دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ اگست ۲۰۱۸ء

عید الاضحٰی کے موقع پر دینی مدارس کے لیے قربانی کی کھالوں کا مسئلہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی کا میدان بنا رہا اور مختلف مقامات پر گرفتاریوں، مقدمات اور چھاپوں کا سلسلہ رہا۔ جبکہ کھالیں جمع کرنے کی اجازت کے بارے میں انتظامیہ کا رویہ بھی حوصلہ افزا اور آبرومندانہ نہیں تھا۔

عید سے چند روز قبل گوجرانوالہ کے مختلف دینی مدارس کے نمائندوں کا ایک مشاورتی اجلاس اس سلسلہ میں اکبری مسجد میں منعقد ہوا اور اس وقت کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں نے احباب سے گزارش کی کہ آپ حضرات تو وہی کچھ کریں جس کی ہدایت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے آپ کو دی گئی ہے کیونکہ اسی میں خیر و برکت اور اجتماعی مفاد ہے مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جو حالات پیدا کر دیے گئے ہیں وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کی بجائے استغنا اور بے نیازی کا اظہار کیا جائے کیونکہ ہماری اصل قوت توکل علی اللہ اور دیندار مسلمانوں کا اعتماد ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ سرکاری افسروں کے دروازوں پر بار بار جانے کا سلسلہ ترک کر کے عوام کی ذہن سازی کی جائے کہ ان حالات میں مناسب یہ ہے کہ وہ کھالیں مدارس تک پہنچانے کی بجائے از خود ان کی فروخت کی صورت نکالیں اور اس کے بعد اگر کسی مدرسہ کو وہ رقم دینا چاہیں تو اسے پہنچا دیں۔

اجلاس میں عمومی فیصلہ یہی ہوا کہ وفاق کی پالیسی کے مطابق درخواستیں دی جائیں اور اگر اجازت مل جائے تو کھالیں جمع کی جائیں۔ چنانچہ درخواستیں دے دی گئیں جنہیں عید سے ایک روز قبل تک دفتر کا وقت ختم ہونے تک التوا میں رکھا گیا اور آخر وقت میں اکثر مدارس کو اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ جامعہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکادمی سمیت بہت سے مدارس نے تو درخواست ہی نہیں دی لیکن جنہوں نے درخواستیں دیں ان میں سے اکثر کو دفتروں کے چکر لگوانے کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔ چنانچہ راقم الحروف نے عید الاضحٰی کے اجتماع میں اعلان کیا کہ ہم کھالیں جمع نہیں کریں گے بلکہ درخواست بھی ہم نے نہیں دی، البتہ جو دوست قربانی کی کھال مدارس کو دینا چاہتے ہیں وہ تھوڑی سی قربانی اور کریں کہ کھال خود فروخت کر کے رقم انہیں پہنچا دیں۔ میں نے اس موقع پر یہ بھی عرض کیا کہ کھالیں جمع کرنے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ بھی نظر نہیں آرہا اس لیے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کھال کی قیمت کو اس حد تک گرا دیا گیا ہے کہ اب کھالیں جمع کرنے کا عمل تکلف ہی دکھائی دیتا ہے۔

یہ سب کچھ کیوں ہے اس کی تفصیل گزشتہ سال اپنے ایک کالم میں بیان کر چکا ہوں جو روزنامہ اسلام میں ۱۹ اگست ۲۰۱۷ء کو شائع ہوا تھا اور اس کا ایک اقتباس اس سال سوشل میڈیا پر دوبارہ جاری کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے۔

’’عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی کھالیں دینی مدارس کا ایک بڑا ذریعہ آمدن ہوتی ہیں مگر گزشتہ چند سالوں سے مختلف علاقوں میں دینی مدارس پر یہ ناجائز قدغن عائد کر دی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کی طرف سے باقاعدہ اجازت نامہ کے بغیر یہ کھالیں وصول نہیں کر سکتے۔ حالانکہ قربانی کی کھال اگر کھال ہی کی شکل میں دی جائے تو وہ قربانی کے باقی گوشت کی طرح ہدیہ ہوتی ہے، قربانی کرنے والے کی ذاتی مرضی ہے کہ وہ جس کو چاہے دے۔ گویا یہ پابندی قربانی کرنے والوں پر عائد کی جا رہی ہے کہ وہ قربانی کے جانور کا کوئی حصہ سرکاری افسر کی مرضی کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتے۔ یا قربانی کے گوشت یا پائے وغیرہ وصول کرنے والوں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی گھر سے قربانی کے جانور کا گوشت یا پائے وغیرہ حاصل کرنے سے پہلے ڈپٹی کمشنر صاحب سے اجازت نامہ لیں۔

اسی طرح اب حکومت پنجاب چیریٹی ایکٹ کے نام سے ایک قانون لا رہی ہے کہ کوئی شخص زکوٰۃ بھی سرکاری اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکے گا۔ جبکہ زکوٰۃ و صدقات کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ وہ ظاہر کر کے بھی دیے جا سکتے ہیں مگر ’’وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم‘‘ کہ چھپا کر مستحقین کو دینا زیادہ بہتر ہے۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زکوٰۃ و صدقات کے بارے میں فرمان ہے کہ ’’لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ‘‘ کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفانؓ نے اپنے دور خلافت میں ’’اموال ظاہرہ‘‘ اور ’’اموال باطنہ‘‘ کا فرق قائم کر کے ’’اموال باطنہ‘‘ کی زکوٰۃ ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق کہیں بھی خرچ کرنے کا حق دے دیا تھا جو آج تک امت میں اجماعی طور پر چلا آرہا ہے۔ اموال باطنہ سے مراد کسی بھی شخص کی وہ دولت ہے جو سرکل میں نہیں ہے اور وہ اسے اپنے محفوظ اثاثے کے طور پر بچا کر رکھے ہوئے ہے۔ اس حکم کا بنیادی مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی شخص کے ذاتی اور محفوظ اثاثوں میں زکوٰۃ کی وصولی کے نام پر سرکاری افسران کو مداخلت کے حق دینے سے اس کی ’’سیکریسی‘‘ مجروح ہوتی ہے جس کا تحفظ اس کے حقوق میں شمار ہوتا ہے۔

پھر نماز کی طرح زکوٰۃ ایک عبادت ہے اور قرآن کریم نے دونوں کو جابجا اکٹھے ذکر کیا ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کو سرکاری اجازت نامے پر موقوف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کل نمازیوں کی فہرست مرتب کرنے کے لیے بھی کوئی محکمہ قائم کر دیا جائے گا اور اس کی ادائیگی کے لیے این او سی کا حصول ضروری قرار دے دیا جائے گا۔ مگر ہمارے افسران کرام کو اس مجوزہ ’’چیریٹی ایکٹ‘‘ کی شرعی نزاکتوں اور معاشرتی اثرات سے کوئی غرض نہیں، ان کا مقصد تو دینی مدارس کے ذرائع آمدنی کو کنٹرول کرنا ہے اور دینی مدارس کے خلاف بین الاقوامی اداروں کے حکم کی تعمیل کرنی ہے جس کے لیے وہ ہر وقت تیار ہیں۔‘‘

جبکہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا محمد فیاض خان سواتی نے اس سلسلہ میں صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے ایک مضمون میں دو تجاویز پیش کی ہیں جن کے ساتھ مکمل اتفاق رکھتے ہوئے اسے اپنے کالم کا حصہ بنا رہا ہوں۔

’’گزشتہ سال جامعہ نصرۃ العلوم کی طرف سے قربانی کی کھالوں کے حصول کے لیے دی گئی درخواست بلا وجہ ریجیکٹ کر دی گئی تھی ، اس سال ہم نے احباب اور جماعت کے مشورہ سے درخواست ہی نہیں دی اور نہ ہی کھالیں جمع کی ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ قربانی ایک عبادت ہے اور اس کی کھال بھی اسی کا حصہ ہوتی ہے ، شرعاً اس کھال کو انسان تین طرح سے استعمال کر سکتا ہے ۔ (۱) خود استعمال کرلے (۲) کسی کو ہدیہ کر دے (۳) کسی کو صدقہ کر دے۔ جب یہ عبادت ہوئی تو اس میں ڈپٹی کمشنر صاحب سے اجازت کا کیا تُک بنتا ہے کہ کوئی اپنی ذاتی عبادت کے لیے کسی دوسرے کی اجازت کا محتاج ہو اور اس کی اجازت کے بغیر نہ تو ہدیہ دے سکے اور نہ ہی لے سکے اور نہ ہی صدقہ دے سکے اور نہ ہی لے سکے ۔ لہٰذا اس کے سدِ باب کے لیے فقیر کے ذہن میں دو تجاویز ہیں ، ایک شرعی اور دوسری قانونی۔ اور میں وہ دو تجاویز اپنے بڑوں اور بزرگوں کی خدمتِ اقدس میں نہایت مؤدبانہ طریقہ سے عرض کرنا چاہتا ہوں ۔

  1. اس ناجائز پابندی کی بابت ایک تفصیلی استفتاء مرتب کیا جائے اور اس کا جواب ملکِ عزیز کا کوئی معتمد ، نامور اور مستند مفتی لکھے، پھر ملک کے تمام دار الفتاویٰ سے " الجواب صحیح " کی صورت میں اس پر سب مفتیانِ کرام کے دستخط لیے جائیں اور پھر متفقہ طور پر اسے "اسلامی نظریاتی کونسل" میں پیش کرکے اس کی سفارش کے ساتھ قومی اسمبلی اور سینٹ میں قانون پاس کرانے کی کوشش کی جائے۔ اور اس میں یہ بات بطورِ خاص اٹھائی جائے کہ ہمارے ملک کے آئین کے ماتھے کا جھومر قرآن و سنت کی بالا دستی ہے اور عبادات میں ایسی رکاوٹیں کھڑی کرنا قرآن وسنت کی صریح خلاف ورزی ہے جسے ملک سے ختم ہونا چاہیے۔ ہاں کوئی مدرسہ اگر ملک کے آئین و قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے تو اس کے خلاف ضرور قانونی کارروائی ہونی چاہیے، نہ کہ اس ایک کی سزا سب کو یکساں دی جائے، یہ تو نہایت ظلم والی بات ہے۔
  2. اور قانونی طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف رجوع کیا جائے کہ جن مدارس پر کوئی کیس نہیں ہے، ان کو سالہا سال سے بلاوجہ بعض اداروں کی طرف سے پابند کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا یہ آئینِ پاکستان کے خلاف نہیں کہ پُر امن لوگوں کو بلا وجہ تنگ کیا جا رہا ہے، لہٰذا اس کے سدِ باب کے لیے تمام تنظیمات وفاق کو از خود یا ملک کی کسی بڑی مذہبی و سیاسی جماعت پر اعتماد کرتے ہوئے اسمبلی، سینٹ اور عوام الناس ہر تین مقامات میں ملکی آئین اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے پُر امن طریقہ سے مؤثر احتجاج کیا جائے کہ ملکی قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، چاہے وہ کوئی شہری ہو یا ادارہ۔

کیونکہ یہ مسئلہ اب چند مدارس کا نہیں رہا بلکہ ہر سال اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے ،لہٰذا اس سلسلہ میں شرعی اور قانونی ہر دو راستے اختیار کرنا وقت کا ایک اہم ترین تقاضا ہے اور یہ ملک کے ہر شہری کا جمہوری حق بھی ہے ، وگرنہ ایک ایک کرکے سب ہی اس طوفان کی لپیٹ میں آیا ہی چاہتے ہیں۔ اللہ کریم ہی ہم سب کی حفاظت فرمائے ، آمین۔‘‘

ان حالات میں دینی مدارس کے وفاقوں سے گزارش ہے کہ وہ ان تجاویز کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور مدارس کو اس مخمصہ سے نکالنے کے لیے پیش قدمی کا اہتمام کریں، اور اسلامی نظریاتی کونسل سے بطور خاص درخواست ہے کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لے اور اس سلسلہ میں قوم کی صحیح راہنمائی کرے۔