قراردادِ مقاصد اور تنویر قیصر شاہد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ اکتوبر ۲۰۱۲ء
اصل عنوان: 
حقائق کو مسخ نہ کریں

بڑے اخبارات میں مستقل لکھنے والا کوئی کالم نگار خود اپنی قومی تاریخ سے اس قدر بے خبری کا مظاہرہ بھی کر سکتا ہے مجھے اس کی قطعاً توقع نہیں تھی مگر روزنامہ ایکسپریس کے معروف کالم نگار تنویر قیصر شاہد اپنے ۲۵ اکتوبر کے کالم میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’برصغیر پاک و ہند کے علمائے کرام اور مذہبی جماعتیں ہمیشہ سیاست میں حصہ لیتی رہی ہیں، تشکیل پاکستان کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا ہے، حتٰی کہ وہ مذہبی جماعتیں اور علمائے کرام بھی دھڑلے سے سیاسی و انتخابی عمل میں شرکت کرتے رہے جنہوں نے حضرت قائد اعظم، مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اب بنے بنائے پاکستان پر قبضہ کر کے اپنے ایجنڈے اور نظریے کی تنفیذ چاہتی ہیں۔ ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری اسی نیت کا شاخسانہ تھی۔‘‘

جہاں تک تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے والے علماء کرام اور دینی جماعتوں کا تعلق ہے، ہمیں اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اس لیے کہ تاریخ اپنے حقائق کی پرتیں ایک ایک کر کے کھولتی جا رہی ہے کہ چھ عشروں کے بعد آج کی نسل کو یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں رہی کہ:

  • مخالفت کرنے والوں نے مخالفت کیوں کی تھی اور انہوں نے جن خطرات و خدشات کا اظہار کیا تھا ان میں سے کونسی بات ہے جو پوری نہیں ہوگئی؟
  • اور پاکستان میں تحریک پاکستان کے قائدین کے ان وعدوں کی کہاں تک پاسداری کی جا رہی ہے جو انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں سے کیے تھے؟

اس بحث سے قطع نظر ہم موصوف کے مذکورہ بالا پیراگراف کے آخری جملے کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں اس لیے کہ اگر تنویر قیصر شاہد صاحب اصل واقعات سے بے خبر ہیں تو یہ افسوس کی بات ہے لیکن اگر باخبر ہونے کے باوجود انہوں نے یہ لکھ دیا ہے تو معاملہ افسوس سے کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے۔ انہوں نے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو تحریک پاکستان کے مخالفین کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ مارچ ۱۹۴۹ء میں جب دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد متفقہ طور پر پاس کی تھی تو قومی سیاست اور منتخب پارلیمنٹ میں تحریک پاکستان کے مخالفین کا دور دور تک کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ یہ دستور ساز اسمبلی پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی تھی جو تحریک پاکستان کے حامیوں پر مشتمل تھی اور قرارداد مقاصد کو اس منتخب دستور ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر ۱۲ مارچ کو منظور کیا تھا۔ اسمبلی میں اس کو پیش کرنے والے لیاقت علی خان شہیدؒ تھے جو تحریک پاکستان میں قائد اعظمؒ کے دست راست تھے اور اس کی حمایت میں دستور ساز اسمبلی کے اندر سب سے زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کرنے والے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ تھے جن کا شمار تحریک پاکستان کے سرکردہ قائدین میں ہوتا ہے اور جن کی تحریک پاکستان میں خدمات کے اعتراف کے طور پر قائد اعظم مرحوم نے اپنی موجودگی میں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو کراچی میں انہیں اپنے ہاتھوں پاکستان کا قومی پرچم پہلی بار لہرانے کا اعزاز بخشا تھا۔

اس لیے یہ کہنا کہ دستور ساز اسمبلی میں ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری تحریک پاکستان کے مخالفین کی کسی کوشش کا نتیجہ تھی، تاریخ کو مسخ کرنے اور تحریک پاکستان کے قائدین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جس کا حوصلہ تنویر قیصر شاہد جیسے قلم کار ہی کر سکتے ہیں۔ البتہ اس حوالہ سے قرارداد مقاصد کا متن ایک بار پھر قوم کے سامنے لانے کا موقع مل رہا ہے جس کے لیے ہم کالم نگار موصوف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

’’بسم اللہ الرحمان الرحیم۔

چونکہ اللہ تعالٰی ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت خداداد پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے، اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا جمہورِ پاکستان کی نمائندہ مجلس دستور ساز فیصلہ کرتی ہے کہ آزاد و خودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کیا جائے:

  • جس کی رو سے مملکت جملہ حقوق و اختیاراتِ حکمرانی جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے۔
  • جس میں اصول، جمہوریت و حریت، مساوات و رواداری اور عدلِ عمرانی کو، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے۔
  • جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے مذہبوں پر عقیدہ رکھ سکیں، ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافت کو ترقی دے سکیں۔
  • جس کی رو سے وہ علاقے جو اَب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہوگئے ہیں اور ایسے علاقے جو آئندہ پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاقیہ بنائیں، جس کے ارکان مقرر کردہ حدودِ اربعہ و متعینہ اختیارات کے ماتحت خودمختار ہوں۔
  • جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے اور ان حقوق میں قانون اور اخلاقِ عامہ کے ماتحت مساواتِ حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی عدل، خیال، اظہار، عقیدہ و دین و عبادات اور ارتباط کی آزادی شامل ہو۔
  • جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقات کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے۔
  • جس کی رو سے نظام عدل کی آزادی کامل طور پر محفوظ ہو۔
  • جس کی رو سے وفاقیہ کے علاقوں کی صیانت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا، جن میں اس کی بر و بحر اور فضا پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے۔

تاکہ اہل پاکستان فلاح و خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں، اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کر سکیں اور امنِ عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی ترقی و بہبود میں کماحقہ اضافہ کر سکیں۔‘‘

قرارداد مقاصد کے اس متن میں جو باتیں معترضین اور ناقدین کو مسلسل چبھ رہی ہیں اور جن کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گزشتہ ساٹھ برسوں سے کرب کا پیہم اظہار کیا جا رہا ہے وہ تین ہیں:

  1. اس میں اللہ تعالٰی کی حاکمیت مطلقہ کا اعلان کیا گیا ہے۔
  2. عوام کے منتخب نمائندوں کے حقِ حکمرانی کو اللہ تعالٰی کی نیابت اور اس کی مقرر کردہ حدود کے دائرے میں محدود کیا گیا ہے۔
  3. اور اصولِ جمہوریت و حریت، مساوات و رواداری اور عدلِ عمرانی کی عملی تطبیق کو اسلامی تشریحات کا پابند بنایا گیا ہے۔

تنویر قیصر شاہد اور ان کے ہمنواؤں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ تحریک پاکستان کے مخالفین کی تجویز نہیں بلکہ خود قائد اعظم اور ان کے معتمد رفقاء کی سوچ تھی۔ اگر موصوف کالم نگار تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کے عوامی خطابات کا مطالعہ کر سکیں تو ان کے اس سوچ پر مبنی بیسیوں ارشادات مل جائیں گے لیکن میں صرف ان کے دو خطابات کا حوالہ دینا چاہوں گا جو انہوں نے قیام پاکستان کے بعد مملکت خداداد پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے کیے تھے اور جناب محمد علی چراغ نے اپنی کتاب ’’قائد اعظم کے مہ و سال‘‘ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔

قائد اعظم مرحوم نے ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ:

’’اسلامی اصول و ضوابط آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح آج سے تیرہ سو سال پہلے تھے۔ اسلام محض رسوم، روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ نہیں ہے، اسلام ہر مسلمان کے لیے ضابطۂ حیات بھی ہے، اسلام میں انسان اور انسان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مساوات، آزادی اور اخوت اسلام کے اساسی اصول ہیں۔ ہم دستور پاکستان بنائیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ یہ اعلٰی آئینی نمونہ ہے۔‘‘

جبکہ یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ:

’’مغرب کے نظامِ معاشیات نے متعدد مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ میں اسلامی تعلیمات کے مطابق آپ کے یہاں نظامِ معیشت دیکھنے کا متمنی ہوں۔ مغرب کا معاشی نظام ہی دو عظیم جنگوں کا موجب بنا ہے۔ ہمیں اپنے مقاصد اور ضروریات کے لیے کام کرنا ہے، ہمیں انسانوں کے لیے معاشرتی اور معاشی انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔‘‘

جبکہ دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پیش کرتے ہوئے لیاقت علی خان مرحوم نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا تھا کہ:

’’میں ایوان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بابائے ملت قائد اعظم نے اس مسئلہ کے متعلق اپنے جذبات کا متعدد موقعوں پر اظہار کیا تھا اور قوم نے ان کے خیالات کی تائید غیر مبہم الفاظ میں کی تھی۔ پاکستان اس لیے قائم کیا گیا کہ برصغیر کے مسلمان اپنی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات و روایات کے مطابق کرنا چاہتے تھے، اس لیے وہ دنیا پر عملاً واضح کر دینا چاہتے تھے کہ آج حیاتِ انسانی کو جو طرح طرح کی بیماریاں لگ گئی ہیں ان سب کے لیے اسلام اکسیرِ اعظم کا حکم رکھتا ہے۔‘‘

اس لیے تنویر قیصر شاہد صاحب سے گزارش ہے کہ وہ تحریک پاکستان کے مخالفین کے بارے میں اپنے غصے کا اظہار ضرور کریں لیکن تاریخی حقائق کو مسخ کر کے نئی نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش سے گریز کریں۔