دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ اگست ۲۰۰۳ء

اے پی پی کے مطابق گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے منعقدہ آٹھ روزہ ورکشاپ کے اختتام پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی راہ میں کوئی اندرونی یا بیرونی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں دنیاوی علوم کے فروغ کا مقصد دینی مدارس کے طلبہ کو ملک اور قوم کا ایک کارآمد شہری بنانا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس موقع پر دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری پروگرام کی وضاحت کی اور بہت سے دیگر باتیں بھی فرمائیں مگر اس مرحلہ میں ہم مذکورہ بالا دو باتوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل اس ضمن میں عمومی صورتحال اور منظر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو کچھ اس طرح ہے کہ:

  1. ایک طرف دینی مدارس کے وفاقوں کی ان اسناد کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر کے مشکوک بنا دیا گیا ہے جو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے تسلیم کر رکھی تھیں، جبکہ ان اسناد کی بنیاد پر لاکھوں علمائے کرام، حفاظ اور قراء ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ہزاروں طلبہ نے ان اسناد کے ذریعے اعلیٰ تعلیم میں پیشرفت کی ہے۔
  2. دوسری طرف سرکاری سطح پر ’’مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جس کے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان ہیں۔ اس بورڈ کا ہیڈ آفس اسلام آباد کے حاجی کیمپ میں قائم کیا گیا ہے۔ ایک اخباری اشتہار کی صورت میں بورڈ نے الحاق کے لیے دینی مدارس سے درخواستیں طلب کر لی ہیں اور عمومی طور پر یہ تاثر قائم کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دینی مدارس کی اسناد کا تحفظ صرف اسی صورت میں ہوگا کہ وہ سرکاری مدرسہ بورڈ کے ساتھ الحاق کریں، اس کے بغیر دینی مدارس کی اسناد شکوک و شبہات کے دائرے سے نہیں نکل سکیں گی۔
  3. تیسری جانب یہ بات قومی اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آچکی ہے کہ دینی مدارس کی اصلاح کے نام پر امریکہ نے پاکستان کو کم و بیش تین ارب روپے کی امداد فراہم کر دی ہے اور یورپی یونین کی یہ پیشکش سامنے آچکی ہے کہ وہ بھی دینی مدارس کی اصلاح کی غرض سے حکومت پاکستان کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ دینی مدارس کی اس انداز سے اصلاح کرنا مقصود ہے کہ ان کے بارے میں مغرب کو جو اعتراضات یا شکایات ہیں، ان کا ازالہ ہو جائے اور دینی مدارس کا تعلیمی کردار مغربی ممالک کے لیے قابل قبول ہو جائے۔

مغرب کو ان دینی مدارس سے کیا شکایات ہیں؟ ان پر تفصیل کے ساتھ ہم کئی بار گزارش کر چکے ہیں کہ ان مدارس میں قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کے اصلی اور محفوظ ذخیرہ کی کسی ترمیم کے بغیر تعلیم دی جاتی ہے، جس میں:

  • کسی اسلامی ملک میں اسلام کا ریاستی کردار،
  • جہاد کے احکام،
  • شرعی سزاؤں کا نفاذ،
  • خاندانی نظام کے اسلامی قوانین،
  • خلافت و حکومت کے فرائض و اہمیت،
  • اور دنیا کے دیگر تمام مذاہب پر اسلام کی علمی و فکری برتری

کی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ سب باتیں مغرب کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ مغرب اسلام کی تعلیمات کو اسی دائرے میں محدود کر دینا چاہتا ہے جس دائرے میں اس نے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے مسیحی ممالک میں مسیحیت کو محدود کر دیا ہے، اور وہ دائرہ عقائد، عبادات اور اخلاق کی ان تعلیمات کا ہے جن کا تعلق کسی شخص کے ساتھ صرف ذاتی حد تک ہے جبکہ معاشرتی زندگی حتیٰ کہ خاندانی زندگی میں بھی مذہب کی تعلیمات کی بالادستی اور عملداری کو قبول کرنے کے لیے مغرب تیار نہیں ہے۔

اس پس منظر میں جب دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بات ہوتی ہے تو واقفان حال کے لیے اس حقیقت کا ادراک کوئی مشکل امر نہیں رہتا کہ پاکستان میں مساجد اور دینی مدارس کے مستقبل کے لیے وہی کردار ہمارے مقتدر حلقوں کے ذہنوں میں ہے جو یورپ اور امریکہ میں کلیسا کے لیے باقی رہ گیا ہے۔ جس کردار کے نتیجے میں کلیساؤں کی ایک بڑی تعداد اپنے عقیدت مندوں کو ترس رہی ہے اور ہزاروں چرچ فروخت ہو کر مساجد اور دیگر مقاصد کی عمارتوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دینی مدارس نے قومی دھارے کے اسی رخ کو بروقت بھانپتے ہوئے خود کو مبینہ ’’قومی دھارے‘‘ سے الگ رکھنے کا حکیمانہ فیصلہ کیا تھا اور اپنے دینی و تعلیمی نظام و نصاب کی بنیاد جداگانہ تشخص پر رکھی تھی۔ چنانچہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے صرف نو سال بعد ۱۸۶۶ء میں دیوبند میں قائم ہونے والے دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے اساسی اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے تو دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور امتیاز کی حکمت و اہمیت کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ ان اساسی اصولوں میں، جو حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تحریر فرمائے تھے، ایک اصول یہ تھا کہ اس مدرسہ کو عام مسلمانوں کے رضاکارانہ چندہ سے چلایا جائے اور کسی حکومت یا ریاست کی امداد قبول کرنے سے گریز کیا جائے۔ انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ہماری حکومتیں خواہ کسی درجہ کی ہوں، عالمی استعمار کے اثرات سے آزاد نہیں ہیں، اس لیے ان کی امداد قبول کرنے کا مطلب خود کو ان کے زیر اثر لانے اور ان کی وساطت سے عالمی استعمار کی بالادستی قبول کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

اسی وجہ سے دینی مدارس نے گزشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران اپنا یہ امتیاز اور تشخص باقی رکھا ہے اور اپنی خودمختاری اور آزادانہ کردار کا ہر دور میں تحفظ کیا ہے جس کے باعث وہ معاشرہ میں دین کی اصل تعلیمات کو پیش کرنے اور انہیں کسی بھی قسم کی آمیزش یا ترمیم و تبدیلی سے پاک رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ آج اگر دینی مدارس میں قرآن و سنت کی اصلی اور مکمل تعلیمات کا درس دیا جا رہا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ مساجد و مدارس کے نظام کا حکومتی اثر سے آزاد ہونا اور اپنے جداگانہ تشخص و امتیاز کے ساتھ آزادانہ کردار کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی راز اور حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے خوشنما عنوان کے ساتھ ان کے جداگانہ تشخص و امتیاز، خودمختاری اور آزادانہ کردار سے محروم کرنے کی پلاننگ کی جا رہی ہے اور اس کے لیے ملک کے اندر اور باہر ہر سطح پر تحریص اور تخویف کا وسیع جال پھیلا یا جا رہا ہے۔

وزیر تعلیم نے دینی مدارس کے طلبہ کو قوم کے لیے ایک ’’کارآمد شہری‘‘ بنانے کی نوید بھی سنائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت دینی تعلیم کے مختلف شعبوں میں جو لوگ کام کر رہے ہیں، وہ ملک کے کارآمد شہری نہیں ہیں۔ اور یہ بات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ہمارے مقتدر طبقوں کے نزدیک دینی تعلیم کے حوالہ سے خدمات سرانجام دینے والے لوگ مثلا حافظ، قاری، خطیب، امام، مدرس، مفتی اور مبلغ ملک و قوم کے کارآمد شہری تصور نہیں ہوتے، انہیں معاشرہ کا ’’عضو بیکار‘‘ سمجھا جاتا ہے اور انہیں مفت خوری کا طعنہ دے کر کوئی متبادل روزگار تلاش کرنے کی عام طور پر تلقین کی جاتی ہے۔ اس کا ایک خاص پس منظر ہے اور اس کے ڈانڈے بھی مغرب کے فلسفہ و فکر سے ملتے ہیں کہ جس طرح مغرب میں مذہب کو ایک زائد از ضرورت چیز تصور کر لیا گیا ہے اور مذہب کے کسی بھی معاشرتی کردار کو قبول نہ کرتے ہوئے اسے صرف ایک فرد کی ذاتی اور شخصی ذہنی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی مقتدر حلقوں کو مذہب کی اس کے سوا کوئی ضرورت و افادیت دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے ظاہر بات ہے کہ جب خود دین و مذہب کو معاشرہ اور سوسائٹی کے لیے کارآمد چیز نہیں سمجھا جائے گا تو اس کے لیے کام کرنے والے آخر کس طرح ملک کے کارآمد شہری تصور کیے جا سکتے ہیں؟

محترمہ زبیدہ جلال نے ان ارشادات کے ساتھ ساتھ اس موقع پر یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’دینی تعلیم کے فروغ کے لیے دینی مدارس کے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی‘‘۔ یہ بات خوش کن تو ہے لیکن خود ان کے باقی فرمودات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس لیے کہ گزشتہ ڈیڑھ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ دینی مدارس اگر اس معاشرہ میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے کوئی کردار ادا کر سکے ہیں تو وہ صرف اس وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ وہ قومی دھارے کے ’’سنہری جال‘‘ سے آزاد تھے اور کسی بھی دباؤ سے آزاد رہتے ہوئے قرآن و سنت کی تعلیم دینے میں خودمختار تھے۔ قومی دھارے اور سرکاری اثر میں آجانے کے بعد وہ یہ کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔

اس لیے وفاقی وزیر تعلیم سے ہماری مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر وہ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے دینی مدارس کے بنیادی کردار کو باقی رکھنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں قومی دھارے کے نام پر سرکاری دائرۂ اثر میں لینے کے طرز عمل پر نظرثانی کریں کیونکہ یہ دونوں قطعی طور پر متضاد باتیں ہیں اور ان دونوں کو بیک وقت پورا کرنے کی کوشش خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اسی طرح وفاقی وزیر تعلیم سے ہماری استدعا ہے کہ وہ مختلف شعبوں میں قوم کی دینی خدمات سرانجام دینے والوں کو اور جو چاہیں کہہ لیں، مگر ’’عضو بیکار‘‘ ہونے کا طعنہ نہ دیں، کیونکہ ایک تو اس میں خود دین کے استخفاف کا پہلو نکلتا ہے اور دوسرے خود زبیدہ جلال اور ان کے قبیلہ کے افراد کی اس وقت عالمی سطح پر جو مانگ اور قدر و منزلت ہے، وہ انہی ’’بیکار‘‘ لوگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ اگر یہ دینی مدارس اور ان کا آزادانہ کردار نہ ہوتا تو آج زبیدہ جلال ایک آزاد ملک کی وزیر تعلیم نہ ہوتیں اور نہ ہی انہیں عالمی سطح پر آؤ بھگت کا وہ ماحول میسر آتا جس سے وہ ان دینی مدارس کے غیر کارآمد لوگوں کی قربانیوں کے صلہ میں مسلسل بہرہ ور ہو رہی ہیں۔