نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ مارچ ۲۰۱۹ء

گزشتہ ماہ کے آخری عشرہ کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اکادمی کے تحت ایک اہم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اقدامات کا مرحلہ وار جائزہ لیا گیا اور کانفرنس کی طرف سے اس سلسلہ میں سفارشات پیش کی گئیں۔ شریعہ اکادمی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء اس وقیع علمی و تحقیقی کاوش پر شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے علمی و فکری سطح پر ایک سنجیدہ کام دیکھنے میں آیا، خدا کرے کہ متعلقہ ادارے اس کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد میں بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، آمین یا رب العالمین۔ کانفرنس کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ اور سفارشات درج ذیل ہیں:

’’اسلام کی تعلیمات جہاد: عصری مسائل و اشکالات‘‘ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کا یہ اختتامی سیشن ہے۔ اس ورکشاپ میں ملک کے نامور اسکالرز، علماء، جامعات کے اساتذہ نے بھرپور تیاری کے ساتھ حصہ لیا۔

شرکاء میں دینی مدارس کے اساتذہ، علماء، یونیورسٹی کے اساتذہ و طلباء، اسلامی یونیورسٹی اور فاطمہ جناح یونیورسٹی کی طالبات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمائندگی تھی۔

افتتاحی اور اختتامی نشست کے علاوہ مجموعی لحاظ سے چار نشستیں تھیں۔

پہلی نشست کا عنوان : تصور جہاد قرآن و سنت کی روشنی میں۔

دوسری نشست کا عنوان: جہاد سے متعلق معاصر فکری رجحانات کا جائزہ۔

تیسری نشست کا عنوان: جہاد سے متعلق دیگر نظریات کا جائزہ۔

چوتھی نشست کا عنوان: اسلام میں سمع و طاعت اور خروج کا تصور۔

مقالہ نگار حضرات نے اپنے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اور سفارشات بھی پیش کیں، جن کا خلاصہ یہ ہے:

  1. اس بات پر زور دیا گیا کہ امت مسلمہ کی وحدت ہر چیز پر مقدم ہے۔ امت کو فکری انتشار سے بچانے میں ارباب منبر و محراب اور اہل دانش کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
  2. یہ امت مسلمہ "امت وسط" ہے۔ "اعتدال" اس کا بنیادی وصف ہے۔ اس لیے غلو، افراط و تفریط اور شدت پسندی پر مبنی خیالات اور نظریات رکھنے والے عناصر کے مقابلہ میں اسلام کا صحیح موقف واضح کرنا اس وقت کی اشد ضرورت ہے۔
  3. جہاد اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے ثابت شدہ مقدس فریضہ ہے۔
  4. جہاد کے اصل مقاصد کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
  5. میڈیا میں اسلامی اصطلاحات کو اس کے صحیح تناظر میں استعمال کیا جائے۔ جہاد، شہادت، شہید، غازی وغیرہ۔
  6. جہاد کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کو علمی انداز میں واضح کیا جائے۔
  7. جہاد افغانستان اور دیگر جہادی تحریکوں کے نتائج پر غور کیا جائے۔
  8. جہاد کے بارے میں صحیح العقیدہ اور انصاف پسند مصنفین کی کتابوں کی اشاعت کا انتظام کیا جائے۔
  9. مغرب میں موجود شبہات اور اعتراضات کا جواب دیا جائے۔
  10. آدابِ جہاد اور فقہ جہاد کے بارے میں تعلیمات عام کی جائیں۔
  11. اسلام میں سمع و طاعت کا تصور واضح کیا جائے۔
  12. اسلام میں خروج کا صحیح تصور اجاگر کیا جائے۔

شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے سہ روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد ۲۶ تا ۲۸ فروری ۲۰۱۹ء علامہ اقبال آڈیٹوریم فیصل مسجد کیمپس میں ہوا۔ کانفرنس میں اعلٰی عدلیہ اور دستوری اداروں سے وابستہ افراد کی شرکت ایک نمایاں وصف رہا۔ عزت مآب جسٹس جواد ایس خواجہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے افتتاحی تقریب کی صدارت فرمائی، جبکہ عزت مآب جسٹس قاضی فائز عیسٰی جج سپریم کورٹ آف پاکستان، عزت مآب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان جج فیڈرل شریعت کورٹ، جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، اور جناب علامہ زاہد الراشدی نے مختلف مجالس کی صدارت کر کے فاضلانہ صدارتی خطبے ارشاد فرمائے۔ مقالہ جات، علمی گفتگو اور سوالات و جوابات کی روشنی میں کانفرنس درج ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔

  1. قیام پاکستان کے بعد آئینی اور ادارہ جاتی سطح پر قوانین کو اسلامیانے کی قابل قدر کاوشیں ہوئی ہیں جنہیں یہ کانفرنس خراج تحسین پیش کرتی ہے اور اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ اس ضمن میں ہمارا دامن خالی ہے۔
  2. کانفرنس میں پارلیمنٹ، اسلامی نظریاتی کونسل، عدلیہ بالخصوص وفاقی شرعی عدالت، بین الاقوامی یونیورسٹی، ادارہ تحقیقات اسلامی اور شریعہ اکیڈمی کی اسلامائزیشن کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، جس سے ہمیں یہ جائزہ لینے کا موقع ملا کہ اسلامی نقطہ نظر سے قانون سازی کے اس عمل میں ہم کیا حاصل کر سکے ہیں اور کیا کچھ کرنا باقی ہے۔
  3. ان اداروں کی کاوشوں کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ۲۸۸۰ قوانین اور وفاقی شرعی عدالت تقریباً ۱۸۰۰ قوانین کا جائزہ لے چکی ہے، جبکہ شریعہ اکیڈمی طویل دورانیے کے ساٹھ کورسز عدلیہ کے ارکان کے لیے اور اتنے ہی تربیتی کورسز وکلاء کے لیے منعقد کر چکی ہے۔
  4. بلاشبہ پاکستان میں قوانین کو اسلامیانے میں تمام آئینی اداروں کا کردار ہے، بالخصوص عدلیہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار ناقابل فراموش ہے، لیکن ان اداروں میں باہم ہم آہنگی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ کانفرنس ان کاوشوں کو باہم مربوط کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے ایک رابطہ کمیٹی کے قیام کی سفارش کرتی ہے۔
  5. مقالہ نگار حضرات نے دستوری اداروں، بالخصوص وفاقی شرعی عدالت میں قوانین کے اسلامیانے کے عمل کے طریق کار، منہج اور اسلوب (اپروچز) پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس کے مثبت و منفی پہلووں کا ناقدانہ جائزہ بھی لیا اور اس بات پر زور دیا کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے طریق کار کو مزید بہتر اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
  6. کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاست کا آئینی اور دستوری لحاظ سے یہ فرض ہے کہ وہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالے جیسا کہ قرارداد مقاصد اور دیگر دفعات میں مذکور ہے۔
  7. کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلامی قوانین محض سزاؤں کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی تبدیلی کا عنوان ہے۔ اس لیے ان دیگر شعبوں کو بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ اسلامی قوانین کا موثر نفاذ ہو سکے۔
  8. ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری اور سستا انصاف فراہم کرے، جبکہ موجودہ قوانین اور نظام عدل فوری انصاف کی فراہمی میں سست روی کا شکار ہے جس کا اعتراف عدلیہ سے وابستہ افراد بھی کرتے ہیں۔ اس لیے متبادل راستہ اسلامی قوانین کا ہی ہے جن کی مدد سے فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہے۔
  9. قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے عمل میں عدلیہ کی توجہ زیادہ تر اس پہلو پر رہی ہے کہ ان قوانین میں کونسے امور اسلامی احکام سے متصادم ہیں، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتیں قوانین کی تعبیر و تشریح کا عمل بھی اسلامی اصولوں کی روشنی میں کریں۔
  10. کانفرنس نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ قوانین کو اسلامیانے کے عمل میں چند اہم رکاوٹیں رہی ہیں۔ مثلاً بین الاقوامی معاہدات، قرآن و سنت کی تعلیمات سے عدم آگہی، نظام تعلیم بالخصوص قانون کی تعلیم میں اسلامی تعلیمات کی کمی، انتظامیہ کی عدم استعداد وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور دیگر اداروں سے وابستہ افراد کی اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر تربیت کی جائے۔