فرض ہوگا‘‘۔

مولانا مفتی منیر احمد اخون آج کل اس کی باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں کہ ان فتاویٰ کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے اور ان کی بنیاد پر سب جگہ ایک ہی دن روزے اور عید کے اہتمام کی کوشش کی جائے۔

جبکہ دوسری تجویز اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سیکرٹری جناب محمد سمیع اللہ کی طرف سے ایک اخباری مکتوب کی صورت میں سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں رؤیت ہلال کے نظام کو بہتر بنانے اور مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے طریق کار کو مزید مؤثر کرنے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کی تجاویز انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔ ویسے ہمارا خیال ہے کہ اس سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کو باضابطہ طور پر کردار ادا کرنا چاہیے یا کم از کم اسلامی نظریاتی کونسل کو موجودہ صورتحال اور مذکورہ تجاویز کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لے کر کوئی مؤثر حل سامنے لانا چاہیے۔ جناب محمد سمیع اللہ اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں کہ

’’راقم نے ۱۹۹۰ء میں، جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کا سیکرٹری تھا، کونسل کے باقاعدہ ایجنڈے میں یہ بات شامل کروائی کہ عیدین کے مبارک موقع پر بدمزگی اور انتشار سے بچنے کے لیے مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے صرف پشاور میں ہوا کرے تاکہ عید کے چاند کے بارے میں قرب و جوار سے موصول شدہ شہادتوں کا شرعی جائزہ لے کر حتمی اعلان کیا جا سکے۔ مزید برآں اس ضمن میں عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور حتمی اعلان سے پہلے بلوچستان کے دور دراز علاقوں مثلاً پسنی، جیوانی، تربت، پنج گور اور مارہ وغیرہ سے بھی اطلاعات کی موصولی کا فوری انتظام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کے جملہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر صاحبان کو پابند کیا جائے کہ جونہی اپنے علاقوں سے انہیں چاند کے بارے میں کوئی معتبر شہادت موصول ہو تو وہ وہاں کی مرکزی جامع مسجد کے امام / خطیب صاحب سے تصدیق کروا کر فوری طور پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پشاور کو مطلع کریں تاکہ وہ مزید چھان بین کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے تمام ڈی سی صاحبان کے نام اور فون نمبر مشتہر کیے جائیں تاکہ عوام کو ان سے رابطہ کرنے میں آسانی ہو۔

راقم کی اس تجویز پر کونسل کے اراکین بالخصوص علمائے کرام نے اتفاق نہیں کیا اور عذر پیش کیا کہ انہوں نے عید کی نماز کی امامت کروانی ہوتی ہے اور علاقہ کی سرکردہ سرکاری شخصیات نے ان کے پیچھے نماز ادا کرتی ہیں۔ پشاور جیسے علاقہ سے راتوں رات انہیں اپنے شہروں میں پہنچنا محال ہے۔ اس لیے یہ تجویز ناقابل عمل ہے۔ میرے خیال میں اگر حکومت اور علمائے کرام تھوڑی سی قربانی دیں او راخلاص سے کام لیں تو اس پر عمل درآمد بہت آسان ہو سکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ پاک فضائیہ ایک ہوائی جہاز (C-۱۳۰) پشاور کے ہوائی اڈہ پر تیار رہے اور جونہی چاند کے بارے میں سرکاری طور پر حتمی اعلان ہو تو وہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے اراکین کو لے کر ایک ہی فلائٹ کے ذریعے ان کی اپنی منزل مقصود کراچی، کوئٹہ، لاہور یا اسلام آباد پہنچا دے۔

جامع مسجد قاسم علی خان پشاور کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب کو خصوصی طور پر اس بارے میں اعتماد میں لیا جائے تو منزل بفضل تعالیٰ اور بھی آسان ہو جائے گی کہ مسئلے میں اختلاف ہی وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس لیے قومی یکجہتی اور عقلمندی کا تقاضا ہے کہ حکمت عملی کے ساتھ جائے اختلاف کو جائے اتفاق بنایا جائے۔ مزید برآں چیئرمین رؤیت ہلال کمیٹی کی تقرری کی مدت متعین کی جائے جو پانچ سال سے زائد نہ ہو۔ مناسب ہوگا کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے لیے چیئرمین کا بھی انتخاب کیا جائے اور اس کے لیے ملک کے نامور علمائے کرام میں سے کسی کو منتخب کیا جائے۔ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی میں علمائے کرام کے ساتھ فن سے متعلقہ ماہرین کو بھی شامل کیا جائے تاکہ وہ ان شہادتوں کا تکنیکی طور پر بھی جائزہ لے سکیں۔

میں آپ کے موقر اخبار / جریدے کے ذریعے ارباب اقتدار اور دردِ دل رکھنے والے علمائے کرام سے ایک بار پھر اپیل کروں گا کہ امت کی فلاح اور یکجہتی کے لیے میری بیان کردہ تجویز کے مندرجہ ذیل تین اہم نکات پر ضرور غور فرمائیں۔

  1. مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا اجلاس مستقل طور پر صرف پشاور ہی میں ہوا کرے جس کے لیے وزارت مذہبی امور ضروری اقدامات کرے تاکہ ملک میں انتشار پیدا نہ ہو۔
  2. چاند نہ نظر آنے کا اعلان سرکاری میڈیا سے گیارہ بجے شب سے پہلے نہ کیا جائے۔
  3. عوام کو اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ ترغیب دی جائے کہ وہ بھی چاند کی جستجو میں رہیں اور جس کسی کو چاند نظر آئے وہ فوری طور پر اس کی اطلاع اپنے ضلع کے متعلقہ حکام یعنی ڈی سی کو دیں۔

یہاں یہ بھی امر باعث رہنمائی ہوگا کہ عرب ٹی وی کے مطابق رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں عدالتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں کونسل کے ممبران کو چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے بعد عرب ممالک میں پہلا روزہ بروز ہفتہ مورخہ ۲۷ مئی ۲۰۱۷ء کو ہونے کا اعلان ہوا۔ چونکہ پاکستان میں ابھی شرعی عدالتی نظام قائم نہیں ہے اس لیے اطلاعات یعنی شہادتوں کی ترسیل کا کام وقتی طور پر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر صاحبان سے لیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ان کے ٹول فری نمبروں کو مشتہر کیا جائے تاکہ آئندہ رمضان اور عیدین ایک ہی دن کامیابی و کامرانی سے منائے جا سکیں۔ وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم۔‘‘