دستور پاکستان اور عالمی لابیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۴ء

ملک کے دستور و آئین کے خلاف جو قوتیں ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں، موجودہ سیاسی بحران کی طوالت سے ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ شاید اس مہم کا اصل مقصد یہی ہو۔ ہم نہیں سمجھتے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ارادتاً وطن عزیز کو بے آئین کر کے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور جغرافیائی وحدت کو داؤ پر لگا سکتے ہیں، لیکن غیر شعوری طور پر بہت کچھ ہو سکتا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ’’عرب بہار‘‘ کے سیاسی اور عوامی ریلے سے عالمی منصوبہ بندوں نے جو نتائج انتہائی انجینئرڈ طریقہ سے حاصل کر لیے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی نتیجہ غیر متوقع نہیں ہے۔ اس لیے کہ منصوبہ بند بھی وہی ہیں، ایجنڈا بھی وہی ہے اور طریق واردات میں بھی کچھ زیادہ فرق دکھائی نہیں دے رہا۔

وطن عزیز کو ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے دساتیر کی منسوخی کے بعد ۱۹۷۳ء میں یہ متفقہ دستور میسر آیا تھا جس کی تشکیل میں اس وقت کی تمام جمہوری اور نمائندہ سیاسی قوتیں شریک تھیں۔ یہ دستور تمام سیاسی، مذہبی اور علاقائی طبقات کی تائید و حمایت سے نافذ ہوا تھا، جبکہ ملک کی جمہوری، سیاسی اور مذہبی قوتیں آج بھی اس پر متفق اور اس کی بقا و تحفظ کے لیے کمر بستہ ہیں، لیکن کچھ لوگوں نے مختلف حوالوں سے ابتداء سے ہی اس کی مخالفت کو اپنا مشن اور وطیرہ بنا رکھا ہے اور پوری قوم کے ایک طرف ہونے کے باوجود وہ دستور کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ محاذ آرائی در اصل عالمی فورم پر ہے اور پاکستان کی نظریاتی شناخت اور قومی وحدت کے مخالف عالمی حلقوں کو ملک کے اندر ایسے ’’بوسٹر‘‘ ہمیشہ میسر رہے ہیں جو دستور پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے اور اس کی خدانخواستہ ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔

بین الاقوامی سیکولر حلقوں کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کے دستور کی بنیاد پاکستانی قوم کی مذہبی شناخت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ پر ہے اور اس میں قرآن و سنت کے قوانین کے نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے، جو اگرچہ عملاً دکھائی نہیں دے رہی لیکن دستور پاکستان میں اس کی موجودگی بھی ان عناصر کو برداشت نہیں ہے اور اس کے خلاف زہر اگلتے رہنے کا کوئی موقع بھی یہ لوگ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ دوسری طرف پاکستانی عوام کا موقف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور قرآن و سنت پر ایمان رکھتے ہیں جس کا بنیادی تقاضہ مسلم معاشرہ میں شرعی احکام کی عملداری ہے۔ پھر پاکستان کے نام سے الگ ملک کے قیام کا مقصد اور بنیاد ہی جنوبی ایشیا کے اس خطہ کے مسلمانوں کی الگ مذہبی اور تہذیبی شناخت ہے، جس سے دست برداری کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسی حوالہ سے خود ان کے اپنے منتخب نمائندوں نے یہ دستور متفقہ طور پر تشکیل دیا ہے جو پاکستانی قوم کے نظریاتی تشخص کے ساتھ ساتھ ان کے جمہوری موقف اور جذبات کا بھی آئینہ دار ہے۔ اور اس کی مخالفت پاکستانی عوام کی نظریاتی شناخت کے ساتھ ساتھ ان کے جمہوری موقف اور حق کی بھی نفی ہے جو ان کے لیے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔

پاکستان کے دستور کی نظریاتی بنیادوں کے ساتھ ساتھ عالمی سیکولر حلقوں کو ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا قانون بھی مسلسل چبھ رہا ہے، حالانکہ یہ مسلمہ اصولوں کے مطابق ہے اور ملک کی منتخب پارلیمنٹ کا منظور کردہ ہے۔ مگر جمہوریت اور رائے عامہ کے نام نہاد علمبردار پاکستانی عوام کا یہ حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ اور ان کے منتخب نمائندے اپنی قوم کے اجتماعی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے دستور و قانون کی تشکیل و تدوین کر لیں، اور اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت کے دستوری تحفظ کا اہتمام کر سکیں۔

قادیانی گروہ بھی ملک و قوم اور دستور و قانون کے خلاف اسی عالمی مہم کا حصہ ہے اور عالمی سیکولر قوتوں کے شریک کار بلکہ آلۂ کار کی حیثیت سے اس دستور و قانون کے خلاف محاذ آرائی کے لیے بین الاقوامی کمین گاہوں میں مورچہ بند ہے۔ قادیانی گروہ کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا اور امت مسلمہ کے عالمی سطح پر اجتماعی موقف کی بھی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ۱۹۷۴ء کے دوران جب ملک کی منتخب پارلیمنٹ قادیانی مسئلہ پر بحث کر رہی تھی اس وقت کے قادیانی سربراہ مرزا ناصر احمد نے پارلیمنٹ کے فلور پر اس موقف کا اعلان کیا تھا کہ دنیا میں صرف ان کا گروہ مسلمان ہے اور ان کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لانے والے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کو مسلمان کہلانے کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لانے کے باعث (نعوذ باللہ) دائرہ اسلام سے ان کے بقول خارج ہو چکے ہیں۔

آج کی عالمی سیکولر قوتیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف قادیانی گروہ کے اس موقف کی حمایت کر رہی ہیں اور ان کے ساتھ مل کر پاکستان کے دستور کو ختم کرانا چاہتی ہیں۔ اس لیے ہم عمران خان اور طاہر القادری سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ ملک کے نظام اور دستور کے خلاف اپنی مہم کو اس حد تک آگے نہیں لے جائیں گے کہ اس سے قادیانیوں اور ان کے ہمنواؤں کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہوتی ہو۔