فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہماری ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ مارچ ۱۹۸۲ء

اردن کے شاہ حسین نے گزشتہ دنوں ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ عالمِ اسلام میں شیعہ سنی تنازعات کو ہوا دینے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر سازشی عناصر اس سلسلہ میں مصروفِ عمل ہیں۔

اسلام میں ایک جائز حد کے اندر اختلافِ رائے کی افادیت و ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علمی اختلاف کو رحمت قرار دیا ہے۔ لیکن یہ اختلاف وہ ہے جو علمی مسائل میں جائز حدود کے اندر نیک نیتی سے دینی امور کی وضاحت کے لیے کیا جائے۔ علماء، فقہا اور مسلم دانشوروں میں اس اختلاف رائے نے ملتِ اسلامیہ کی ترقی و عروج اور اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ہماری علمی و ملی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور ہم اس پر بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ لیکن اختلاف و نزاع کا وہ پہلو جس نے ملتِ اسلامیہ کو مختلف اور متحارب گروپوں میں تقسیم کیا ہے ہمیشہ سے مذموم رہا ہے اور آج بھی مذموم ہے۔ اسلامی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امتِ مسلمہ کو متحارب فرقوں میں تقسیم کرنے والے اختلافات میں سے بیشتر بلکہ تقریباً سبھی تنازعات کا پس منظر علمی اور دینی نہیں بلکہ سیاسی رہا ہے۔ اور اس نوعیت کے کسی اختلاف اور تنازعہ کے اسباب و محرکات کو بے نقاب کرنے کی کوشش کریں گے تو آپ کو اس کے پس منظر میں دشمنوں کی سازش صاف طور پر جھلکتی ہوئی دکھائی دے گی۔

یہی وجہ ہے کہ ان فرقہ بندیوں اور ان کی بنیاد میں کارفرما تنازعات سے ہمیشہ دشمن قوتوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور جب بھی ملتِ اسلامیہ کسی مشترکہ مقصد کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی ہے دشمن کے خفیہ ہاتھ نے مسلمانوں میں فرقہ وارانہ جھگڑوں کی چنگاری کو ہوا دی ہے۔ برصغیر کی آزادی سے پہلے کی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں، آپ دیکھیں گے کہ علماء حق کی عظیم قوت جب بیرونی استعمار اور مغربی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ میں مصروف تھی عین اس وقت غیر ضروری مسائل اور رسوم و روایات کے تحفظ کے عنوان سے کفر کے فتوؤں کی یلغار ہوئی او رملتِ اسلامیہ کو فرقہ وارانہ کشمکش کا میدانِ کارزار بنا دیا گیا۔ لیکن یہ استعماری سازش اکابر علماء حق کی بصیرت و تدبر کا سامنا نہ کر سکی اور ان عظیم مجاہدین نے اپنا رخ فرنگی اور استعمار ہی کی طرف رکھا اور قافلۂ حریت کی رفتار میں کوئی کمی نہ آنے دی۔

آج بھی یہی صورتحال عالمی اور قومی سطح پر درپیش ہے۔ عالمِ اسلام خود کو منظم کرنے اور اپنے وسائل کے سہارے آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے اور ملتِ اسلامیہ میں مذہبی رجحانات کا فروغ اور اپنے ماضی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ترقی پذیر ہے۔ ان حالات میں اردن کے شاہ حسین کے بقول استعماری قوتیں ملتِ اسلامیہ کو شیعہ سنی اور دیگر فرقہ وارانہ جھگڑوں میں الجھانے کی سازش کر رہی ہیں اور مختلف مقامات پر اس سازش کے عملی نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ قومی سطح پر ملک کے اندر دیکھیں تو بھی صورتحال کچھ اس قسم کی ہے کہ پوری قوم اسلامی نظام کے مؤثر نفاذ اور جمہوری حقوق کی بازیابی کے لیے سیاسی و دینی قوتوں کو یکجا اور متحد دیکھنا چاہتی ہے لیکن فرقہ پرست عناصر قومی تقاضوں اور امنگوں سے بے پرواہ ہو کر فرقہ واریت کی آگ کو اشتعال اور عصبیت کا ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ مساجد پر مخالفانہ قبضہ کی مہم جاری ہے، اوقاف اور دیگر مشترکہ دینی اداروں کی فرقہ وارانہ تقسیم کے مطالبات ہو رہے ہیں، فرقہ وارانہ بنیاد پر ملازمتوں وغیرہ کی تقسیم کے لیے کونسلیں بن رہی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے فرقہ پرستوں کے نزدیک اس قوم کو تین چار حصوں میں تقسیم کر کے آپس میں گتھم گتھا کر دینے کے سوا دین کی خدمت کا اور کوئی میدان باقی نہیں رہ گیا۔

ان حالات میں یہ کہے بغیر کیا چارہ ہے کہ دشمن کا ہاتھ ہمیں ہمارے قومی مقاصد سے دور رکھنے اور آپس میں الجھائے رکھنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ مصروفِ کار ہے۔ اس موقع پر ہم قومی سوچ اور جذبہ رکھنے والے حضرات سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اپنی سوچ، تدبر اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فرقہ پرستوں کی راہ روکنے کی کوشش کریں۔ اور اس آگ کو اس سے پہلے کنٹرول کرنے کا سامان کر لیں کہ یہ پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور پھر سوچ اور تدبر کے بروئے کار لانے کی کوئی صورت خدانخواستہ باقی نہ رہ جائے۔ ہم اپنے مسلک اور ولی اللہی تحریک سے تعلق رکھنے والے علماء اور کارکنوں سے بھی عرض کریں گے کہ جہاں تک اپنے حقوق کے تحفظ کا تعلق ہے اس حق کا استعمال ناگزیر اور ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے اصل ہدف اور مقصد کو سامنے سے نہ ہٹنے دیں۔ اور یہ بات کسی لمحہ نہ بھولیں کہ اس ملک میں ولی اللہی تحریک کا مقصد وحید یہ ہے کہ استعماری نظام کو زندگی کے تمام شعبوں سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ’’فک کل نظام‘‘ کے ولی اللہی اصول کے مطابق عوام کو دینی، معاشی اور معاشرتی حقوق کی مکمل ضمانت پر مبنی اسلامی نظام فراہم کیا جائے۔ اس کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے، دشمن ہمیں مختلف جھگڑوں میں الجھا کر اس مقصد سے غافل کرنا چاہتا ہے لیکن ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ دشمن کی اس چال کو ناکام کرتے ہوئے مکمل اسلامی معاشرہ کے قیام کی منزل کی طرف بڑھتے چلے جائیں۔

درجہ بندی: