وزیر اوقاف پنجاب رانا اقبال احمد خان اور نظام شریعت کنونشن کی کسک

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ جنوری ۱۹۷۷ء

پنجاب کے وزیر اوقاف رانا اقبال احمد خان نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں کہا کہ نظام شریعت کانفرنس دراصل حکومت کے خلاف ایک سازش تھی جس میں مولانا مفتی محمود نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔ (روزنامہ امروز، لاہور ۵ جنوری ۱۹۷۷ء)

معلوم ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والا کل پاکستان نظام شریعت کنونشن صوبائی وزیر اوقاف کی کمزوری بن گیا ہے اور انہیں خواب میں بھی کنونشن ہی کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے تو ان صاحب نے کنونشن کو روکنے کی کوشش کی، ضلعی انتظامیہ پر مسلسل دباؤ ڈالا لیکن تمام تر رکاوٹوں کے باوجود نظام شریعت کنونشن جامع مسجد نور گوجرانوالہ میں پوری شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوگیا تو یہ صاحب انتقامی حرکات پر اتر آئے اور مسجد کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا۔ لیکن یہاں بھی بات نہ بنی اور ملک کے دیندار نوجوانوں نے مزاحمت کی، تحریک چلی، گرفتاریاں ہوئیں، بالآخر صوبائی وزیر اوقاف پسپائی پر مجبور ہوگئے اور سرکاری تحویل میں لینے کے باضابطہ اعلان کے باوجود ان کا مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم پر قبضہ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ نظام شریعت کنونشن ابھی تک ان کے اعصاب پر سوار ہے اور سوا سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنی اس اعصابی کمزوری سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

جہاں تک کنونشن کے سازش ہونے یا مولانا مفتی محمود کے اس میں پاکستان بنانے کو گناہ قرار دینے کا تعلق ہے اس سلسلہ میں کسی قسم کی وضاحت کی ضرورت نہیں کیونکہ کنونشن کی کوئی نشست خفیہ نہیں تھی اور جو کچھ ہوا ملک بھر سے آئے ہزاروں مندوبین اور گوجرانوالہ کے لاکھوں شہریوں کے سامنے ہوا۔ البتہ ہم صوبائی وزیر اوقاف کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعصاب کو نظام شریعت کنونشن کے مناظر سے چھٹکارا عطا فرمائیں۔