پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کی کوششوں کا پس منظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ جنوری ۲۰۰۹ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے ۱۹۷۵ء میں نفاذ شریعت کے سلسلہ میں حکومتی رویے سے مایوس ہو کر ملک بھر میں پرائیویٹ شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور طے کیا تھا کہ جو مقدمات اور تنازعات قابل دست اندازیٔ پولیس نہیں ہیں اور جن میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق تحکیم، پنچایت اور ثالثی کے ذریعے اپنے تنازعات کا فیصلہ کرا سکتے ہیں، ان میں عام مسلمانوں کو اپنے مقدمات کے فیصلے شرعی قوانین کی روشنی میں کرانے کے لیے سہولت اور نظام فراہم کیا جائے۔ میں نے اپنے ایک دو گزشتہ کالموں میں اس کا ذکر کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ اس کی تفصیلات قارئین کو فراہم کروں گا، چنانچہ پہلے اس فیصلے کا اور اس پر عملدرآمد کے لیے اس وقت کیے جانے والے اقدامات کا تذکرہ کروں گا، پھر ان اسباب و عوامل کا جائزہ لوں گا کہ یہ انتہائی اہم فیصلہ اور اعلان عملدرآمد کی منزل کیوں حاصل نہ کر سکا اور آخر میں عرض کروں گا کہ آج کے دور میں اس کی اہمیت و ضرورت کیا ہے اور اسے پھر سے زندہ کر کے قابل عمل بنانے کے لیے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

۲۵ و ۲۶ اکتوبر ۱۹۷۵ء کو جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام علماء کرام اور جماعتی کارکنوں کا ملک گیر کنونشن گوجرانوالہ میں منعقد ہوا جو پروگرام کے مطابق شیرانوالہ باغ میں منعقد ہونا تھا لیکن حکومت نے عین وقت پر اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور یہ ’’نظام شریعت کنونشن‘‘ جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم میں منعقد ہوا۔ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اس کنونشن کی مجلس استقبالیہ کے صدر اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ناظم استقبالیہ تھے۔ جبکہ مجھے ان کے نائب اور معاون کے طور پر خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ نے کنونشن کی صدارت فرمائی اور ملک بھر سے پانچ ہزار کے لگ بھگ علماء کرام اور کارکنوں نے شرکت کی جن میں قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود اور حضرت مولانا عبید اللہ انور کے علاوہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد، حضرت مولانا سید محمد شاہ امروٹی، حضرت مولانا سید محمد ایوب جان بنوری، حضرت مولانا عبد الغفور آف کوئٹہ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمان، حضرت مولانا محمد اجمل خان، حضرت مولانا مفتی محمد عبد اللہ آف ملتان اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر جیسے اکابر بزرگ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر تبلیغی جماعت کے بزرگ الحاج ظفر علی ڈار کی رہائش گاہ پر جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شورٰی کا اجلاس منعقد ہوا جس کے فیصلوں کا اعلان کنونشن کی آخری نشست میں کیا گیا۔ راقم الحروف ان دنوں جمعیۃ علماء اسلام کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھا اس لیے آخری نشست میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے اور مرکزی مجلس شورٰی کے فیصلوں کا اعلان کرنے کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ ان فیصلوں میں ایک اہم فیصلہ پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کا بھی تھا جو مجلس شورٰی کی منظور کردہ قرارداد کے مطابق یوں تھا:

’’جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا عظیم الشان نظام شریعت کنونشن فیصلہ کرتا ہے کہ جب تک حکمران گروہ پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام اور اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں نہیں لاتا اس وقت تک کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے ملک میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی سطح پر شرعی عدالتیں قائم کی جائیں جو مسلمانوں کے باہمی تنازعات و مقدمات کا فیصلہ کریں گی، اس سے ایک طرف تو مقدمات کے شرعی فیصلوں کا آغاز ہوگا اور دوسری طرف غریب عوام عدالتوں کے کمر توڑ اخراجات سے چھٹکارا پا لیں گے۔

کنونشن اس مقصد کے لیے مرکزی شرعی عدالت کے لیے ان تین حضرات کو نامزد کرتا ہے جو عدالتی طریق کار تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر قاضیوں کا تقرر کریں گے اور اس کے بعد صوبائی عدالتیں اضلاع میں قاضی مقرر کریں گے۔

مولانا مفتی محمود، ڈیرہ اسماعیل خان (قاضی القضاۃ)

مولانا عبد الکریم قریشی، بیر شریف لاڑکانہ (قاضی)

مولانا محمد سرفراز خان صفدر، گوجرانوالہ (قاضی)

کنونشن عامۃ المسلمین خصوصاً جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور اس سے وابستہ تمام مسلمانوں سے استدعا کرتا ہے کہ اپنے تنازعات اور ان مقدمات کے تصفیہ کے لیے، جو مروجہ قانون کے مطابق قابل دست اندازیٔ پولیس نہیں ہیں، شرعی عدالتوں سے رجوع کریں اور اس طرح ملک میں شرعی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں عملی حصہ لیں۔‘‘

کنونشن میں اپنے خطاب کے دوران جب مولانا مفتی محمودؒ نے جمعیۃ کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے اس اہم اعلان کا ذکر کیا تو علماء کرام اور کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مفتی صاحبؒ نے اس موقع پر فرمایا:

’’ہم ان سے مایوس ہوگئے ہیں، ہمیں انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ نظام شریعت کنونشن ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب موجودہ حکومت سے عوام مایوس ہو چکے ہیں، وہ جان چکے ہیں کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے، اس لیے میں آج اس کنونشن میں اہم اعلان کرنا چاہتا ہوں، اس کا فیصلہ مجلس شورٰی نے کیا ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں ملک بھر میں شرعی عدالتیں قائم کرنے کا (فلک شگاف نعرے)۔ اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے مسلمانوں کے تمام مقدمات و معاملات طے کرنے کے لیے شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ ہر ضلع میں شرعی عدالت قائم کی جائے گی، صوبے میں بھی، مرکز میں بھی۔ مرکز میں تین جج ہوں گے جو صوبوں میں قاضیوں کا انتخاب کریں گے، اس کے بعد ہر ضلع میں شرعی عدالتوں کی نامزدگی ہوگی۔ ہم دعوت دیں گے مسلمانوں کو کہ اپنے وہ مقدمات جو قابل دست اندازیٔ پولیس نہیں، جن میں سرکار فریق نہ ہو، ان مقدمات کے فیصلے شرعی عدالتوں سے کرائیں۔ فیصلے کے خلاف اپیل صوبے میں ہو سکے گی اور صوبے کی مرکز میں۔ اگر معاملات شریعت کے مطابق طے ہو سکیں تو غیر اسلامی قانون اور عدالت کے پاس جانے کی ضرورت کیا باقی رہ جاتی ہے؟ قرآن کریم میں واضح طور پر آیا ہے کہ ’’اے نبی! یہ لوگ مومن نہیں ہیں جب تک آپ کو عدالتی معاملات میں حَکم تسلیم نہیں کرتے‘‘۔ تو ہمارا فرض ہے کہ اپنے مقدمات ان شرعی عدالتوں میں لائیں۔‘‘

جبکہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اس فیصلہ کی وضاحت کے لیے ایک تفصیلی مضمون بھی قلمبند کیا جو ہفت روزہ خدام الدین لاہور اور دیگر جرائد میں شائع ہوا، اس میں حضرت مولانا مفتی صاحبؒ لکھتے ہیں:

’’قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اسلام کو بطور ایک نظام زندگی نافذ کرنے کی آج تک کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، جتنی حکومتیں بھی برسر اقتدار آتی رہیں اسلام کا نام سب نے لیا ہے، کسی نے اقتدار کے حصول کے لیے اور کسی نے اقتدار کے تحفظ کے لیے اور بس! اس سے زیادہ پاکستان کی تاریخ میں اسلام کا کوئی اور مصرف نہیں سمجھا گیا۔ پاکستان میں جتنے بھی آئین نافذ ہوئے، ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی نوید اور اسلامی نظریاتی کونسل کے قیام کی خوشخبری آئین میں قوم کو دی گئی، لیکن عملاً کسی ایک قانون کو بھی اسلام کے سانچے میں فٹ نہیں کیا جا سکا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کی کوششوں کی پوری قوت کے ساتھ حوصلہ شکنی کی گئی تو بے جا نہ ہوگا۔

ریاست قلات اور ریاست بہاولپور میں (اور سوات میں بھی) پاکستان کے ساتھ الحاق سے قبل قضا کا شرعی نظام نافذ تھا جو الحاق کے بعد ختم کر دیا گیا، اور اس طرح ان ریاستوں میں جہاں انگریز خود اپنے قوانین نافذ نہیں کر سکا تھا، حکومت پاکستان نے وہاں فرنگی قوانین نافذ کرنے کا ’’فریضہ‘‘ سرانجام دیا۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد جب بلوچستان اور سرحد کے لیے کمیشن قائم کیے گئے، سرحد کے کمیشن میں مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا شمس الحق افغانی اور راقم الحروف (مولانا مفتی محمود) کے علاوہ صوبائی وزیر قانون امیر زادہ خان اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل تھے، جبکہ بلوچستان میں کمیشن کے سربراہ جسٹس فضل غنی تھے اور اس میں مولانا عبد الغفور اور مولانا محمد عمر کے علاوہ دیگر قانون دان بھی شامل تھے۔ بلوچستان کمیشن رپورٹ مکمل کر کے پیش کر چکا تھا اور سرحد کمیشن کی رپورٹ زیر تکمیل تھی کہ بلوچستان کی اکثریتی حکومت غیر قانونی طور پر برطرف کر دی گئی اور صوبہ سرحد کی حکومت اس غیر جمہوری اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہوگئی۔ لیکن اس کے بعد آج تک سرحد یا بلوچستان کسی صوبہ میں بھی کمیشن کی رپورٹ اور کارکردگی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ معاہدہ وہیں پر اسٹاپ ہے جہاں جمعیۃ اور نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کی حکومتوں نے چھوڑا تھا اور اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

اسی طرح ۱۹۷۳ء کے آئین میں یہ طے کیا گیا تھا کہ تمام قوانین کو سات سال کے عرصہ میں قرآن و سنت کے مطابق بنا دیا جائے گا، اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی جس کے ذمہ آئین کی رو سے یہ ضروری ہے کہ وہ مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کے لی ایک رپورٹ پیش کرے۔ لیکن دو سال (۱۹۷۵ء میں) سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو کسی مروجہ قانون کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا گیا ہے اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل نے اسمبلی میں کوئی بل پیش کیا ہے۔

ان حالات میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے سلسلہ میں حکمران گروہ کی طرف سے مایوس ہو جانا فطری بات ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس سلسلہ میں حکمران گروہ کی طرف سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں اور اگر جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے اس فیصلہ کو اس مایوسی کا فطری اور خوشگوار ردعمل قرار دیا جائے تو یہ بات کچھ غلط نہ ہوگی۔ کیونکہ ہمارے اس اقدام میں بنیادی طور پر یہی جذبہ کارفرما ہے کہ اگر حکومت شرعی قوانین کے نفاذ کی طرف سنجیدگی سے آگے بڑھنے کے لیے آمادہ نہیں ہے تو جس حد تک شرعی قوانین پر عملدرآمد ہمارے لیے ممکن ہے اس سے گریز نہ کریں اور ایک نظام قائم کر کے اس مقدس عمل کا اظہار کریں تاکہ قوم نظام شریعت کی برکات سے بہرہ ور ہو سکے۔ اسی وجہ سے ہم نے شرعی عدالتوں کے آغاز کے لیے ان تنازعات و مقدمات کو بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سرکار فریق نہیں ہوتی اور جن میں دونوں فریق اپنی مرضی سے کسی بھی حَکم کا فیصلہ قبول کر سکتے ہیں تاکہ مروجہ قانون سے ٹکراؤ پیدا کیے بغیر رضاکارانہ بنیادوں پر شرعی عدالتوں کے قیام کا نظام استوار ہو سکے۔

اس نظام کے قیام سے جہاں اور بہت سے فوائد اور برکات سامنے آئیں گی وہاں اسلامی نظام کا قانونی شعبہ ایک فعال اور قابل عمل ضابطہ کی حیثیت سے سامنے آئے گا، عامۃ المسلمین میں اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کے مطابق طے کرنے کا رجحان پیدا ہوگا، دیوانی مقدمات پر مروجہ عدالتوں کے بے پناہ اخراجات اور طویل طویل مدتوں کی تاریخوں کی صورت میں وقت کے زیاں سے عوام کو نجات ملے گی، خدا کے قانون کو معاشرے میں عملاً نافذ کرنے کے مقدس عمل کا آغاز ہوگا۔ یہ تمام نظام رضاکارانہ بنیادوں پر ہوگا، علماء کرام اپنے اپنے حلقۂ اثر میں عوام کو ترغیب دلائیں گے، قاضی ان کے فیصلے اسلامی اصولوں کے مطابق کریں گے۔‘‘

یہ وہ اصولی وضاحت ہے جو شرعی عدالتوں کے قیام کے اس فیصلے کی اہمیت و ضرورت اور اس کے دائرہ کار کے بارے میں مولانا مفتی محمودؒ نے اپنے تفصیلی مضمون میں فرمائی تھی، جبکہ ۲۸ و ۲۹ مارچ ۱۹۷۶ء کو شیرانوالہ لاہور میں شرعی عدالتوں کے قاضیوں کا ملک گیر کنونشن منعقد ہوا جس میں شرعی عدالتوں کے عملی دائرہ کار اور طریق کار کا تعین کیا گیا، اس کی تفصیل اگلے کالم میں پیش کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔