سعودی عرب کا تاریخی پس منظر اور حالیہ شاہی کشمکش

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ نومبر ۲۰۱۷ء

برادر اسلامی ملک ’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘ میں اس وقت جو صورتحال ہے اس کے بارے میں حرمین شریفین سے عقیدت اور اس کی وجہ سے سعودی عرب سے محبت رکھنے والا دنیا کر ہر مسلمان پریشان بلکہ مضطرب ہے۔ کرپشن کے خاتمہ کے عنوان سے شاہی خاندان میں باہمی کشمکش، گرفتاریوں، کم از کم ایک شہزادہ کے شہید ہو جانے اور متعدد سرکردہ علماء کرام کے زیر حراست ہونے کی خبریں اس پریشانی اور اضطراب میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ مگر اس حوالہ سے کچھ عرض کرنے سے قبل سعودی سلطنت کے قیام اور اس کے پس منظر کے بارے میں چند زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا ضروری دکھائی دیتا ہے۔

فیروز سنز لاہور کے شائع کردہ ’’اردو انسائیکلو پیڈیا‘‘ کے مقالہ نگار رقم طراز ہیں:

’’سعودی عرب کی جدید تاریخ کا آغاز اٹھارہویں صدی سے ہوتا ہے۔ 1747ء میں سعودی خاندان کے ایک بزرگ محمد بن عبد الوہاب نے جزیرہ نمائے عرب کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا اور نجد میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ 1811ء میں ترک گورنر محمد علی نے نجد پر چڑھائی کر کے وہابی تحریک کو کچل دیا۔ سولہویں صدی کے اوائل سے جزیرہ نمائے عرب سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا۔ کچھ عرصے بعد عارضی طور پر اس تحریک کا احیاء ہوا لیکن جلد ہی رشید خاندان نے وسطی عرب پر قبضہ کر کے خاندان سعود کو جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا۔ 1902ء میں عبد العزیز بن سعود نے ریاض فتح کیا اور 1913ء میں الاحصاء کا علاقہ بھی ترکوں سے آزاد کرا لیا۔ 1924ء میں حسین شریف مکہ نے حجاز میں اپنی خلافت کا اعلان کیا۔ ابن سعود نے شریف مکہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور حجاز بھی خاندان سعود کے زیر تسلط آگیا۔ 1927ء میں نجد پر قبضہ ہوگیا۔ 1932ء میں ابن سعود نے نجد، الاحصاء اور حجاز پر مشتمل سلطنت سعودی عرب کی بنیاد رکھی۔‘‘

جبکہ ’’شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ کے مقالہ نگار نے سعودی عرب کا تعارف یوں کرایا ہے:

’’سرکاری نام ’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘، اس کا رقبہ 8 لاکھ 65 ہزار مربع میل یعنی 19 لاکھ 60 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ موجودہ آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے، مسلمانوں کی تعداد سو فیصد ہے، شرح خواندگی 62 فیصد ہے، دارالحکومت ریاض کی آبادی 30 لاکھ کے قریب ہے۔ سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے بیشتر علاقے پر مشتمل ہے، اس کے مغرب میں بحیرۂ قلزم اور مشرق میں خلیج عرب واقع ہیں۔ اردن، عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، سلطنت عمان، یمن اور بحرین پڑوسی ممالک ہیں اور ان سب کی سرحدیں سعودی عرب سے ملتی ہیں۔ سعودی عرب میں دنیا کا سب سے بڑا ریگستان ’’ربع الخالی‘‘ واقع ہے۔‘‘

مذکورہ مقالہ نگار سعودی عرب کی سیاسی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’1517ء میں خلافت عثمانیہ نے اس پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ 1715ء میں محمد بن عبد الوہاب نے اسلام کی تطہیر و اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک پورے جزیرہ نمائے عرب میں پھیل گئی۔ 1818ء میں وہابیوں کو عثمانیوں نے اپنے حلیف مصریوں کے ساتھ مل کر اقتدار سے محروم کر دیا اور یوں وہابی تحریک کو ضعف پہنچا۔ انیسویں صدی کے اوائل 1811ء میں وہابی تحریک کو مصر کے فوجی دستے نے محمد علی کی قیادت میں کچل دیا تھا۔ کچھ عرصہ کے لیے عارضی طور پر تحریک پھر ابھرتی ہے لیکن سے کچل دیا جاتا ہے۔ 1902ء تا 1932ء جلاوطن وہابی لیڈر ابن مسعود ترکی کے صوبے احساء، حجاز اور عسیر کے علاقوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور سعودی عرب کی نئی مملکت قائم کرتے ہیں۔‘‘

سعودی عرب کے قیام کے پس منظر اور سیاسی تاریخ کے بارے میں یہ چند معلومات وہ ہیں جو فیروز سنز اردو انسائیکلو پیڈیا اور شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگاروں نے فراہم کی ہیں جن کی صحت و سقم کے وہ خود ذمہ دار ہیں مگر ان سے ایک ہلکا سا نقشہ ضرور سامنے آجاتا ہے۔ جبکہ ہماری معلومات کے مطابق پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر جب عرب علاقوں میں خلافت عثمانیہ کا اثر و رسوخ ختم ہوگیا تو جزیرہ نمائے عرب کی صورتحال یہ تھی کہ ایک طرف معروف مصلح بزرگ الشیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمہ اللہ تعالیٰ کی اصلاحی تحریک زوروں پر تھی جو توحید کے فروغ اور رسوم و بدعات کے خاتمہ کے عنوان سے مسلسل آگے بڑھ رہی تھی اور دوسری طرف نجد کا قدیمی حکمران خاندان ’’آل سعود‘‘ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے پیش رفت کر رہا تھا جو خلافت عثمانیہ کی پسپائی کی صورت میں پیدا ہوگیا تھا۔ اس سے قبل آل سعود کی اپنے علاقہ میں خلافت عثمانیہ اور اس کے حلیفوں مصر کے محمد علی پاشا اور نجد کے آل رشید کے ساتھ معرکہ آرائی چلتی آرہی تھی اور اب حجاز میں خلافت عثمانیہ کے باغی گورنر حسین شریف مکہ کی طرف سے اپنی خلافت کے اعلان کے بعد آل سعود نے ادھر کا رخ بھی کر لیا تھا ۔اس صورتحال میں آل سعود نے اس وقت کی عالمی طاقت برطانیہ عظمیٰ کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے موجودہ خطے کا اقتدار سنبھالا۔ مذکورہ معاہدہ کی رو سے اس علاقے میں آل سعود کے خاندانی اقتدار کا حق تسلیم کرتے ہوئے برطانیہ عظمیٰ نے اس کی حمایت و تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔

اس دوران الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کے خاندان اور سعودی خاندان میں باہمی سمجھوتہ ہوا جو آل الشیخ اور آل سعود کا معاہدہ کہلاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے نظام کو یوں تقسیم کیا گیا کہ سلطنت و انتظام کے تمام معاملات آل سعود کے پاس رہیں گے جبکہ تعلیمی و مذہبی امور اور عدالتی معاملات میں آل شیخ کی راہ نمائی اور بالاتری کو تسلیم کر لیا گیا اور قرآن و سنت کو ملک کا بنیادی قانون قرار دیا گیا۔ اس کے بعد سے عملی صورتحال یہ چلی آرہی ہے کہ سیاسی نظام ’’خاندانی بادشاہت‘‘ ہے جبکہ قانونی معاملات میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری کا اہتمام ہے اور اس دائرے میں آل شیخ اور آل سعود باہمی تعاون کے ساتھ ملکی نظام چلاتے آرہے ہیں۔

اس پس منظر میں سعودی عرب کی موجودہ صورتحال کے حوالہ سے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں تک شاہی خاندان کی باہمی کشمکش کا تعلق ہے ہمیں اس سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے اس لیے کہ بادشاہت کی تاریخ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور شاہی خاندان کے معاملات اسی طرح طے پاتے رہے ہیں۔ خود ہمارے ہاں مغل بادشاہت میں شاہجہان، اورنگزیب عالمگیر، دارا شکوہ اور اس خاندان کے دیگر افراد کی کشمکش اس پر شاہد ہے۔ البتہ سعودی عرب کے تہذیبی و ثقافتی ماحول اور دینی شناخت و امتیاز کے حوالہ سے ہم ضرور پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پریشانی کو عالمی سطح پر محسوس کیا جائے بالخصوص عالم اسلام کی سیاسی، علمی، فکری اور دینی قیادت اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر صورتحال کے غلط رخ پر جانے کے امکانات کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ کیونکہ سعودی عرب کی معیشت و تجارت اور سیاست و حکومت کے ساتھ ساتھ تعلیمی و ثقافتی دائروں میں بھی بیرونی مداخلت اور اثرات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔

ہمارے خیال میں اس وقت حرمین شریفین کی عظمت وتقدس اور اس وجہ سے پورے عالم اسلام کی سعودی عرب کے ساتھ محبت کے تناظر میں تین امور پر فوری توجہ دینا پوری امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

  1. حرمین شریفین کا تقدس اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ضروری ہے۔
  2. آل شیخ اور آل سعود کے باہمی معاہدہ اور قانونی و تعلیمی نظام میں قرآن و سنت کی بالادستی کو بہرصورت برقرار رکھا جانا چاہیے اور سعودی نظام حکومت میں عوامی نمائندگی کی راہ ہموار کی جانی چاہیے۔
  3. سعودی عرب کو مسلسل بیرونی مداخلت کے بھنور سے نکالنا نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری ملت اسلامیہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

ہم توقع رکھتے ہیں کہ کم از کم ارباب فکر و دانش اور اصحاب علم و فضل اس طرف ضرو رتوجہ دیں گے۔

درجہ بندی: