مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات”

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۱۸ء

معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم و فکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات وفرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو اور اشیائے صرف کے معیار کو خراب نہ کرو، کیونکہ یہ بات سوسائٹی میں فساد کا ذریعہ بنتی ہے اور اس پر اس قوم کا یہ طنز بھی قرآن کریم نے ذکر کیا ہے کہ اے شعیب! کیا تمھاری نمازیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے اموال میں اپنی مرضی کے ساتھ تصرف نہ کریں؟ یعنی یہ تصور اس قوم میں بھی موجود تھا کہ چونکہ مال ہمارا ہے، اس لیے ہم اس میں تصرف کے لیے کسی کی اجازت کے محتاج نہیں ہیں۔ چنانچہ ’’فری اکانومی” کا آج کا مروجہ فلسفہ بھی اپنے پس منظر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی یہ بنیاد رکھتا ہے، جبکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے ہر دور میں اپنی اپنی قوموں کو یہ بتایا ہے کہ مال و دولت اور اسباب معیشت اللہ تعالی ٰ کی طرف سے عطا کردہ ہیں جن میں تصرف اللہ تعالی ٰ کے احکام کے مطابق ہی درست ہوگا اور اس کا اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں حساب بھی دینا ہوگا۔

قرآن کریم چونکہ اللہ تعالی ٰ کی نازل کردہ آخری، مکمل اور جامع کتاب ہے، اس لیے اس میں معیشت کے تمام ضروری پہلوؤں کے حوالے سے ہدایات موجود ہیں۔ حکمت و فلسفہ بھی ہے، اصول و ضوابط بھی ہیں اور احکام و قوانین بھی ہیں جن کی بنیاد پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرہ کو تمام ایسی جاہلی روایات و اقدار سے پاک کیا جو اللہ تعالی ٰ کے احکام کی خلاف ورزی اور انسانی معاشرہ میں خرابی اور فساد کا باعث تھیں۔ اللہ تعالی ٰ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کم و بیش ربع صدی کی محنت اور جدوجہد کے ساتھ عرب معاشرہ میں جو سماجی انقلاب بپا کیا اور جس کے مثبت ثمرات سے نسل انسانی صدیوں تک فیض یاب ہوتی رہی ہے، اس کا بڑا حصہ معاشی اصلاحات پر مشتمل ہے اور آج بھی منصف مزاج انسانی دانش ان کی ضرورت و افادیت کا اعتراف کرنے پر خود کو مجبور پاتی ہے۔ چند سال قبل مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کی قائم کردہ ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دنیا کے معاشی نظام کو توازن اور انصاف کے ٹریک پر لانے کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصولوں کو اپنانا ضروری ہو گیا ہے، جبکہ برطانیہ، فرانس اور روس جیسے ممالک میں اسلام کے معاشی اصولوں کی انسانی سماج میں واپسی کی ضرورت پر سنجیدہ علمی حلقوں میں بحث و تمحیص کا آغاز ہو چکا ہے اور غیر سودی بینکاری کا رجحان بھی عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے۔

اس پس منظر میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصول و قوانین کو آج کے حالات و ضروریات کے تناظر میں ازسرنو سامنے لایا جائے کیونکہ اللہ تعالی ٰ کی اس آخری کتاب کے دائرہ کار میں آج کا دور بھی شامل ہے اور اس کے احکام و قوانین کا اطلاق آج بھی اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ چودہ سو برس قبل ہوا تھا اور جیسا کہ قیامت تک ہوتا رہے گا۔

ہمارے مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا مجاہد الحسینی دامت برکاتہم نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم کی معاشی تعلیمات کو آسان اور عام فہم انداز میں زیر نظر کتاب کی صورت مرتب کیا ہے جو علماء کرام، مدرسین، خطباء اور دینی کارکنوں کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے بھی یکساں افادیت کی حامل ہے۔ حضرت مولانا محترم کے بارے میں اس تذکرہ کے بعد اور کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ وہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کے ارشد تلامذہ میں سے ہے اور ان کا شمار شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری، امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور اس دور کے دیگر اکابر علماء کرام کے رفقاء میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔