مسجد اقصیٰ کی تاریخ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اکتوبر ۲۰۰۰ء

روزنامہ ’’الاہرام‘‘ قاہرہ نے دس اکتوبر ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک مخصوص صفحہ پر کچھ رپورٹیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن کی روشنی میں مسجد اقصیٰ کی تاریخ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

بیت المقدس کی تاریخ تو بہت قدیم ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی ایک منزل ہونے کے علاوہ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد کم و بیش سترہ ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ بھی رہا ہے جس کی وجہ سے اسے قبلۂ اول کہا جاتا ہے۔ لیکن مسجد صخرہ کی تاریخ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور سے شروع ہوتی ہے۔ صخرہ کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے اس مقام سے معراج کی رات کی طرف سفر کا آغاز کیا تھا اور اسی یادگار کو باقی رکھنے کے لیے خلیفہ عبد الملک نے وہاں باقاعدہ مسجد تعمیر کرا دی تھی۔ روزنامہ الاہرام نے اس سلسلہ میں دو کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔ ایک الاستاذ عارف باشا العارف کی ’’تاریخ القدس‘‘ ہے جو چار ضخیم جلدوں میں ہے اور اسے مسجد اقصیٰ کی تاریخ پر سب سے مستند کتاب مانا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری کتاب ’’المسجد فی الاسلام‘‘ الشیخ طہٰ الولی کی تحریر کردہ ہے اور اس میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں تاریخ وار واقعات پیش کیے گئے ہیں۔ مندرجہ ذیل معلومات انہی دو کتابوں سے بطور خلاصہ مرتب کی گئی ہیں:

  • ۷۴ھ میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا اور ۸۶ھ میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں مکمل ہوئی۔ اس پر مصر کا سات سال کا خراج صرف ہوا۔ رجاء بن حیوۃ الکندی اور یزید بن سلام تعمیرات کے انچارج تھے۔ تعمیر مکمل ہوئی تو مسجد کی تعمیر کے لیے مخصوص رقم میں سے ایک لاکھ دینار بچ گئے جو خلیفہ نے دونوں نگرانوں کو بطور انعام دینا چاہے مگر دونوں نے یہ کہہ کر انعام لینے سے انکار کر دیا کہ ہمارا حق تو یہ بنتا ہے کہ ہم اپنی بیویوں کے زیور بیچ کر مسجد پر لگا دیں۔ چنانچہ خلیفہ نے سونے کے ان دیناروں کو ڈھلوا کر مسجد کے دروازوں پر اس سونے کی کی چادریں چڑھا دیں۔
  • ۱۳۰ھ میں زلزلہ آیا اور مختلف شہروں میں بہت نقصانات ہوئے تو اس وقت کے خلیفہ ابو جعفر نے مسجد صخرہ کے دروازوں سے یہ چادریں اتروا کر پھر ے سکوں میں ڈھلوا لیں اور لوگوں میں تقسیم کر دیے۔
  • ۱۶۳ھ میں خلیفہ مہدی بن جعفر نے مسجد کی حدود میں ترمیم کر کے چوڑائی کم کر دی اور طول میں اضافہ کر دیا۔
  • ۴۲۶ھ میں خلیفہ الظاہر نے اپنے زمانہ میں زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کے باعث مسجد کی مرمت کرائی اور اس کے دور میں گنبد بنایا گیا جو اب تک چلا آرہا ہے۔ اور اس نے مسجد کے شمال کی جانب سات دروازے بنائے۔
  • ۴۹۲ھ میں صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور مسجد صخرہ کو کنیسا میں تبدیل کر کے اس کے ایک حصے کو گھوڑوں کا اصطبل اور کچھ حصہ کو گودام بنا لیا۔ کہتے ہیں کہ اس دور میں گنبد صخرہ کے ٹکڑے توڑ کر صلیبی اپنے علاقوں میں لے جاتے تھے اور سونے کے عوض انہیں فروخت کرتے تھے۔
  • ۴۹۲ھ سے ۵۸۳ھ تک بیت المقدس صلیبیوں کی تحویل میں رہا جبکہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ۵۸۳ھ میں اسے ان کے قبضہ سے آزاد کرایا۔ اس کی مرمت کرانے کے علاوہ صلیبی دور کے تمام اثرات کو ختم کیا اور اہل حلب کا خاص طور پر بنایا ہوا منبر مسجد میں نصب کرایا۔
  • ۵۹۵ھ میں ایوبی خاندان نے ہی پہلی بار مسجد کو گلاب کے پانی سے غسل دیا۔
  • ۶۳۴ھ میں ملک عیسیٰ نے اور ۶۸۶ھ میں ملک المنصور سیف الدین نے مسجد کی عمارت میں اضافہ کیا اور ضروری مرمت کی۔ جبکہ ۸۶۵ھ میں ناظر الحرمین الامیر عبد العزیز العراقی کے دور میں اس کی ازسرنو مرمت کی گئی۔
  • ۹۶۹ھ سے ۱۳۴۱ھ تک بیت المقدس اور مسجد صخرہ ترکی کے خلفائے عثمانی کی تحویل میں رہیں اور وقتاً وقتاً اس میں ترمیمات ہوتی رہیں۔
  • ۱۹۲۲ عیسوی میں مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی نے ترک انجینئر کمال الدین بک کی خدمات حاصل کر کے مسجد کی ازسرنو تعمیر و مرمت کرائی جس پر والی حجاز شریف مکہ حسین بن علی کے خصوصی عطیہ کے علاوہ فلسطین، مصر، شام، کویت، بحرین اور امریکہ میں رہنے والے عربوں کے عطیات اور القدس کے لیے مخصوص وقف کی گئی آمدنی صرف کی گئی۔
  • ۱۹۴۵ء میں یہودیوں نے مسجد میں بم پھینکے جس سے باب اوسط گر گیا اور قبہ کو سخت نقصان پہنچا۔
  • ۱۹۶۷ء میں مسجد اقصیٰ پر قبضہ کے بعد یہودیوں نے پھر مسجد کو نقصان پہنچایا اور باب اوسط کو گرا دیا۔
  • ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کا خوفناک حادثہ ہوا، آگ قبہ کو اٹھانے والے ستونوں تک پہنچ گئی اور قبہ کے جل جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ اس موقع پر یہودیوں نے مسجد کے منبر کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

روزنامہ الاہرام کے ان مضامین میں بتایا گیا ہے کہ:

  • مسجد کے چار مئذنہ تھے: باب المغاریہ، باب السلسلۃ، باب الغوانمہ، باب الاسیاط۔ ’’مئذنہ‘‘ اذان گاہوں کو کہتے ہیں جو پرانے دور میں مسجدوں میں ہوا کرتی تھیں۔ مؤذن ان میں کھڑے ہو کر اذان دیا کرتے تھے اور بڑی مسجدوں میں چاروں کونوں پر الگ الگ اذان گاہیں ہوتی تھیں۔
  • مسجد کے دس دروازے ہیں: الاسیاط، الحطۃ، شرف الانبیاء، الغوانمہ، الناظر، الجلید، القطانین، المتوضا، السلسلۃ، المغاربہ، جبکہ چار دروازے مقفل رہتے ہیں: السکینۃ، الاقصیٰ، التوبۃ، البراق۔
  • مسجد کی پیمائش یہ دی گئی ہے: ۶۵۰ میٹر / ۲۶۰ میٹر۔مشرقی جانب سے ۴۷۴ میٹر، مغربی جانب سے ۴۹۰ میٹر، شمال سے ۳۲۱ میٹر اور قبلہ کی جانب سے ۲۸۳ میٹر۔

روزنامہ الاہرام میں مسجد اقصیٰ کے فضائل پر بھی ایک مستقل مضمون دیا گیا ہے اور مختلف مراسلوں میں مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے جن میں فلسطینیوں پر یہودیوں کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے شہری حقوق کی بحالی، مقبوضہ علاقوں کی بازیابی اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے عرب حکومتوں کو جرأت مندانہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔

درجہ بندی: