انتہا پسندی اور اس کی خودساختہ تعریف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ جولائی ۲۰۱۱ء

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ کا جون کا آخری شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے اور اس میں انتہا پسندی کے حوالے سے شائع ہونے والی دو خبریں توجہ کو اپنی طرف مبذول کیے ہوئے ہیں۔

ایک یہ کہ امریکی کانگریس کی ’’ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی‘‘ نے گزشتہ دنوں اس مسئلہ پر انکوائری کا اہتمام کیا کہ امریکہ کی جیلوں میں محبوس مسلمان قیدیوں میں انتہاپسندی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں ان پر کیسے قابو پایا جائے؟ اس سلسلہ میں ٹیکساس سے کانگریس کی ڈیموکریٹک خاتون ممبر شیلا جیکسن اور نیویارک ڈیپارٹمنٹ آف کمیونیکیشن سروسز کے سابق انسپکٹر برائے کریمینل انٹیلی جنس یونٹ مسٹر پیٹرک ڈینلوے کا ایک مکالمہ بھی اس رپورٹ کا حصہ ہے جس میں مسز شیلا جیکسن کا کہنا ہے کہ مسیحی نوجوانوں میں بنیاد پرستی اور انتہاپسندی پر بھی نظر رکھی چاہیے کیونکہ وہ بھی امریکہ کی بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔ شیلاجیکسن نے ایک مسیحی نوجوان کا ذکر کیا جو اسقاط حمل کے کلینک کو اڑانا چاہتا تھا اور اس کا یہ اقدام اس امریکی قانون کے خلاف تھا جس کے تحت خواتین کو اسقاط حمل کا حق دیا جاتا ہے۔ شیلاجیکسن نے کہا کہ ہمیں وسیع تر نقطۂ نظر سے سوچنا چاہیے اور تجزیہ بھی کرنا چاہیے کیونکہ عیسائی انتہاپسند بھی امریکہ کے نام کو خراب کر سکتے ہیں اور مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس پر مسٹر پیٹرک ڈینلوے نے کہا کہ ان کے علم میں یہ بات قطعاً نہیں ہے کہ عیسائی انتہا پسندوں کو غیر ملکی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے یا انہیں بیرونی ممالک سے فنڈز ملتے ہیں۔ جبکہ شیلا جیکسن نے کہا کہ فیصلہ طلب بات یہ ہے کہ ان کا منصوبہ امریکی قوانین کو سبوتاژ کرنے کا ہے یا نہیں۔

جہاں تک امریکی جیلوں میں قبول اسلام کے واقعات اور مجرموں کے اسلامی تعلیمات کے ذریعے جرم سے اصلاح کی طرف متوجہ ہونے کی بات ہے اس کا رجحان بہت پرانا ہے جو روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاہ فام امریکی نومسلموں کے معروف لیڈر مالکم شہباز شہیدؒ نے بھی جیل میں اسلام قبول کیا تھا۔ یہ نصف صدی پہلے کا قصہ ہے جب وہ مالکم لٹل کے نام سے چوروں کی ایک ٹولی کے لیڈر کے طور پر جیل میں تھے اور عالیجاہ محمد سے ملاقات کے دوران ان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا، پھر مالکم شہباز کے نام سے ایک مبلغ اور داعی اسلام کے طور پر ان کے ساتھ شریک کار ہوگئے تھے۔ عالیجاہ محمد خود بھی نومسلم تھے اور اس بات کے داعی تھے کہ امریکہ میں افریقہ سے لا کر آباد کیے جانے والے سیاہ فاموں کی اکثریت مسلمان تھی اور انہیں زبردستی مسیحی بنایا گیا تھا اس لیے انہیں اسلام کی طرف واپس لوٹ جانا چاہیے جو ان کا اصل مذہب ہے۔ مگر عالیجاہ نے اس کے لیے نبوت کا دعویٰ ضروری سمجھا اور بعض من گھڑت عقائد بھی اسلام میں شامل کر دیے جس سے مذہب کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا۔

مالکم شہباز شہید نے کچھ عرصہ عالیجاہ محمد کے ساتھ ان کے دست راست کے طور پر کام کیا مگر حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے دوران انہیں اصل اسلامی عقائد سے آگاہی حاصل ہوئی تو انہوں نے عالیجاہ محمد کے من گھڑت اسلام سے توبہ کر کے ۱۹۶۴ء میں اصل اسلامی عقائد اختیار کر لیے۔ مگر اس کے صرف ایک سال بعد ۱۹۶۵ء میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ’’مالکم شہباز شہید مسجد‘‘ کے نام سے ان کا مرکز آج بھی کام کر رہا ہے جہاں مجھے ایک بار حاضری کا موقع مل چکا ہے۔

آج مالکم شہباز شہیدؒ کے ہزاروں بلکہ لاکھوں پیروکار امریکہ کے مختلف حصوں میں موجود ہیں اور اسلامی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہیں اور اس سب کچھ کی بنیاد جیل پر ہے کہ انہوں نے جیل میں اسلام قبول کیا اور ان کا رخ جرم سے اصلاح کی طرف تبدیل ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ سے امریکی جیلوں میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے کہ مسلمان قیدی دینی تعلیمات پر عملدرآمد کی طرف رجوع کر رہے ہیں، ان میں نماز روزے کی پابندی فروغ پا رہی ہے اور حلال و حرام کے فرق کا ذوق بیدار ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں میں قبول اسلام کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں جسے امریکی حکام مسلم بنیاد پرستی کے فروغ کا عنوان دے کر اس پر پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس کی روک تھام کی تدبیریں سوچ رہے ہیں۔ مگر ٹیکساس سے امریکی کانگریس کی خاتون رکن شیلا جیکسن نے بجا طور پر توجہ دلائی ہے کہ مذہب کی طرف واپسی اور مذہبی تعلیمات کے ساتھ کمٹمنٹ صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ مسیحیوں میں بھی فروغ پا رہی ہے اور ان میں بھی ایسے انتہا پسند پیدا ہو رہے ہیں جو شدت پسندانہ جذبات رکھتے ہیں اور ان کے اظہار کے لیے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

دوسری رپورٹ وسط ایشیا کے مسلمان ملک تاجکستان کے بارے میں ہے جہاں کی حکومت نے ۱۸ سال سے کم عمر نوجوانوں پر مساجد اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں میں جانے پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ اس کے خیال میں اس سے مذہبی انتہاپسندی کے رجحانات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ تاجکستان وسطی ایشیا کی ان مسلم ریاستوں میں سے ہے جو کم و بیش پون صدی تک کمیونسٹ سوویت یونین کے زیر تسلط رہنے کے بعد جہاد افغانستان کے نتیجے میں آزاد ہوئی ہیں۔ اس ریاست میں مسلمان آبادی نوے فیصد ہے مگر دستوری طور پر یہ سیکولر ریاست ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ تقریباً پون صدی کا عرصہ اور کم از کم تین نسلیں جبری لامذہبیت کا شکار رہنے کے بعد چوتھی نسل میں مذہب کے جراثیم بالکل ختم ہوچکے ہوں گے۔ یہ بات کسی اور مذہب کے بارے میں تو سچ ہو سکتی ہے بلکہ مشاہدے میں بھی آچکی ہے مگر اسلام کے حوالے سے یہ سوچنا اسلام کے مزاج اور خاصیت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے، جو جبری لامذہبیت کا سائبان سر سے ہٹتے ہی پورے وسط ایشیا میں آشکارا ہوگیا ہے اور ساری دنیا نے یہ منظر دیکھا ہے کہ ریاستی جبر و تشدد کے ذریعے زیرزمین چلا جانے والا مذہب پھر سے زمین کے اوپر آگیا ہے اور سیکولر حکومتوں کو اس کا راستہ روکنے کے لیے نوجوانوں کے مسجد میں جانے پر پابندی لگانا پڑ رہی ہے حتیٰ کہ تاجکستان کی حکومت نے قانون نافذ کر دیا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کا کوئی نوجوان مسجد، چرچ یا کسی بھی دوسری مذہبی عبادت گاہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

مسئلہ امریکہ میں ہو یا تاجکستان میں یا پھر دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں ہو، یہ سوال سب جگہ مشترکہ ہے کہ جس چیز کو آج کی دنیا نے مذہبی انتہاپسندی کا ٹائٹل دے رکھا ہے اسے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ اور یہ بات بھی سب میں مشترک ہے کہ ہر جگہ اس مقصد میں ناکامی ہو رہی ہے اور تمام تر رکاوٹوں اور دفاعی اقدامات کے باوجود انسانی سوسائٹی میں مذہب کی طرف واپسی بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ آج کی دنیا مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کی خودساختہ تعریف طے کر کے اس کے پیچھے لٹھ اٹھائے پھر رہی ہے۔ مذہب اور مذہبی تعلیمات کی طرف واپسی کو بنیاد پرستی اور انتہاپسندی، جبکہ استعماری قوتوں کے جبر و استبداد کے خلاف ردعمل کو دہشت گردی کا نام دے دیا گیا ہے حالانکہ یہ دونوں فطری چیزیں ہیں۔ مذہب انسان کی فطری، روحانی اور نفسیاتی ضرورت ہے جس سے انسانی سوسائٹی کو کسی صورت میں دور نہیں رکھا جا سکتا۔ اور جبرواستبداد کے خلاف ردعمل بھی انسانی فطرت کا حصہ ہے اور اس بات پر کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ جبر کو روکے بغیر اس کے ردعمل کو روکنے کا عمل فطرت کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہوتا ہے۔

جن قوتوں نے جبر، دباؤ، لابنگ اور پراپیگنڈا کے زور پر دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہ سمجھنے کا منظر قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن آخر کب تک؟ اگر کمیونسٹ سوویت یونین میں ایک گوربا چوف موجود تھا جس نے فطری اور زمینی حقائق پر مصنوعی طور پر ڈالے گئے پردوں کو چاک کر کے اصل منظر کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا تو کیا سرمایہ دارانہ مغرب کی کوکھ بانجھ ہو چکی ہے کہ اس میں ایک گورباچوف کو جنم دینے کی صلاحیت بھی نہیں رہی؟