ہم جنس پرستی اور انجیل مقدس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۴ء

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی انڈیپنڈس پارٹی کے ایک کونسلر ڈیوڈ سلوسٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ میں حالیہ طوفانی سیلاب ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے باعث خدائی عذاب کی علامت ہیں، اور وزیر اعظم نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دے کر انجیل مقدس کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے حالیہ طوفان اور سیلاب آئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اپریل ۲۰۱۲ء میں ہی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو خبردار کر دیا تھا کہ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دینے والے بل کی منظوری سے ملک میں آفات آ سکتی ہیں۔ انڈیپنڈس پارٹی نے ڈیوڈ سلوسٹر کے اس بیان کو ان کا ذاتی موقف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ پارٹی کا یہ موقف نہیں ہے لیکن ڈیوڈ سلوسٹر کو اپنا موقف بیان کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

جہاں تک ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے کا تعلق ہے یہ صرف برطانیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ دیگر بیشتر دیگر مغربی ممالک بھی ہم جنس پرستی جیسی لعنت کی سرپرستی میں پیش پیش ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی حکومتیں اپنے لیے آسمانی تعلیمات اور بائبل کی ہدایات کو راہنما تسلیم کرنے کی بجائے سوسائٹی کی خواہشات کو قانون سازی کی بنیاد قرار دیے ہوئے ہیں، اس لیے انہیں نفسانی خواہشات کے ہر ریلے کے سامنے سپر انداز ہونا پڑ رہا ہے اور اس طرز عمل نے انسانی سوسائٹی میں روحانیت اور اخلاقیات کے تمام دائرے درہم برہم کر کے رکھ دیے ہیں۔ اس پس منظر میں اگر کوئی برطانوی راہنما کسی سطح پر بھی اپنی حکومت کو انجیل مقدس کی تعلیمات کا حوالہ دے رہا ہے تو ہمارے خیال میں اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔

بائبل میں ہم جنس پرستی اور زنا کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کی سنگین سزا تجویز کی گئی ہے، حتیٰ کہ معاشرتی جرائم کی جن اسلامی سزاؤں کو سخت اور سنگین قرار دیا جا رہا ہے وہ بھی توراۃ کے احکام کا تسلسل ہیں۔ بلکہ قرآن کریم اور بائبل کی بیان کردہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اسی جرم بے حیائی کے ارتکاب اور اس پر اصرار کی وجہ سے اس خدائی عذاب کا شکار ہوئی تھی جس کی نشانی آج بھی بحیرۂ مردار کی صورت میں روئے زمین پر موجود ہے اور ہر لمحہ قہر الٰہی کی یاد دلا رہی ہے۔

اس لیے ڈیوڈ سلوسٹر کا یہ کہنا کہ آسمانی تعلیمات سے انحراف خدا کے عذاب اور قدرتی آفات کا باعث بن سکتا ہے، نہ خلافِ واقعہ ہے اور نہ ہی قوموں کی تاریخ اس کی مثالوں سے خالی ہے۔آج اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف واپس لانے کی کوشش کی جائے تاکہ نسل انسانی امن و فلاح کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

درجہ بندی: