امدادی قافلے پر اسرائیلی حملہ: گوجرانوالہ میں مذمتی اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جون ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
ترکی کی بیداری اور ملتِ اسلامیہ

سانحہ لاہور کے پس منظر میں گزشتہ ایک صدی کے دوران تحریک ختم نبوت کے حوالے سے مسلمانوں کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرنے والے سرکردہ اساطین امت میں سے چند نام میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیے تھے جس کا مقصد اس سلسلہ میں امتِ مسلمہ کی اجتماعیت کا اظہار تھا۔ اس فہرست میں سینکڑوں رہنماؤں کو شامل کیا جا سکتا ہے جنہوں نےمختلف مراحل میں تحریک ختم نبوت میں رہنمائی کا کردار ادا کیا مگر تین چار نام ایسے ہیں جن کا اس فہرست میں تذکرہ بہرحال ضروری تھا۔ مجھے اس طرف کسی نے توجہ نہیں دلائی بلکہ کالم کو شائع شدہ صورت میں پڑھنے کے بعد خود ہی اس کا احساس ہوا۔ وہ شخصیات مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، آغا شورش کاشمیری مرحوم، مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی اور سابق اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار مرحوم کی ہیں جن کے تذکرے کے بغیر قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کی علمی، فکری اور دستوری جدوجہد کا باب مکمل نہیں ہوتا۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور فروگزاشت کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ میرا یہ کالم گستاخانہ خاکوں کے خلاف گوجرانوالہ میں احتجاجی ریلی کے بارے میں تھا جس پر ’’فیصل آباد میں احتجاجی ریلی‘‘ کی سرخی لگا دی گئی۔ میں خود صحافت سے وابستہ ہوں اور کم و بیش چار عشروں سے مختلف جرائد میں ادارتی فرائض سرانجام دیتا آرہا ہوں اور جانتا ہوں کہ اس قسم کی فروگزاشت بسا اوقات ہوجایا کرتی ہے اس لیے اس کے صرف اسی قدر ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔

ناموس رسالتؐ کے سلسلہ میں مشترکہ احتجاجی ریلی کے کامیاب انعقاد کے بعد اسرائیل کی ننگی جارحیت کے بارے میں مشترکہ اجلاس بلانے کے حوالے سے سوچ ہی رہا تھا کہ مولانا قاری محمد زاہد سلیم نے شہر کے معروف صحافی جناب عبد الرؤف مغل کی طرف سے پیغام دیا کہ وہ اپنے آفس میں اس سلسلہ میں مشترکہ اجلاس کا اہتمام کر رہے ہیں جس میں مجھے بھی شریک ہونا ہے۔ حاجی عبد الرؤف مغل روزنامہ ’’جناح‘‘ کے نمائندہ خصوصی ہیں، ان کی دعوت پر ٹرسٹ پلازہ میں واقع ان کے آفس میں گزشتہ روز (جمعرات کو) تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس کی صدارت کا اعزاز مجھے بخشا گیا اور شرکاء میں مولانا سید غلام کبریا شاہ، مولانا اظہر حسین فاروقی، مولانا قاری محمد زاہد سلیم، مولانا مشتاق احمد چیمہ، ڈاکٹر عبید اللہ گوہر، علامہ کاظم ترابی اور بابر رضوان باجوہ کے علاوہ روزنامہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی جناب شبیر حسین مغل، روزنامہ جنگ کے نمائندہ حافظ خلیل الرحمان ضیاء، مرکزی انجمن تاجران کے صدر ڈاکٹر محمود احمد اور گوجرانوالہ کلاتھ مارکیٹ بورڈ کے رہنما میاں فضل الرحمان چغتائی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے دیگر حضرات نے بھی شرکت کی۔

شرکاء نے حاجی عبد الرؤف مغل کی میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا، غزہ کے ستم زدگان کے لیے امدادی سامان لے جانے والے قافلے پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے کی مذمت میں اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم (او آئی سی) سمیت مسلم حکمرانوں کی بے بسی کا ماتم کیا۔ گفتگو میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت، او آئی سی اور مسلم حکومتوں کی بے حسی کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا کا کردار بطور خاص نمایاں رہا۔ اس حوالے سے بھی کہ یہ اجلاس ایک معروف صحافی کی دعوت پر ان کے دفتر میں منعقد ہوا اور اس حوالے سے بھی کہ پاکستان کے معروف صحافی جناب طلعت حسین کا کردار اور قربانی اس اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں نمایاں ہے جس پر سب نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

میڈیا نے اس دور میں قوت اور تاثیر کا جو مقام حاصل کر لیا ہے اور پاکستانی میڈیا عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں جو کردار ادا کر رہا ہے اس پر کم و بیش ہر دوست نے بات کی۔ میں نے اس سلسلہ میں شرکاء محفل کو ایک واقعہ سنایا کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کے المیہ کے تناظر میں پارلیمنٹ کی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کا ایک اجلاس لاہور میں ہوا جس میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ مرحوم نے مولانا مفتی محمودؒ سے کہا کہ مفتی صاحب! آپ کے پاس منبر و محراب کی جو قوت ہے آپ کو اس کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں ہے اور نہ ہی آپ اس کا صحیح طور پر استعمال کر رہے ہیں، یہ قوت اگر میرے پاس ہو تو ملک میں کسی کو ہلنے نہ دوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے دائرے میں منبر و محراب کی یہ قوت اب بھی کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے البتہ ابھی تک اس کے وارثان میں اس کی طاقت اور اس کے مؤثر استعمال کا شعور پیدا نہیں ہوا۔ مگر عمومی طور پر اب یہ قوت میڈیا کے پاس آگئی ہے اور ملکی رائے عامہ کی ذہن سازی اور رہنمائی کے لیے جو کردار میڈیا ادا کر سکتا ہے وہ کسی اور طبقے کے بس میں نہیں۔

اجلاس میں مسلمان حکومتوں کی بے حسی اور بے عملی پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ زبانی جمع خرچ اور رسمی کاروائیوں کے علاوہ مسلمان حکومتیں اس سلسلہ میں کچھ بھی نہیں کر رہیں۔ مقررین نے او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ میں نے اس پر عرض کیا کہ میرے خیال میں بات اس سے آگے بڑھ گئی ہے۔ یہ بات کھلے مشاہدے میں ہے کہ اسرائیل وقتاً فوقتاً جان بوجھ کر اس قسم کی وحشیانہ جارحیت کا ارتکاب کرتا آرہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اس کی ہمیشہ سے پشت پناہی کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے فورم پر بھی اس نے ہمیشہ اسرائیل کو شیلٹر فراہم کیا ہے۔ ورنہ اگر امریکہ اسرائیل کے بارے میں صرف اقوام متحدہ کے عمومی فورم کے اجتماعی جذبات کا ہی احترام کر لے تو اسرائیل کو اس قسم کی کسی حرکت کا حوصلہ نہ ہو۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جن قوتوں نے اسرائیل کا مسئلہ کھڑا کیا، عربوں کے سینے میں یہودی ریاست کا خنجر گھونپا اور جو اس مسئلہ کو باقی رکھنے کا مسلسل کردار ادا کر رہی ہیں ہم اس مسئلہ کے حل کی درخواست بھی انہی قوتوں سے کر رہے ہیں اور انہی سے یہ توقع رکھے ہوئے ہیں کہ وہ فلسطین کا مسئلہ حل کریں گے اور اسرائیلی جارحیت اور کھلی غنڈہ گردی کی روک تھام کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے۔

اس لیے میرے نزدیک مسئلہ یہ نہیں کہ ہم او آئی سی سے مطالبہ کریں کہ وہ کوئی مؤثر قدم اٹھائے بلکہ ہمارا مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ او آئی سی اس تناظر میں اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ کس کیمپ میں کھڑی ہے۔ او آئی سی اگر خود امریکی کیمپ میں کھڑی ہے تو اس سے فلسطین سمیت عالم اسلام کے کسی بھی مسئلہ کے حل کے لیے کسی کردار کی توقع رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جب تک او آئی سی اور مسلم حکومتیں اپنی خودمختاری بحال نہیں کرتیں اور امریکی دائرۂ اثر سے ہٹ کر اپنی پالیسیاں آزادانہ ماحول میں طے کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرتیں ان سے کسی خیر کی توقع فضول ہے۔

اجلاس میں اس حوالے سے ترکی کے کردار کو بطور خاص سراہا گیا اور مقررین نے کہا کہ ایک سیکولر ملک ہونے اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے باوجود ترکی کی حکومت نے جو جرأت مندانہ موقف اختیار کیا ہے وہ لائق تحسین ہے اور دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ترکی نے خلافتِ عثمانیہ کے عنوان سے کم و بیش تین سو برس تک عالمِ اسلام کی قیادت کی ہے اور ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کا پرچم بلند رکھا ہے۔ اگر وہ ترکی پھر سے بیدار ہو رہا ہے تو ہمارے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے! خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔

درجہ بندی: