اغوا کی وارداتیں اور پولیس کا کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ء

بہاولپور کے ایک نوجوان عالم دین مولانا مفتی محمد یوسف کو اغوا ہوئے آج نواں روز ہے اور ان کی رہائی کے لیے آٹھ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر ہمارا حکومتی نظام ہے کہ ابھی تک اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر پا رہا۔ مفتی محمد یوسف دارالعلوم مدینہ (ماڈل ٹاؤن، بہاولپور) کے استاذ ہیں اور دارالعلوم کی طرف سے شائع ہونے والے ماہنامہ جریدہ ’’المصطفٰیؐ‘‘ کے مدیر ہیں۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد صاحب بہاولپور میں ہی حفظ قرآن کریم کا ایک مدرسہ چلا رہے ہیں اور اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اتنی بڑی رقم ادا کر سکیں لیکن اغوا کاروں کی دھمکی یہ ہے کہ اگر یہ رقم نہ دی گئی تو مفتی محمد یوسف کو قتل کر دیا جائے گا۔

مفتی صاحب عید الاضحٰی سے قبل منگل کے روز مدرسہ سے نکلے اور گھر نہیں پہنچے، اِدھر اُدھر معلوم کیا تو کچھ پتہ نہ چلا، اگلے روز تشویش ہوئی، تلاش کیا جاتا رہا مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ خیال ظاہر کیا گیا کہ شاید کسی خفیہ ادارے کی نذر ہوگئے ہیں جیسا کہ کچھ عرصہ سے مسلسل ہو رہا ہے اور اس کی صدائے بازگشت عدالت عظمٰی کے ایوانوں تک پوری گونج کے ساتھ سنی گئی ہے۔ میرے بھتیجے حافظ حمزہ سرفراز نے، جو دارالعلوم مدینہ میں زیر تعلیم ہے اور مفتی محمد یوسف کا شاگرد ہے، مجھے فون پر بتایا تو میرا ابتدائی تاثر یہی تھا جو اس پس منظر میں تھا کہ برطانوی طیارہ سازش کیس کا ملزم راشد رؤف جو اسلام آباد پولیس کی حراست سے فرار ہوگیا ہے، دارالعلوم مدینہ بہاولپور کے ایک استاذ مولانا محمد صہیب کا رشتہ دار ہے اور اس سلسلہ میں مولانا محمد صہیب کا ایک اخباری بیان شائع ہوا تھا کہ پولیس ملزم کے رشتہ داروں کو خواہ مخواہ تنگ کر رہی ہے اور بہت سے رشتہ دار پولیس کے رویہ کے باعث محبوس ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس پس منظر میں میرا خیال یہی تھا کہ شاید مفتی محمد یوسف کے اچانک غائب ہوجانے کے پیچھے اسی قسم کے عوامل کارفرما ہوں گے مگر دو روز کے بعد پتہ چلا کہ اغوا کاروں نے مفتی محمد یوسف کے موبائل فون کے ذریعے ہی ان کے رشتہ داروں سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ مفتی صاحب ان کے پاس ہیں اور ایک دوسرا موبائل نمبر دیا کہ اس پر تین ہزار روپے کا بیلنس بھیجا جائے جس کی انہیں ضرورت ہے۔ لواحقین کو حیرانی ہوئی کہ تین ہزار روپے کے لیے ایک انسان بلکہ عالم دین کا اغوا سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے لیکن جب ان سے خود مفتی محمد یوسف نے بات کی اور بتایا کہ وہ ان لوگوں کی حراست میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے ان کا مطالبہ منظور کرنا ہوگا، تو تین ہزار روپے اس موبائل فون پر بیلنس کے طور پر بھجوا دیے گئے۔ اس کے بعد سے دوبارہ اس نمبر پر رابطہ کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مسلسل بند ملتا ہے جبکہ اس کے ایک دو روز بعد اغوا کاروں کی طرف سے پھر مطالبہ ہوا کہ اگر مفتی محمد یوسف کی رہائی درکار ہے تو آٹھ لاکھ روپے ادا کیے جائیں ورنہ مفتی صاحب کی جان بھی جا سکتی ہے۔ تب سے ان کے لواحقین سخت اضطراب اور اذیت کے عالم میں ہیں کہ اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرنا ان کے بس میں نہیں ہے ورنہ مفتی محمد یوسف کی جان اور آزادی کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے۔

اس وقت جب میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، میری معلومات کے مطابق تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اغوا کاروں نے اس رقم کی ادائیگی کے لیے جو مہلت دے رکھی ہے اس کے صرف دو روز باقی ہیں اور ان کے رشتہ داروں سمیت بہاولپور کے علماء کرام، دینی کارکن اور دارالعلوم مدینہ کے اساتذہ و طلبہ کے اضطراب و اذیت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ہمارے ایک اور انتہائی عزیز ساتھی قاری محمد حنیف شاہد رامپوری کے ساتھ اس سے زیادہ سنگین واردات گزشتہ ماہ ہو چکی ہے۔ قاری محمد حنیف شاہد ملک کے معروف نعت خواں ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح و منقبت میں ان کی آواز نہ صرف پورے پاکستان میں ایک عرصہ سے گونج رہی ہے بلکہ دیارِ غیر میں بھی حمد باری تعالیٰ، نعت رسول مقبولؐ اور منقبت صحابہ کرامؓ پر ان کی نعتوں اور نظموں کو بڑے شوق و ذوق کے ساتھ سماعت کیا جاتا ہے۔ وہ ہمارے آج کے دور کے مقبول ترین مداحانِ رسولؐ میں سے ہیں اور ملک کے طول و عرض میں اپنی آواز کا جادو جگاتے رہتے ہیں۔ ان کی رہائش ضلع سیالکوٹ کے قصبہ وڈالہ سندھواں کے ساتھ رام پور نامی بستی میں ہے، انہیں گزشتہ سال علاقہ کے کچھ جرائم پیشہ نوجوانوں نے، جن میں اعجاز عرف سائیں اور گڈو وغیرہ کے نام بطور خاص لیے جاتے ہیں، فون کیا کہ وہ اگر علاقہ میں امن کی حالت میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں پچاس ہزار روپے ادا کریں ورنہ ان کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ قاری صاحب نے اعجاز سائیں کے چچا سے بات کی کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ اس قسم کی حرکتیں نہ کرے۔ چچا نے انہیں جواباً مطمئن کیا کہ وہ بے فکر رہیں آئندہ ان کے ساتھ اس قسم کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ جس کے بعد ایک سال خاموشی سے گزر گیا مگر گزشتہ ماہ سات نومبر کو اسی سائیں نے قاری محمد حنیف کو فون کیا کہ وہ انہیں پانچ لاکھ روپے ادا کریں ورنہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے اس نے مہلت بھی دی، قاری صاحب نے پھر اس کے چچا سے بات کی تو اس نے دوبارہ انہیں تسلی دی مگر مہلت کی آخری رات ۹ نومبر کو بارہ بجے کے بعد قاری محمد حنیف شاہد کے گھر پر فائرنگ ہوئی جس سے ان کی پانچ سالہ بچی عاتکہ موقع پر شہید ہوگئی جبکہ تین سالہ بچی حفصہ زخمی ہوئی جو ابھی تک میو ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے۔

قاری محمد حنیف شاہد نے تھانہ میں کیس درج کرایا اور پانچ افراد کو نامزد کیا جو گزشتہ ایک سال سے ان سے رقم کا مطالبہ کر رہے تھے اور انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ قاری صاحب کا کہنا ہے کہ تمام تر احتجاج اور التجاؤں کے باوجود نامزد ملزموں میں سے ایک بھی ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا بلکہ سائیں کے مذکورہ چچا اور دیگر بعض لواحقین کو پولیس نے اپنی کاروائی رسمی طور پر پوری کرنے کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے جس پر ملزموں کی طرف سے فون پر قاری صاحب کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان زیر حراست افراد کو رہا کرایا جائے ورنہ وہ دوسرے حملے کے لیے تیار رہیں۔

ایک اور تازہ خبر کے مطابق قبائلی مہمند ایجنسی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی مولانا محمد صادق کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا اور ان کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر ساٹھ لاکھ روپے ادا کر کے انہیں اغوا کاروں سے رہائی دلائی۔

یہ واقعات بطور نمونہ بیان کیے جا رہے ہیں جو امن و امان کے حوالے سے ملک کی موجودہ عمومی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ اخبارات کا اس حوالے سے اہتمام سے مطالعہ کریں تو آپ کو ملک کے ہر حصے میں اس قسم کی وارداتیں ملیں گی جو ہمارے کلچر کا حصہ بنتی جا رہی ہیں اور ان کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ پولیس کے عملے کے ساتھ ملی بھگت کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا ہے کیونکہ بادی النظر میں ایسا کرنا عملاً اس کے سوا ممکن نہیں ہے۔ اس عمومی تاثر کی ایک جھلک یہ ہے کہ چند روز قبل میں ایک کوچ میں سفر کر رہا تھا اور مجھ سے آگے بیٹھے ہوئے دو افراد آپس میں باتوں میں مصروف تھے جن کی آواز میرے کانوں میں بھی آ رہی تھی۔ ایک صاحب نے دوران سفر کوچ کے لوٹے جانے کا واقعہ بیان کیا کہ ایک پولیس چیک پوسٹ سے رات کے وقت کوچ چیکنگ کے بعد گزر گئی تو چند میل آگے ڈاکوؤں نے ناکہ لگا رکھا تھا۔ انہوں نے کوچ کو روکا اور اسلحہ کے زور سے مسافروں کی جیبیں خالی کرائیں مگر جب رقم گنی گئی تو وہ انیس ہزار روپے کے لگ بھگ نکلی جو انہوں نے مسافروں کو اسی وقت واپس کر دی اور کہا کہ ہم آپ کے پیسے واپس کر رہے ہیں لیکن ہماری ایک درخواست ہے کہ آگے کسی ناکے پر پولیس والے آپ سے ڈکیتی کے بارے میں پوچھیں تو آپ نے یہ کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی واردات نہیں ہوئی اور ہمیں کسی نے راستے میں نہیں روکا۔ ایک مسافر نے اصرار کر کے اس کی وجہ پوچھی تو ایک ڈاکو نے بتایا کہ ہمارا پولیس والوں سے اس واردات کے لیے بیس ہزار روپے پر مک مکا ہوا ہے اور یہ رقم اس سے کم ہے اس لیے انہیں دینے کے لیے باقی رقم ہمیں اپنی طرف سے ڈالنا پڑے گی۔

یہ واقعہ درست ہے یا من گھڑت اور اس میں سچائی کتنے فیصد ہے، میں اس کے بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں البتہ یہ بات پورے وثوق اور تسلی کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ جو بات میں نے سفر کے دوران اپنے ہم سفر دو مسافروں سے ان کی آپس میں گفتگو میں سنی وہ میں نے پوری طرح کسی مبالغہ کے بغیر بیان کر دی ہے۔ میں اس صورتحال میں اور تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن پنجاب کے آئی جی پولیس چودھری احمد نسیم سے ضرور گزارش کرنا چاہوں گا اس لیے کہ ان کا تعلق گکھڑ سے ہے، وہ خود کو والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے خوشہ چینوں میں شمار کرتے ہیں اور ان کی شہرت بھی ایک فرض شناس، دیانتدار اور صاحب تدبیر پولیس افسر کی ہے۔ مفتی محمد یوسف کے ساتھ جو واردات ہونے جا رہی ہے اور قاری محمد حنیف شاہد کے ساتھ جو واردات ہو چکی ہے اگر اس سلسلہ میں وہ ذاتی دلچسپی کے ساتھ کوئی مؤثر کردار ادا کر سکیں تو ان کی بے حد مہربانی اور نوازش ہوگی۔