ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں / مباحث کتاب الایمان مع تسہیل و توضیح مقدمہ صحیح مسلم / کشف خارجیت / مبادی تاریخ الفلسفہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اپریل ۱۹۸۷ء

تالیف: شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر۔ صفحات: ۵۶۔ کتابت وطباعت معیاری۔ ناشر: مکتبہ حنفیہ، گلی ڈاک خانہ والی، اردو بازار گوجرانوالہ۔ قیمت: ۶ روپے۔

گزشتہ سال اکتوبر کے دوران دارالعلوم دیوبند میں عالمی ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں پاکستان سے سرکردہ علماء کرام کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر بعض رکاوٹوں کے باعث بیشتر حضرات شرکت نہ کر سکے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے اس کانفرنس کے لیے مندرجہ بالا عنوان پر مقالہ تحریر فرمایا مگر نہ شرکت فرما سکے اور نہ ہی مقالہ وہاں بھجوانے کا اہتمام ہو سکا۔ چنانچہ یہ مقالہ مکتبہ حنفیہ گوجرانوالہ نے شائع کر دیا ہے۔

مقالہ کی علمی اہمیت کے بارے میں حضرت شیخ الحدیث مدظلہ العالی کا اسم گرامی ہی کافی ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص تحقیقی انداز میں ختم نبوت کے مسئلہ کو اجاگر کیا ہے اور بہت سے نادر پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے علماء اور کارکنوں کے لیے بطور خاص یہ ایک علمی تحفہ ہے جس کا مطالعہ انہیں بہت سے معلوماتی ہتھیاروں سے لیس کر دے گا۔

مباحث کتاب الایمان مع تسہیل و توضیح مقدمہ صحیح مسلم

تالیف: مولانا صوفی عبد الحمید سواتی۔ ناشر: ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ۔ صفحات: ۱۱۶۔ کتابت و طباعت معیاری۔ قیمت: ۱۰ روپے۔

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی ایک عرصہ سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کو مسلم شریف پڑھا رہے ہیں۔ زیر نظر رسالہ میں انہوں نے مسلم شریف کے مقدمہ کے مشکل مقامات کی توضیح و تشریح کے ساتھ ساتھ کتاب الایمان کے اہم مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔ علم حدیث کے طلبہ اور مدرسین کے لیے اس کا مطالعہ بہت مفید اور معلومات افزا ہوگا۔

کشف خارجیت

تالیف: حضرت مولانا قاضی مظہر حسین۔ صفحات: ۵۶۶۔ کتابت و طباعت معیاری۔ قیمت مجلد: تیس روپے

حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ العالی امیر تحریک خدام اہل السنۃ پاکستان مذہب اہل سنت والجماعت کی اشاعت و توضیح کے محاذ پر پوری دل جمعی کے ساتھ مصروف عمل ہیں اور ان کی جدوجہد کے عملی دائرہ کار کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کے باوجود ان کی علمی خدمات اس باب میں ٹھوس اور قابل قدر ہیں۔

حضرات صحابہ کرام و اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں افراط و تفریط سے ہٹ کر ائمہ اہل السنت نے جو متوازن اور حقیقت پسندانہ موقف اور طرزعمل اختیار کیا ہے وہ اہل السنۃ کا خصوصی طرۂ امتیاز ہے۔ لیکن ہر دور میں افراط و تفریط کا شکار ہونے والے حضرات جذباتیت یا انتہاپسندی کا شکار ہو کر اس جادۂ اعتدال سے امت کو ہٹانے کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اور ہر زمانہ میں اہل السنۃ کے ذمہ دار حضرات نے افراط و تفریط دونوں کے اثرات کا ازالہ کرتے ہوئے حقیقت حال کی وضاحت کی ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دفاع ایک صحیح العقیدہ سنی مسلمان کی دینی حمیت کا تقاضہ ہے لیکن یہ دفاع اگر حد اعتدال سے تجاوز کر کے اکابر اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں منفی احساسات کے اجاگر کرنے کا ذریعہ بن جائے تو یہیں سے خارجیت کے جراثیم جنم لیتے ہیں۔

حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ نے زیرنظر کتاب میں مولانا محمد علی سعید آبادی کے کتابچہ ’’اصل حقیقت‘‘ کا جواب دیتے ہوئے اسی پہلو کو اجاگر کیا ہے اور خارجیت کے نئے رجحانات کی نشاندہی کر کے ان کا علمی تعاقب کیا ہے جو بلاشبہ ایک اہم دینی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔

مبادی تاریخ الفلسفہ از مولانا ابوالکلام آزادؒ

تعریب: مولانا عبد الحمید سواتی۔ ناشر: مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ۔ صفحات: ۳۲۔ زبان: عربی۔ قیمت: چار روپے۔

حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ برصغیر پاک و ہند بنگلہ دیش کی وہ نابغۂ روز ہستی ہیں جنہوں نے علم و فضل کے کم و بیش ہر شعبہ میں اپنی صلاحیتوں اور کمال کا لوہا منوایا ہے اور مختلف علوم و فنون میں ان کے قلم گوہر بار نے جولانیاں دکھائی ہیں۔ زیرنظر رسالہ میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے تاریخ فلسفہ کے مبادیات پر بحث کی ہے اور یونان اور ہند کے فلسفہ کے مختلف ارتقائی مدارج پر روشنی ڈالی ہے۔ اصل مضمون انگریزی میں ہے جس کے اردو ترجمہ سے حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ نے اسے عربی میں منتقل کیا ہے اور اس پر ایک مختصر پیش لفظ بھی عربی میں تحریر فرمایا ہے۔

مولانا آزادؒ نے علماء کی ایک جماعت کو مشرق و مغرب کے فلسفہ کی تاریخ مرتب کرنے پر مامور فرمایا اور انہی کے مرتب کردہ کتاب ’’تاریخ فلسفہ شرق و غرب‘‘ پر بطور دیباچہ یہ وقیع مضمون تحریر کیا۔ فلسفہ سے دلچسپی رکھنے والے علماء و طلبہ کے لیے اس کا مطالعہ بہت مفید ہوگا۔