ولی خان، مسٹر بھٹو اور افغانستان / اور جنرل یحییٰ خان؟ / قبرص کا بحران / مسئلہ کشمیر نئے دور میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ دنوں صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی تقاریر میں پاکستان کی سرحدوں پر افغانستان اور بھارت کی افواج کے اجتماع کے انکشاف کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد جناب عبد الولی خان کے خلاف بھی غم و غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی نئی بات کرنے کی بجائے وہی باتیں دہرائی ہیں جو وہ اور ان کے پیشرو حکمران اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں، لیکن موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر بھٹو صاحب کی یہ نئی مہم اپنے ’’مالہ و ما علیہ‘‘ پر غوروخوض کی دعوت دیتی ہے۔

مسٹر عبد الولی خان کے نظریات و افکار پاکستان کے کسی شہری پر پوشیدہ نہیں، وہ ملکی اور بین الاقوامی سیاست میں ایک مخصوص نقطۂ نظر کے حامل سیاستدان ہیں جس کا اظہار وہ کئی بار کر چکے ہیں۔ اور شاید ولی خان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ زمانے کے ساتھ چلنے اور ہوا کا رخ بدلتا دیکھ کر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لینے کی ’’صلاحیت‘‘ سے محروم ہیں، ورنہ آج صورتحال اس سے مختلف ہوتی جو دکھائی دے رہی ہے۔ ولی خان کے خلاف آج تک جتنی باتیں بھی کہی جاتی رہی ہیں ان کی تان دو باتوں پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ ایک یہ کہ ولی خان قیام پاکستان کے مخالف تھے، اور دوسری یہ کہ وہ افغانستان جاتے ہیں اور افغان حکمران سے ملتے ہیں۔

جہاں تک قیام پاکستان کی مخالفت کا تعلق ہے، یہ کوئی جرم نہیں۔ ملت اسلامیہ کے ایک باشعور حلقے نے دلائل کی بنیاد پر دیانتداری کے ساتھ قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور قیام پاکستان کی صورت میں کچھ خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس حلقے نے جو خدشات پیش کیے تھے وہ غلط ثابت ہوئے یا صحیح، قیام پاکستان کے بعد اس حلقے نے ملکی سالمیت کے تحفظ اور پاکستان کی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اور اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوئی جرأت نہیں کر سکتا کہ ۱۹۷۱ء میں جب سالمیتِ پاکستان کے بعض نام نہاد ٹھیکیداروں کی سرگرمیاں پاکستان کو دولخت کرنے کا موجب بن رہی تھیں، قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے حلقہ کے دو ممتاز راہنما مولانا مفتی محمود اور خان عبد الولی خان ڈھاکہ میں ملک کے دونوں حصوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے اور تقسیم ملک کو روکنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اور آج بھی دونوں راہنما دوسرے سیاسی قائدین کے شانہ بشانہ ملک میں جمہوری عمل کی بحالی اور سالمیتِ پاکستان کے تحفظ کی خاطر سرگرم عمل ہیں۔

باقی رہی افغانستان کی بات تو اس سلسلہ میں ہماری دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ مسٹر ولی خان کے موقف کو کلی طور پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ خان موصوف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ

  • وہ محب وطن ہیں اور ان کی حب وطنی ملک کے کسی بھی بڑے شخص سے زیادہ مضبوط ہے۔
  • وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ختم ہو اور دونوں مسلم پڑوسی ممالک بھائیوں کی طرح امن و آشتی کے ساتھ رہیں۔
  • مسٹر بھٹو نے نئی مہم ملک کے داخلی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے شروع کی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ولی خان کا یہ موقف ٹھنڈے دل سے غور و خوض کا طالب ہے۔ اولاً اس لیے کہ یہ دو مسلم پڑوسی ممالک کا معاملہ ہے اور اس سلسلے میں جو شخص یا حلقہ بھی صلح و امن کی بات کرے گا، ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ ثانیاً اس لیے کہ ہمارے خیال میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے عوامل اور اس سلسلہ میں پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان اور صوبہ سرحد کے بعض اقتدار پسند سیاستدانوں کے طرز عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے خدانخواستہ افغانستان کی افواج بقول بھٹو صاحب پاک سرحدوں کی طرف بڑھ رہی ہیں تو بھی حکومت پاکستان کو صلح و امن کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔ اس سلسلہ میں مسلم برادری اور اسلامی سیکرٹریٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ آخر مسلم برادری اگر بھٹو اور مجیب کو ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ کر سکتی ہے تو داؤد اور بھٹو کو ایک اسٹیج پر لانا اس کے لیے کون سا مشکل امر ہے؟

اسی طرح ولی خان کے بار بار افغانستان جانے کے بارے میں بھی بھٹو صاحب کو معقول اور سنجیدہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ولی خان کا بیرون ملک جانا ملک کے لیے نقصان دہ ہے تو انہیں حکومت پاکستان باہر جانے کی اجازت کیوں دیتی ہے؟ ولی خان جب بھی ملک سے باہر گئے، حکومت کی اجازت سے گئے۔ اب اگر حکومت کو ان کی سرگرمیوں پر اعتراض ہے تو بیان بازی کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا جائے اور عدالت کی میز پر ان کے خلاف الزامات کا ثبوت مہیا کر کے آئندہ کے لیے اس صورتحال کا سدباب کر دیا جائے۔ ورنہ اس تاثر کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو صاحب بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے غدار، وطن دشمن اور غیر ملکی ایجنٹ جیسے مہمل اور مفہوم و معانی سے عاری الفاظ کا سہارا لے رہے ہیں۔

اور جنرل یحیٰی خان؟

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔

یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا۔ پاکستان دولخت ہوگیا، نوے ہزار فوجی دشمن کی قید میں چلے گئے، اور مغربی پاکستان کے محاذ پر بھی بہت بڑے علاقے پر دشمن نے قبضہ کر لیا۔ یحییٰ خان اگرچہ اس دور میں ملک کے بلاشرکت غیرے حکمران رہے لیکن عوامی حلقوں کا یہ تاثر ہے کہ اس کاروائی میں ان کے ساتھ کچھ سیاسی چہرے بھی شریک ہیں اور تن تنہا اتنا کام کرلینا ان کے بس کی بات نہ تھی۔

یہی وجہ ہے کہ قومی حلقے یہ مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ یحییٰ خان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے تاکہ عوام کو یہ معلوم وہ سکے کہ اس جرم عظیم میں ان کے ساتھ کون کون شریک ہے، لیکن ابھی تک اس عوامی مطالبہ کو پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ اور اب حکومت کی طرف سے یحییٰ خان پر مقدمہ چلانے کے عوامی مطالبہ کا یہ جواب عوام کے خدشات میں یقیناً اضافہ اور تقویت کا باعث بنے گا۔ حیرت کی بات ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار یحییٰ خان حراست سے نجات پا چکا ہے اور آخر وقت تک ملک کو متحد رکھنے کی کوشش کرنے والا ولی خان غداری کے فتوؤں کی زد میں ہے۔

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

قبرص کا بحران

قبرص کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں بین الاقوامی استعمار نے عالم اسلام کو الجھائے رکھنے کے لیے جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ کئی بار مسلح تصادم کا باعث بنا ہے اور آج بھی اس کے باعث ترکی اور یونان کے درمیان مسلح جنگ کے خطرات شدید ہوتے جا رہے ہیں۔

قبرص بحیرہ روم کا ایک بڑا جزیرہ ہے جہاں یونانی عیسائی اور ترک مسلمان آباد ہیں۔ عیسائی اکثریت میں ہیں،مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کے درمیان چپقلش مدت سے چلی آرہی ہے۔ ۱۹۶۰ء میں برطانیہ کے قبضہ سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد پادری میکاریوس کی صدارت میں آزاد حکومت قائم ہوئی اور آئین میں مسلمانوں کو نائب صدر کے عہدہ کے علاوہ پارلیمنٹ میں ۳۰ فیصد نمائندگی، سول اور فوجی ملازمتوں میں ۴۰ فیصد حصہ اور خارجی و اقتصادی امور میں حق استرداد دیا گیا۔ یونان نے متعدد بار کوشش کی کہ قبرص کی آزادی کو ختم کر کے اس پر قبضہ کر لیا جائے اور مسلمانوں کو آئینی تحفظات سے محروم کر دیا جائے، لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

اب قبرص میں موجود یونانی فوجیوں نے صدر میکاریوس کی حکومت کا تختہ الٹ کر ترک مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا ہے تاکہ قبرص کو یونان میں ضم کیا جا سکے۔ ترکی حکومت نے پہلے سفارتی سطح پر میکاریوس کی آئینی حکومت کو بحال کرانے اور مسلمانوں کا قتل عام بند کرانے کے لیے کوشش کی مگر اس میں ناکامی کے بعد اس نے جزیرہ میں ترک فوجیں اتار دیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ترک افواج نے قبرص کے دارالحکومت نکوسیا پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ ان مسلمان آبادیوں کا رخ کر رہی ہیں جہاں یونانی افواج مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔

ادھر سلامتی کونسل نے جنگ بندی کی قرارداد منظور کی ہے جسے ترکی حکومت نے قبول کر لیا ہے اور اعلان کیا ہے ہے کہ فوجی کارروائی سے اس کا مقصد امن و امان کو بحال کرنا اور میکاریوس کی آئینی حکومت کو تحفظ دینا تھا جو پورا ہو چکا ہے۔

ہم بہادر ترک افواج کو اس کامیابی پر ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں اور ہمیں بے حد مسرت ہے کہ ہمارے بہادر ترک بھائی قبرص کی مسلم اقلیت کے تحفظ اور جزیرہ کی آئینی حکومت کی بحالی کی منزل کی طرف کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اس موقع پر ہماری دلی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

مسئلہ کشمیر نئے دور میں

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی تجویز پر جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود نے قوم کو خبردار کیا تھا کہ اس سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گا اور یہ تجویز عملاً مسئلہ کشمیر کو دفن کر دینے کے مترادف ہے۔ چنانچہ بھٹو صاحب نے آزادکشمیر کو صوبہ بنانے سے تو اجتناب کیا لیکن آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام اور ’’بالاتر کشمیر کونسل‘‘ پر مشتمل نیا آئینی فارمولا پیش کر کے مذکورہ مقاصد کے لیے نئی راہ اختیار کر لی۔ اس فارمولے کے نتائج و ثمرات رفتہ رفتہ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں مثلاً مسلم کانفرنس اور جمعیۃ علماء آزاد کشمیر نے اسے مسترد کر دیا ہے اور سردار محمد عبد القیوم خان بھی اس پر دستخط کرنے کے بعد ’’سجدہ سہو‘‘ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

ادھر مقبوضہ کشمیر میں ’’کشمیر کونسل‘‘ کے اس فارمولے کے بہانے بعض حلقوں نے بھارت کے ساتھ کشمیر کے باقاعدہ الحاط کی تحریک کو تیز تر کر دیا ہے۔ اور اس طرح کشمیریوں کا حق خود ارادیت دونوں طرف سے بعض افراد کی سیاسی اغراض کا شکار ہوا چاہتا ہے۔

ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے آئینی فارمولے کو واپس لے کر آزاد کشمیر کی سابقہ آزاد حیثیت کو بحال رکھا جائے اور پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو آزادانہ رائے کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا انسانی و جمہوری حق دلوانے کے لیے اپنی جدوجہد کو مؤثر اور تیزتر کر دیا جائے۔