جھوٹے مقدمات کا گھناؤنا کاروبار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۳ء

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گوجرانوالہ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے کہا ہے کہ:

’’مخالفین کو پھنسانے کے لیے ناک اور انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کی ۸۰ فیصد ضربات خودساختہ ہوتی ہیں اور خود ہڈیاں توڑ کر مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں خودساختہ ضربات لگانے اور ہڈیاں توڑنے کے ماہر افراد کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں۔ اور ہڈیاں توڑنے کا گھناؤنا دھندہ کرنے والوں کے خلاف قانون کی خاموشی معاشرے میں فساد کا باعث بن رہی ہے، لوگ معمولی جھگڑوں میں دوسروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی خاطر ایجنٹوں سے مل کر اپنے ناک اور چھوٹی انگلیوں کی ہڈیاں توڑ لیتے ہیں اور ہسپتالوں سے میڈیکل رپورٹ حاصل کر کے مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ڈاکٹر ناتجربہ کاری یا دباؤ کی وجہ سے رزلٹ جاری کر دیتے ہیں اور بے گناہ لوگ اس رزلٹ کو چیلنج کرتے ہیں جس پر سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ ایسی ضربات کو خودساختہ قرار دیتا ہے، لیکن پیشہ ور لوگ ایجنٹوں کی مدد سے ضلعی بورڈ کے فیصلے کو صوبائی بورڈ میں چیلنج کر دیتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر نثار احمد نے جس معاشرتی مرض کی نشاندہی کی ہے وہ ہمارے روزمرہ مشاہدہ کا حصہ ہے اور سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن کوئی ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے۔ خود راقم الحروف اپنے ذاتی دو مشاہدات کو اس کے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک جھگڑے میں، جس کی نوعیت مسلکی تھی، ایک حافظ صاحب ٹوکہ ہاتھ میں پکڑے جامع مسجد آئے اور کہا کہ میرے پاؤں کی ہڈی توڑ دی جائے اور مخالفین کے خلاف مقدمہ ضرور درج کرایا جائے، بڑی مشکل سے ان کے ہاتھ سے ٹوکہ چھین کر انہیں اس حرکت سے روکا گیا۔ جبکہ ایک اور موقع پر اپنے گھر میں چوری کے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ایف آئی آر درج کرانے کے لیے میں نے ایک معروف وکیل صاحب سے، جو فوت ہو چکے ہیں، مشورہ کیا تو انہوں نے ایف آئی آر کا مضمون تحریر کر کے دیا کہ یہ ایف آئی آر آپ خود جا کر تھانے میں درج کرا دیں۔ میں نے اس کی عبارت پڑھی تو وہ سو فیصد جھوٹ اور فرضی کہانی پر مشتمل تھی، میں نے وکیل صاحب سے عرض کیا کہ میرے بھائی اس میں کم از کم پچاس فیصد تو سچ ہو، فرمانے لگے کہ ہماری عدالتوں میں سچ بول کر آپ مقدمہ نہیں لڑ سکتے، یہاں تو جھوٹ ہی بولنا پڑے گا۔ چنانچہ میں نے مقدمہ سے دستبرداری میں ہی عافیت سمجھی۔

انگریزوں نے یہ قانونی نظام شاید اسی لیے ہمیں دیا تھا کہ ہم معاشرتی طور پر اخلاقی دیوالیہ پن کے عادی بنیں اور اس نظام کے نتائج اس کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دے رہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانونی نظام سے نجات حاصل کر کے اسلامی تعلیمات اور شرعی قوانین کی طرف رجوع کیا جائے اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔