حضرت مولانا عبد الحقؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ ستمبر ۱۹۸۸ء

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، نہ کوئی پیغمبرؑ اس سے محفوظ رہا اور نہ کوئی ولی اور قطب، اس نے آنا ہوتا ہے اور یہ آ کر رہتی ہے۔ یوں تو لاکھوں افراد اس دار فانی سے گزر جاتے ہیں مگر بعض موتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک عالم کو یتیم اور بے سہارا کر جاتی ہیں اور ایسی موت کی کسک اور تکلیف صدیوں تک محسوس ہوتی ہے۔ شیخ الحدیث محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا عبدا لحقؒ بھی انہی چیدہ شخصیات میں شامل ہیں جن کی موت سے علمی دنیا خود کو یتیم اور بے سہارا محسوس کر رہی ہے۔

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ علم کا ایک روشن چراغ تھے جن سے ہزاروں لوگوں نے روشنی حاصل کی اور پھر خود آسمانِ علم پر جگمگانے لگے۔ جس طرح شیخ الحدیثؒ کی شخصیت ہمہ صفت تھی اسی طرح ان کے شاگردوں نے اپنے استاد کی پیروی کرتے ہوئے ہر شعبہ میں اپنا مقام بنایا اور اپنی حیثیت منوائی۔ ان سے فیض یافتگان کی فہرست تو بہت طویل ہے، مشتِ از خروار سے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا سید اسعد مدنی، مولانا محمد یونس خالص، مولانا جلال الدین حقانی، مولانا سمیع الحق، مولانا مفتی غلام فرید، مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی، مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبد القیوم حقانی کا تذکرہ بے جا نہیں ہوگا۔ ان حضرات نے اپنے اپنے شعبہ میں قومی ہی نہیں، بین الاقوامی شہرت پائی ہے۔

حضرت شیخ الحدیثؒ کی عصر حاضر کے مسائل پر بہت گہری اور عمیق نظر تھی۔ ان کی قومی اسمبلی کی تقاریر اور بحثیں، دارالعلوم حقانیہ میں دوران تدریس کے مباحث اور جامع مسجد کے خطابات سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ علمی و دینی حلقوں میں تو وہ ایک سند اور اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہی تھے مگر سیاسی اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں بھی ان کی بات کو بہت وزن حاصل تھا۔ قومی اسمبلی کے لیے ۱۹۷۰ء، ۱۹۷۷ء، ۱۹۸۵ء میں منتخب ہو کر گئے اور انہیں پشاور یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی خصوصی ڈگری بھی دے رکھی تھی۔

حضرت شیخ الحدیثؒ نے حاصل ہونے والی اس قدر عوامی تائید و حمایت کو کبھی ذاتی منفعت اور مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ وہ گروہی تعصبات اور فرقہ وارانہ تنگ نظری سے بالاتر تھے۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی قوت کو نفاذ شریعت کے لیے استعمال کیا۔ وہ اپنی ذات کو بھی نفاذ شریعت کے لیے مختص کر چکے تھے حتیٰ کہ آخری عمر میں پیرانہ سالی ، نقاہت اور شدید علالت کے باوجود متحدہ شریعت محاذ کی سربراہی کو قبول کیا اور نفاذ شریعت کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند فرمائیں اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔