کراچی: علم اور ابلاغ / بحث و مباحثہ / تفسیری منصوبہ / بچوں کی تعلیم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ مارچ ۲۰۰۶ء

مدرسہ نصرۃ العلوم میں سہ ماہی امتحان کے بعد دو تین چھٹیوں کی گنجائش تھی، میں نے یہ تین روز کراچی میں گزارنے کا پروگرام بنا لیا کہ اسباق کے دوران لمبے سفر کی گنجائش نہیں ملتی۔ ۶ مارچ پیر کو رات کراچی پہنچا اور ۱۰ مارچ کو صبح واپسی ہوئی، اس دوران مختلف حضرات سے ملاقاتیں ہوئیں اور متعدد دینی اجتماعات اور فکری نشستوں میں حاضری کا موقع ملا۔

حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی نے پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن میں ’’تحفظ ناموس رسالت کانفرس‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا جو ۷ مارچ کو مغرب کے بعد انہی کی صدارت میں انعقاد پذیر ہوئی اور اس میں راقم الحروف کے علاوہ حضرت مولانا اسفند یار خان، حضرت مولانا زرولی خان، بریگیڈیئر (ر) قاری فیوض الرحمان، مولانا عبدالرشید انصاری، مولانا قاری حضرت ولی اور دوسرے علماء کرام نے خطاب کیا۔ جامعہ انوار القرآن میں ہی درجہ تخصص کے طلبہ کے لیے دونوں روز صبح نماز فجر کے بعد خصوصی کلاس کا اہتمام تھا جس میں ’’مغرب سے مکالمہ کی ضرورت، ترجیحات اور تقاضے‘‘ کے عنوان سے گفتگو ہوئی۔ اسی عنوان پر جامعۃ الرشید کے اساتذہ کی نشست میں اسی روز شام کو گفتگو کی، دونوں محافل میں پیش کی گئی گزارشات کا خلاصہ ایک الگ کالم کی صورت میں پیش کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ جامعۃ الرشید میں تخصص کی مختلف کلاسوں کے شرکاء کے ساتھ ایک الگ نشست ہوئی جس میں حصول علم اور ابلاغ کے حوالہ سے بات چیت کی اور فضلاء سے عرض کیا کہ ابلاغ کے لیے علم کی تکمیل ضروری ہے۔ اگر علم مکمل نہیں ہوگا تو ابلاغ ادھورا اور ناقص ہوگا جو فائدہ کے بجائے نقصان کا باعث بنتا ہے، لیکن اگر علم ہوگا اور ابلاغ نہیں ہوگا تو کتمان علم کی بات ہوگی جس پر قرآن کریم نے سخت عذاب کی وعید بیان کی ہے۔ حصول علم میں دو باتیں ضروری ہیں: ایک یہ کہ علم میں رسوخ اور فن میں مہارت ہو اور دوسری یہ کہ معلومات میں وسعت، تنوع اور ثقاہت ہو۔ جبکہ ابلاغ میں یہ ضروری ہے کہ زبان اور اسلوب دونوں سادہ اور عام فہم ہوں کیونکہ اگر مخاطب کے فہم تک رسائی نہیں ہو گی تو ابلاغ کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ میں نے تخصص کے کورس کے شرکاء سے گزارش کی کہ وہ ان ضروریات کو سمجھیں اور ان کو سامنے رکھتے ہوئے خود کو مختلف شعبوں میں دین و ملت کی خدمت کے لیے تیار کریں۔

جامعۃ الرشید کی اس نشست میں ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کی پالیسی کے حوالہ سے ایک سوال ہوا۔ ماہنامہ الشریعہ اکتوبر ۱۹۸۹ء سے پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے، اس کا مدیر مسئول میں خود ہوں جبکہ ادارت کی ذمہ داری حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے سپرد ہے۔ اس کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس میں مختلف حلقوں کی بعض تحریریں شائع ہوتی ہیں جو آپس میں متضاد بھی ہوتی ہیں اور بعض مضامین متعدد قارئین کے نزدیک قابل اعتراض ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں عرض کیا کہ اس سلسلہ میں کنفیوژن صرف اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ الشریعہ کو مسلکی ترجمان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ الشریعہ مختلف دینی وعلمی عنوانات پر بحث و مباحثہ کا ایک فورم ہے جس کے ذریعہ کسی بھی مسئلہ پر قارئین کے مثبت اور منفی دونوں قسم کے مضامین پیش کیے جاتے ہیں اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جس مسئلہ پر بحث ہو رہی ہے اس پر مختلف مؤقف اور ان کے دلائل براہ راست قارئین کے سامنے پیش کیے جائیں۔ یہ مکالمہ اور مباحثہ کا صحیح اسلوب ہے اور الشریعہ علمی و فکری مسائل پر مباحثہ کے ایک فورم کے طور پر خدمات سر انجام دے رہا ہے کہ وہ اس انداز پر الجھن کا شکار ہونے کے بجائے مباحثہ میں شریک ہوں اور اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کریں کیونکہ مباحثہ اور مکالمہ کی روایت اسی طرح آگے بڑھتی ہے جو آج کی ضرورت ہے۔

جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی میں بھی حاضری ہوئی، جامعہ کے اساتذہ کی جماعت ان دنوں قرآن کریم کی ایک نئی تفسیر پر کام کر رہی ہے جس میں مشاورت کے درجہ میں مجھ سے بھی ان کا رابطہ ہے۔ جامعہ بنوریہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم صاحب کی خواہش ہے کہ ایک ایسی تفسیر قرآن کریم سامنے آئے جو اسلوب، معلومات اور قرآنی معارف کے اعتبار سے آج کی ضرورت پوری کر سکتی ہو اور علماء کرام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے استفادہ کا ذریعہ بھی بنے۔ اس حوالہ سے اردو میں متعدد تفاسیر موجود ہیں لیکن قرآن کے بحر ناپیدا کنار میں غوطہ زنی اور نت نئے موتی نکالنے کا عمل ہر دور میں جاری رہے گا۔ اس لیے اس سلسلہ میں کسی بھی کوشش کو حرف آخر قرار نہیں دیا جاسکتا اور کسی بھی نئی کوشش کی ضرورت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جامعہ کے اساتذہ اور مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم کے ساتھ تفسیر قرآن کریم کے سلسلہ میں ایک مجلس ہوئی اور اب تک ہونے والے کام کا جائزہ لیا گیا۔ اس روز جامعہ کے امتحانات ہو رہے تھے، مختلف شعبوں میں امتحانات کا نظم دیکھ کر خوشی ہوئی۔

اقرأ روضۃ الاطفال میں حاضری ہوئی جو ہمارے عزیز اور شہید دوست مفتی جمیل خانؒ کی یادگار اور صدقۂ جاریہ ہے۔ مولانا مفتی خالد محمود نے بتایا کہ حسن اتفاق سے اقرأ روضۃ الاطفال کی ملک بھر کی شاخوں کے ناظمین مشاورت کے لیے جمع ہیں، ان سے مختصر گفتگو ہوجائے۔ چنانچہ ان سے گزارش کی کہ آپ حضرات اقرأ روضۃ الاطفال کے ذریعے ایک اہم دینی و ملی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اس وقت انسانی سوسائٹی میں وحی الٰہی کے ساتھ عام لوگوں کا رابطہ قائم کرنے کی مہم میں مصروف ہیں جو بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور ملی ضرورت کی تکمیل بھی آپ حضرات کے ہاتھوں ہورہی ہے، اس پر میں نے ایک واقعہ ذکر کیا کہ اب سے کوئی ربع صدی قبل گوجرانوالہ کے ایک مخیر دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ ہمارے دینی مدارس میں جو طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ زیادہ تر کن علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ صوبہ سرحد، کشمیر اور پنجاب کے مغربی اور جنوبی اضلاع سے ان کا تعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ بھی زیادہ تر انہی علاقوں سے ہیں۔ کہنے لگے کہ کیا ہمارا کام صرف چندہ دینا ہی ہے؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ جب ہم چندہ دیتے ہیں، خرچ کرتے ہیں تو ہمارے علاقے کے بچوں کے لیے ان مدارس میں دینی تعلیم کا اہتمام کیوں نہیں ہوتا؟ میں نے گزارش کی کہ یہا ں کے لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم نہیں دلواتے۔ انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب اس کی وجہ پر آپ نے غور کیا؟ میں نے عرض کیا کہ آپ بتا دیں۔ کہنے لگے کہ ہم اپنے بچوں کو دین کے ساتھ دنیا بھی پڑھانا چاہتے ہیں، آپ اپنی تعلیم میں دونوں باتوں کو شامل کر لیں پھر ہم سے شکوہ کریں کہ ہم اپنے بچوں کو دین کیوں نہیں پڑھاتے۔ اس پس منظر میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اقرأ روضۃ الاطفال اور اس قسم کے دوسرے بہت سے ادارے ایک اہم ملی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آپ حضرات کو اسی جذبہ کے ساتھ اپنے کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔

اقرأ روضۃ الاطفال کے بعد حضرت مولانا سید فضل الرحمان کے ہاں حاضری ہوئی جو نقشبندی سلسلہ کے معروف روحانی پیشوا حضر ت مولانا سید زاور حسین شاہ صاحبؒ کے فرزند ہیں اور علمی ذوق سے بہرہ ور بزرگ ہیں۔ سیرت نبویؐ ان کا خاص موضوع ہے اور اپنے اس محبوب عنوان پر مسلسل مصروف عمل رہتے ہیں۔ ان کے فرزند ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمان سے بھی ملاقات ہوئی جن سے ملنے کو ایک عرصہ سے جی چاہتا تھا اس لیے کہ سیرت نبویؐ پر اس فاضل نوجوان کی تحریریں اور محنت کا اسلوب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور مستقبل کے حوالے سے امید قائم رہتی ہے کہ علم وتحقیق اور ذوق و اسلوب کا میدان ان شاء اللہ تعالیٰ خالی نہیں رہے گا۔ ’’السیرۃ‘‘ کے نام سے ایک معیاری اور تحقیقی ششماہی مجلہ ان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے اور ماہنامہ ’’مسیحائی‘‘ کراچی کی ادارت بھی ان کے ذمہ ہے جس کا سیرت النبی نمبر اس موقع پر انہوں نے مرحمت کیا جو معیاری مضامین کا ایک حسین گلدستہ ہے۔ حافظ عزیز الرحمان سے مل کر دلی خوشی ہوئی اور دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ ’’مستقبل کی اس امید‘‘ کو نظر بد سے بچائیں، آمین یا رب العامین۔

مجلس علمی کراچی حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا محمد طاسینؒ کی حسین یادگار ہے۔ ایک عرصہ تک مجلس علمی کا دفتر اور لائبریری ٹاور میں رہی، اس دور میں حضرت مولانا محمد طاسینؒ کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل کر چکا ہوں۔ اب یہ لائبریری اور دفتر بنوری ٹاؤن میں جمشید روڈ پر ہے۔ حضرت مولانا محمد طاسینؒ کی علمی خدمات بالخصوص اسلامی اقتصادیات پر ان کا تحقیقی کام آ ج کے دور کا ایک اہم علمی اثاثہ ہے۔ ان کے فرزند جناب عامر طاسین اس علمی اثاثہ کو نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی دعوت پر مجلس علمی میں حاضری ہوئی اور تحفظ ناموس رسالت کے تقاضوں کے حوالے سے ارباب علم و دانش کی ایک نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ میں نے عرض کیا کہ یورپ کے بعض اخبارات کی طرف سے جناب نبی کریمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کے خلاف دنیا بھر کے عام مسلمانوں نے اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کر دیا ہے لیکن اس حوالہ سے جو علمی اور فکری سوالات اٹھے ہیں اور آزادی رائے، برداشت، تنقید اور ابلاغ کی حدود جیسے عنوانات پر بحث و مباحثہ کا آغاز ہوا ہے، اہل علم و دانش کو ان کی طرف سنجیدہ توجہ دینی چاہیے اور علم، منطق اور استدلال کے ساتھ اسلام کے موقف کی وضاحت کرنی چاہیے۔

معین آباد لانڈھی کے جامعہ عثمانیہ میں مولانا حافظ اقبال اللہ ہزاروی کی دعوت پر حاضری ہوئی اور علماء و طلبہ کی ایک نشست سے خطاب کیا۔

میرا جمعرات کو شام واپسی کا ارادہ تھا لیکن حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے جمعرات کو رات جامع مسجد فاروق اعظم حیدرآباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ’’ تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس‘‘ میں میری شرکت کا وعدہ کر لیا تھا اس لیے واپسی کی سیٹ تبدیل کرائی، رات مولانا قاری حسین احمد درخواستی کے ہمراہ حیدر آباد حاضری ہوئی۔ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ احباب سے ملاقاتیں ہوئیں، رات ہی رات کراچی واپسی کی اور آٹھ بجے کی فلائیٹ سے واپسی کر کے جمعہ تک بمشکل گوجرانوالہ پہنچ پایا۔ اس سفر میں اے آر وائی کے چینل سے سیرت النبیؐ کے حوالہ سے ’’حجۃ الوداع‘‘ کے موضوع پر گفتگو بھی ہوئی اور اس طرح کراچی کا تین روزہ دورہ اختتام پذیر ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کے ہمارے ساتھی مولانا محمد ادریس مجھ سے پہلے کراچی پہنچ چکے تھے اور میرے ساتھ شریک سفر رہے۔