پوپ کا بیان ۔ وضاحتیں یا لیپاپوتی؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ ستمبر ۲۰۰۶ء

پاپائے روم نے اس بات پر افسوس اور صدمہ کا اظہار کیا ہے کہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں ان کی تقریر کے بعض حصوں کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ویٹی کن سٹی کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کارڈینل، ٹارسیسیو برٹون کے ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ مسلمان ان کی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق پاپائے روم نے یہ بھی کہا ہے کہ جن الفاظ کے حوالے سے مسلمان اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں وہ ان کے اپنے نہیں بلکہ مینوئیل دوم کے ہیں جو انہوں نے اپنی تقریر میں نقل کیے تھے۔

پاپائے روم کے ترجمان نے یہ وضاحت نہیں کی کہ پوپ نے جو الفاظ کہے یا نقل کیے ان کے نزدیک ان کا اصل مطلب کیا ہے اور وہ ان الفاظ کے ذریعے کیا کہنا چاہتے تھے۔ صرف اتنی بات پر قناعت کی گئی ہے کہ ان الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو ان کا صحیح مطلب سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مینوئیل دوم جس کا حوالہ دے کر پاپائے روم نے اپنے الفاظ کی ذمہ داری اس پر ڈالنے میں عافیت سمجھی ہے ایک بازنطینی حکمران تھا جس کا نام پیلو لوگس بتایا جاتا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی کے اس بازنطینی بادشاہ کے حوالے سے مسیحی روایات میں بتایا جاتا ہے کہ فارس سے آنے والے ایک مسلمان دانشور سے اس کا مکالمہ ہوا جس میں مینوئیل دوم نے اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ:

’’مجھے دکھاؤ محمد نے نئی چیز کیا پیش کی ہے؟ تمہیں صرف ایسی چیزیں ملیں گی جو بری اور غیر انسانی ہیں جیسا کہ محمد کا یہ حکم کہ جس مذہب کی انہوں نے تبلیغ کی ہے اسے تلوار کے ذریعے پھیلایا جائے۔‘‘

پوپ بینی ڈکٹ نے مینوئیل دوم کے مکالمہ کا صرف یہ اقتباس پیش نہیں کیا بلکہ اپنے اس تبصرہ کے ساتھ مذکورہ خطاب میں ان الفاظ کے ساتھ اس کی تائید بھی کی ہے کہ:

’’اسلام کے تصورِ جہاد میں تشدد کا جو عنصر ہے وہ عقل اور خدا کے منصوبے کے خلاف ہے۔‘‘

پاکستان کے ایک مسیحی دانشور ڈاکٹر کنول فیروز نے آج کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں پوپ بینی ڈکٹ کے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ:

’’پوپ نے اس نام نہاد جہاد اور جنگ و جدال اور قتال کو مسترد کیا ہے جو القاعدہ، طالبان اور خودکش حملہ آور اسلام کے نام پر کر رہے ہیں، مگر اسے اسلامی جہاد کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔‘‘

لیکن یہ وضاحت بھی خلافِ واقعہ ہے اس لیے کہ پاپائے روم نے جہاد اور مذہب کے نام پر تشدد کی بات اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے کی ہے اور اپنی تائید میں چودھویں صدی کے جس بازنطینی حکمران کا مقولہ پیش کیا ہے اس کے دور میں القاعدہ، طالبان اور خودکش مجاہدین کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ کے بیان کی جو وضاحتیں پیش کی جا رہی ہیں اور جن توجیہات کے ذریعے ان کے خطاب کے اس حصے کو گول کر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ محض لیپاپوتی ہے اور اصل بات وہی ہے کہ پاپائے روم نے اسلام کے تصور جہاد کو اپنے خطاب میں ہدف بنایا ہے اور وہی بات مذہب کے نام پر کی ہے جو مغرب کے سیاستدان اور حکمران لامذہبیت اور سیکولرازم کے نام پر کر رہے ہیں۔ حالانکہ آسمانی تعلیمات کی بالادستی اور ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے جنگ خود اسرائیلی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے جس کے متعدد حوالے آج کی تحریف شدہ بائبل میں بھی موجود ہیں۔

جہاد کا تصور یہی ہے کہ انسانی معاشرہ میں اللہ تعالیٰ کی بغاوت کو ختم کرنے، آسمانی تعلیمات و احکام کی بالادستی قائم کرنے اور ظلم و جبر اور نا انصافی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی جائے اور اس کے لیے جہاں ضرورت پیش آئے ہتھیار اٹھانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ اسلام کے نزدیک جہاد کا یہی تصور ہے اور یہ جہاد بنی اسرائیل میں بھی موجود رہا ہے۔ قرآن کریم نے بیت المقدس کی فتح کے لیے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی جنگ اور جالوت کے مقابلے میں حضرت طالوت اور حضرت داؤد علیہ السلام کی جس جنگ کا ذکر کیا ہے وہ جہاد ہی تھے جبکہ بائبل نے بھی ان جنگوں کے واقعات قدرے مختلف انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہ جنگیں شریعت موسوی کی بالادستی اور اس دور کے ظالموں، جابروں اور غاصبوں کو زیر کرنے کے لیے تھیں۔

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کوئی جنگ نہیں کی اور اس حوالے سے ہمارے مسیحی دوست مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ مسیحیت امن کا مذہب ہے جس میں مذہب کے لیے جنگ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ حالانکہ بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں پاپائے روم کی تحریک اور اعلان پر مغرب کے مسیحیوں نے مشرق وسطٰی اور بیت المقدس پر قبضے کے لیے جو جنگ کی تھی اور مسلسل دو سو برس تک ان کی یلغار جاری رہی وہ خود مذہب کے نام پر تھی۔ اور مسیحیوں کا سب سے بڑا مذہبی نشان صلیب اس جنگ کا بھی سب سے بڑا نشان تھا جس کی وجہ سے یہ جنگیں صلیبی جنگیں (کروسیڈز) کہلاتی ہیں۔

سیدنا حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں باقی تمام اختلافات سے قطع نظر مسلمانوں اور مسیحیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت عیسٰیؑ جب دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ بھی جنگ کریں گے اور یہودیوں کا خاتمہ ان کے ہاتھوں ہوگا۔ اس لیے یہ کہنا کہ حضرت عیسٰیؑ کے مذہب میں جنگ و قتال نہیں ہے ور وہ صرف امن کی بات کرتے ہیں، اسلام اور مسیحیت دونوں کی تعلیمات اور عقائد کے منافی ہے۔ جنگ و قتال حضرت عیسٰیؑ کی تعلیمات اور حیات مبارکہ کا حصہ ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ ان کی حیات مبارکہ کے دور اول میں اس کی نوبت نہیں آئی، اب دور ثانی میں اس کی نوبت آئے گی تو وہ ہتھیار بھی اٹھائیں گے اور ’’خدا کی بادشاہت‘‘ قائم کرنے کے لیے جنگ بھی کریں گے۔

جہاں تک پاپائے روم یا مینوئیل دوم کی اس بات کا تعلق ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلانے کا حکم دیا تھا، یہ اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق دونوں کے یکسر منافی ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم نے یا جناب رسول اللہ نے کہیں بھی جبرًا کسی فرد یا قوم کو کلمہ نہیں پڑھایا۔ کوئی شخصی واقعہ چودہ سو سال کی تاریخ میں اس نوعیت کا ہوگیا ہو تو وہ ایسا کرنے والے کے ذاتی عمل کی بات ہوگی۔ ورنہ اجتماعی طور پر کسی اسلامی حکومت یا کسی جہادی لشکر کی طرف سے کسی کو تلوار کے زور پر کلمہ پڑھنے اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے مجبور کیا گیا ہو، اس کی کوئی مثال تاریخ سے پیش نہیں کی جا سکتی۔ جبکہ اس کے برعکس یہ تاریخی واقعہ ہے کہ جب مسیحیوں نے اندلس فتح کیا تو ان کی طرف سے واضح طور پر اعلان کیا گیا کہ مسلمان اپنا مذہب ترک کر کے مسیحیت کے دائرے میں داخل ہو جائیں یا ملک چھوڑ دیں ورنہ انہیں تہہ تیغ کر دیا جائے گا۔ اس پر لاکھوں افراد قتل کر دیے گئے، ہزاروں نے وطن چھوڑ دینے کو ترجیح دی اور ہزاروں مسلمان مذہب تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اور اس طرح اسپین کو جبری طور پر پھر سے مسیحی اکثریت کا ملک بنا لیا گیا۔ اس کے مقابلے میں ہندوستان کو دیکھ لیجئے! یہاں مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی اور کئی سو برس تک یہ کیفیت رہی کہ مسلمان یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک سمجھے جاتے تھے لیکن کسی مسلمان حکومت نے اندلس کے فاتح مسیحی بادشاہ فرڈی نینڈ اور ملکہ ازابیلا کی طرح یہاں کی آبادی کو زبردستی اسلام میں داخل کرنے کی مہم نہیں چلائی اور نہ ہی کسی شخص کو اسلام قبول کرنے پر مجبور یا گیا۔

قرآن کریم نے تو صراحت کے ساتھ اس بات کا حکم دیا ہے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کہ دین کے قبول کرنے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ’’من شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر‘‘ جس کا جی چاہے وہ ایمان لائے اور جس کا جی چاہے وہ کفر اختیار کرے۔ ایمان یا کفر میں کوئی راستہ اختیار کرنا خالصتاً کسی بھی شخص کا ذاتی اختیار ہے اور اس کے لیے جبر کی کوئی بھی صورت اختیار کرنے کو اسلام جائز نہیں سمجھتا۔ لیکن کسی فرد یا قوم کا اسلام قبول کرنا یا نہ کرنا اور بات ہے اور انسانی معاشرے میں اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی بغاوت اور ظلم و جبر کے خلاف صف آرا ہونا اور عدل و انصاف کی آسمانی تعلیمات کے فروغ کے لیے جہاد کرنا اس سے بالکل مختلف امر ہے اور اسی کو جہاد کہتے ہیں۔ صرف اتنی بات کا فرق ہے کہ جب مسیحیت کا دور تھا اور انسانی معاشرے میں خدائی تعلیمات اور وحیٔ آسمانی پر مبنی عدل و انصاف کا پرچم اس کے ہاتھ میں تھا تو یہ جہاد مسیحیت کرتی رہی ہے اور اس نے حق و انصاف کی بالادستی کے لیے اس روئے زمین پر بیسیوں معرکے بپا کیے ہیں۔ لیکن اب آسمانی تعلیمات اور وحیٔ الٰہی پر مبنی عدل و انصاف کا پرچم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اور اب وہ ظلم و جبر اور تشدد و استعمار کے خاتمے کے لیے مصروف پیکار ہیں اس لیے انہی کی جدوجہد اور جنگ جہاد کہلائے گی۔ پاپائے روم کو یہ صورتحال ہضم نہیں ہو رہی اور وہ اسے ’’عدم تشدد‘‘ کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے نہ حقائق پر پردہ پوشی ہو سکتی ہے اور نہ ہی تاریخ کا عمل رک سکتا ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ مغربی تعصب کی عینک اتار کر کھلی آنکھوں کے ساتھ دنیا کے معروضی حالات کا جائزہ لیں۔

درجہ بندی: