پارٹی وفاداری کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

وفاقی وزیر سیاسی امور جناب غلام مصطفیٰ جتوئی نے ایک بیان میں ان حضرات کی صفائی پیش کرنے کی سعی فرمائی ہے جنہیں لیلائے اقتدار سے ہمکنار ہونے کی ہوس نے اپنی پارٹیوں کے دستور و منشور اور ووٹروں کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کا پابند نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ہر شخص کو پارٹی بدلنے کا حق ہے اور اگر کوئی شخص پارٹی کی پالیسی سے متفق نہ ہو اور دوسری پارٹی میں چلا جائے تو یہ کوئی معیوب بات نہیں۔

جتوئی صاحب کے اس بیان کا حاصل مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ہماری سیاست کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے کہ یہاں اصول اور پارٹی پالیسی پر ذاتی پسند اور مفاد کی ترجیح کا رجحان غالب ہے۔ ماضی میں اس مذموم رجحان نے ملک میں بڑے بڑے سیاسی بحرانوں کو جنم دیا ہے اور آج کی حکومت نے بھی اسی رجحان کے سہارے جمہوری قوتوں اور نمائندہ جماعتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے اور ملکی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ڈرامہ اسٹیج کر رکھا ہے۔

اگر بات صرف پارٹی پالیسی سے عدم اتفاق کی صورت میں پارٹی تبدیل کرنے کی حد تک ہو تو اس سے اتفاق کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ لیکن کیا ہمارے ہاں پارٹیاں تبدیل کرنے کے عمومی رجحان کی بنیاد یہی ہے؟ اس بات سے یقیناً جتوئی صاحب بھی انکار کریں گے۔ کیونکہ وہ ان حالات سے چشم پوشی نہیں کر سکتے جن کے نتیجہ میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ اور آج اس ایکٹ کے ختم ہونے کی صورت میں خود جتوئی صاحب کی جماعت کو ارکان اسمبلی کی پارٹی وفاداری کے تحفظ کے لیے متبادل انتظامات کی تلاش ہے۔

پھر کسی پارٹی کے عمومی ارکان کے بارے میں تو یہ منطق کسی حد تک تسلیم کی جا سکتی ہے لیکن جن افراد نے پارٹی کے منشور اور اس کی عمومی پالیسی کی بنیاد پر الیکشن جیت کر اسمبلی کی نشستیں حاصل کی ہیں، انہیں اس طرح کھلم کھلا وفاداری تبدیل کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں یہ روایت ہے کہ پارٹی چھوڑنے والا ممبر اپنی نشست سے دستبردار ہو کر دوبارہ الیکشن لڑتا ہے، اس روایت کی پشت پر یہی اصول کارفرما ہے۔

ہماری ان گزارشات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم قانوناً اس قدغن کے حق میں نہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی سطح پر مفاد کے تحت پارٹی تبدیل کرنے، یا اصول کی خاطر وفاداری بدلنے کے مابین کوئی نہ کوئی امتیاز ضرور قائم ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ جب تک ایسا نہ کیا جائے گا، طالع آزما اور مفاد پرست لوگ ’’جمہوری حق‘‘ کی آڑ میں پارٹیوں کے داخلی استحکام کے لیے خطرہ بنے رہیں گے۔