مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۱۹۹۰ء

گزشتہ روز امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر مجاہدہ کے ہرمینسن گوجرانوالہ تشریف لائیں، ان کا سابقہ نام مارسیا ہے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سن ڈیگوسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی امور کی پروفیسر ہیں۔ان کے خاوند ملک محمد علوی ان کے ہمراہ تھے۔ علوی صاحب وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اور پندرہ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ ڈاکٹر مجاہدہ پیدائشی طورپر کنیڈین ہیں اور ایک عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ نے کم وبیش دس سال قبل اسلام قبول کیا، عربی زبان سیکھی، ار دو اور فارسی سے بھی آشنائی حاصل کی،امام ولی اللہ دہلویؒ کے مذہبی نظریات پر برکلے یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ان دنوں تذکرہ نویسی کے موضوع پر اپنے ایک مقالہ کی تیاری کے لیے سکالرشپ پر پاکستان آئی ہوئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ پر پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تیاری کے دوران انہیں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحب مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی بعض تصانیف سے استفادہ کا موقع ملا اور اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر انہیں یہ شوق ہوا کہ حضرت صوفی صاحب مدظلہ سے براہ راست ملاقات کریں اور ان سے علمی استفادہ کریں۔

۱۷ فروری کو مدرسہ نصرۃ العلوم کی لائبریری میں ڈاکٹر مجاہدہ موصوفہ کی حضرت صوفی صاحب سے ملاقات ہوئی جس میں ملک محمد علوی صاحب اور راقم الحروف بھی شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت صوفی صاحب نے ڈاکٹر مجاہدہ سے سوال کیا کہ آج کے دور میں جبکہ مسلمانوں کی اجتماعی حالت باعث کشش نہیں ہے انہیں اسلام کی طرف رغبت کیسے ہوئی اور انہوں نے کس چیز سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا؟ ڈاکٹر مجاہدہ نے جواب دیا کہ انہیں ایک عرصہ سے روحانی سکون کی تلاش تھی اور وہ روحانی طورپر ایک خلا محسوس کررہی تھی، روح کے لیے سکون کی تلاش میں انہوں نے متعدد سفر کیے، اس دوران جبکہ وہ سپین (اندلس) میں تھیں مراکش ریڈیو سے انہیں متعدد بار قرآن کریم کی تلاوت سننے کا موقع ملا اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ جس روحانی سکون کی تلاش میں ہیں وہ اس کلام میں ہے۔ انہیں عربی زبان سے بھی دلچسپی تھی اس لیے انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اور قرآن کریم کے اس مطالعہ نے انہیں ہدایت کی منزل سے ہمکنار کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر دہلی میں تھیں تو حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ تعالٰی کے مزار پر گئیں وہاں انہوں نے ایک عجیب قسم کے روحانی سکون کی فضا محسوس کی جس سے انہیں تصوف اور سلوک سے دلچسپی پیدا ہوئی۔

ڈاکٹر مجاہدہ نے بتایا کہ انہوں نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معروف تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کا انگلش میں ترجمہ شروع کیا ہے، ایک جلد کا ترجمہ وہ مکمل کرچکی ہیں اور دوسری جلد پر کام جاری ہے۔ نیز انہوں نے پی ایچ ڈی کے لیے حضرت شاہ ولی اللہؒ پر چوتھا مقالہ لکھا ہے جسے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے انگلش ترجمہ کے مقدمہ کے طور پر شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے انگلش میں حضرت شاہ ولی اللہؒ پر چند مقالات لکھے ہیں جو مختلف جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔

حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے ساتھ ایک گھنٹہ کی یہ نشست انتہائی معلوماتی اور ایمان افروز تھی۔ نو مسلم کنیڈین خاتون نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پرسوالات کیے جن پر حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر مجاہدہ حضرت صوفی صاحب سے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور کام پر گفتگو کر رہی تھیں اور میرا ذہن اس سوال کے گرد گھوم رہا تھا کہ اسے اسلام کا اعجاز کہاجائے یا شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کرامت کہ اللہ رب العزت دہلی سے ہزارہا میل دور کیلی فورنیا کی ایک یونیورسٹی میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور تعلیمات کی اشاعت اور تعارف کا ایک ایسے دور میں انتظام کر رہا ہے جبکہ دنیا کا معاشرہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی دی ہوئی مادرپدر آزادی اور کمیونزم کے مسلط کردہ اجتماعی جبر کی حشر سامانیوں سے تنگ آچکا ہے، اور کسی ایسے معتدل اور متوازن نظام کی تلاش میں ہے جو بے راہ روی اور جبر کے درمیان صراط مستقیم کی حیثیت رکھتا ہو۔ یہ نظام بلاشبہ اسلام کا عادلانہ نظام ہے اور اسے جس طرح انسانی معاشرے کے لیے اجتماعی نظام کے طورپر شاہ ولی اللہؒ نے پیش کیا ہے یقیناً وہی فلسفہ مغربی جمہوریت، کیپٹل ازم اور کمیونزم کا نظریاتی طور پر سامنا کر سکتا ہے اور وہ وقت قریب آگیا ہے جب ولی اللہی فلسفہ ایک زندہ اور متحرک قوت کے طور پر نظام اسلام کے احیاء ونفاذ کا ذریعہ بنے گا، ان شاء اللہ العزیز۔

ڈاکٹر مجاہدہ کو ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے منصوبہ سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر بے حد مسرت کا اظہار کیا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اس منصوبہ کے لیے ان سے جس قسم کی تعاون کی ضرورت ہوگی وہ اس میں خوشی اور سعادت محسوس کریں گی۔