انٹرنیٹ کے نقارخانے میں ’’الشریعہ‘‘ کی آواز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۹ جنوری ۱۹۹۹ء

جنوری ۱۹۹۹ء کی دو تاریخ ہے اور عامر خان صبح سے ای میل پر امہ گروپ لندن کی طرف سے ویب سائیٹ کے لیے پاسورڈ کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ الشریعہ گوجرانوالہ کا شمارہ کمپوز کر چکا ہے اور اس کے لیے تیار بیٹھا ہے کہ پاسورڈ ملتے ہی اسے انٹرنیٹ کی لہروں کے حوالے کر دے۔ حافظ محمد عامر خان میرا چھوٹا بیٹا ہے جو گزشتہ چار سال سے کمپیوٹر کی لائن میں ہے جبکہ بڑا بیٹا حافظ محمد عمار خان ناصر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں فقہ، اصول فقہ، اور ادب عربی کا استاد ہے اور کمپیوٹر لائن میں چھوٹے بھائی کے ساتھ شریک ہے۔ دونوں نے مل کر کمپیوٹر نظام سیٹ کر رکھا ہے جس کے ذریعے وہ ’’الشریعہ کمپوزرز‘‘ کے نام سے کام کرتے ہیں اور میرا کام ساتھ ساتھ مفت چلتا رہتا ہے۔ ہم نے پی ٹی سی ایل سے ٹیلی فون کنکشن پر انٹرنیٹ کنکشن حاصل کیا ہے جبکہ ویب سائیٹ کی سہولت ہمیں ’’امہ گروپ‘‘ نے رضاکارانہ طور پر فراہم کر دی ہے جو برطانیہ اور امریکہ کے چند مخلص مسلمانوں نے باہمی تعاون سے قائم کر رکھا ہے اور متعدد حضرات اور ادارے اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اپنے ذوق کے مطابق انٹرنیٹ پر اسلام اور عالم اسلام کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ’’غریبی دعوے‘‘ کے ساتھ اپنی کمزور سی آواز کو انٹرنیٹ کے وسیع تر عالمی نقارخانے میں شامل کرنے کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں۔

’’الشریعہ‘‘ کے نام سے علمی و فکری جریدے کا اجراء میری انتہائی دیرینہ خواہش تھی لیکن ایک دور تھا جب ڈیکلیریشن کا حصول بہت مشکل ہوتا تھا اور پرچہ کی مسلسل اشاعت کے لیے وسائل کا بندوبست اس سے بھی مشکل تر۔ مگر خواہش بہرحال خواہش ہوتی ہے جو سچی ہو تو اظہار کے لیے وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی رہتی ہے۔ چنانچہ ڈیکلیریشن کے حصول کے لیے سب سے پہلی کوشش اس وقت کی جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے۔ پشاور کے سرکی روڈ پر جمعیۃ علمائے اسلام کا صوبائی دفتر تھا جسے بنیاد بنا کر میں نے پشاور سے ماہنامہ الشریعہ کے ڈیکلیریشن کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پشاور کو درخواست دے دی۔ چند دن گزرے کہ مجھے جمعیۃ علمائے اسلام صوبہ سرحد کے امیر حضرت مولانا سید گل بادشاہ کا خط ملا کہ آپ کا رسالے کا اجازت نامہ دفتر میں موصول ہوگیا ہے آپ آجائیں۔ میں نے خوشی میں جلدی جلدی لیٹر پیڈ چھپوائے، مہریں بنوائیں اور دیگر ابتدائی ضروریات مکمل کر کے پشاور پہنچ گیا۔ مگر پشاور پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پشاور کا جو لیٹر صوبائی دفتر میں موصول ہوا وہ اجازت نامہ نہیں بلکہ درخواست موصول ہونے کی اطلاع تھی جس کے ساتھ کچھ کوائف بھی مانگے گئے تھے۔ چنانچہ تیاری دھری کی دھری رہ گئی اور میں کوائف مہیا کرنے کی تگ و دو میں لگ گیا، اتنے میں بلوچستان میں سردار عطاء اللہ خان مینگل کی وزارت اعلیٰ برطرف کر دی گئی اور اس پر احتجاج کے طور پر مولانا مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا جس سے ’’الشریعہ‘‘ کا ڈیکلیریشن ملنے کی جو تھوڑی بہت امید تھی وہ بھی دم توڑ گئی۔

ڈیکلیریشن کے حصول کی دوسری کوشش میں نے اس کے دو تین سال بعد گوجرانوالہ میں کی اور اس کے لیے گوجرانوالہ شہر سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے میاں محمد اسماعیل ضیاء مرحوم کا سہارا لیا۔ مرحوم انتہائی شریف النفس آدمی تھے اور مسلکاً اہل حدیث تھے۔ وہ سیاست میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو اپنا راہنما مانتے تھے، حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے تربیت یافتہ تھے اور میرے بے حد مخلص و بے تکلف دوست تھے۔ انہوں نے اپنی حد تک بہت کوشش کی مگر بیل منڈے نہ چڑھ سکی اور یوں ڈیکلیریشن کے حصول کی دوسری کوشش بھی ناکام ہوگئی۔

۱۹۸۹ء میں ماہنامہ الشریعہ کے ڈیکلیریشن کے لیے ایک بار پھر درخواست دائر کی، اب ڈیکلیریشن کا معاملہ اس قدر دشوار نہیں رہا تھا۔ چنانچہ مجسٹریٹ گوجرانوالہ نے اجازت نامہ جاری کر دیا اور ہم نے الشریعہ اکادمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ سے ماہنامہ الشریعہ کی اشاعت کا اکتوبر ۱۹۸۹ء میں آغاز کیا۔ یہ وہ دور تھا جب سینٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ شریعت بل کے حوالہ سے قومی حلقوں میں بہت سے علمی و فکری مسائل زیربحث تھے۔ راقم الحروف اس سے قبل ان مسائل پر عالم اسلام کی ایک بڑی علمی شخصیت اور جامعہ ازہر مصر کے سربراہ الشیخ جاد الحق علی جاد الحقؒ سے ملاقات کے لیے قاہرہ کا سفر کر چکا تھا مگر ان سے ملاقات نہ ہو سکی تھی کہ وہ تعطیلات پر چلے گئے تھے اور قاہرہ سے باہر تھے۔ اس لیے میں نے اپنے سوالات ان کے دفتر کے سپرد کر دیے تھے جن کے جواب میں اسلامائزیشن کے بعض اہم علمی و فکری امور پر شیخ الازہر کا مبسوط مقالہ موصول ہوا اور ہم نے ماہنامہ الشریعہ کے علمی سفر کا آغاز اسی مقالہ سے کیا۔ اس کے بعد سے الشریعہ بحمد اللہ تعالیٰ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتا رہا ہے ۔ ۱۹۹۵ء کے آخر تک ماہوار رسالہ کے طور پر جبکہ اس کے بعد سہ ماہی مجلہ کی صورت میں اس کی اشاعت جاری رہی ہے۔

الشریعہ کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ’’اسلامائزیشن‘‘۔ کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی معاشرہ وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی پابندی قبول کیے بغیر امن و سکون اور فلاح و کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات کا مکمل اور محفوظ ایڈیشن صرف اسلام ہے ، اس لیے جلد یا بدیر انسانی سوسائٹی کو اسلامی تعلیمات و احکام کے نفاذ کی طرف آنا ہوگا کہ اس کے علاوہ نسل انسانی کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ چنانچہ الشریعہ اسی حقیقت کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ سال رواں کے آغاز سے اسے پندرہ روزہ کر دیا گیا ہے اور قارئین کے ہاتھوں میں مطبوعہ صورت میں پہنچنے کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی اس کی اشاعت کا آغاز اس ترتیب کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ ہر انگریزی ماہ کی یکم تاریخ کو اردو ایڈیشن اور سولہ تاریخ کو انگلش ایڈیشن پیش کیا جائے گا جو ویب سائیٹ www۴۶;ummah۴۶;net/al-sharia پر دنیا میں کہیں بھی پڑھا جا سکے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ جبکہ اس کے بارے میں مزید معلومات کے لیے مرکزی جامع مسجد (پوسٹ بکس نمبر ۳۳۲) گوجرانوالہ، یا ای میل ایڈریس alsharia۶۴;paknet۴۴۶;com۴۶;pk کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

الشریعہ کے دورِ نو کے آغاز پر اپنی خوشی اور عزم دونوں میں ’’نوائے قلم‘‘ کے قارئین کو شریک کرنے کے لیے چند گزارشات پیش کی ہیں۔ قارئین سے درخواست ہے کہ رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں بطور خاص دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت ہمیں اپنے اس مشن، عزم اور پروگرام پر استقامت دیں، خلوص نیت سے بہرہ ور کریں، توفیق عمل سے نوازیں، اور قبولیت عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ضروری نوٹ: الشریعہ کی پندرہ روزہ جریدہ کے طور پر اشاعت دو سال تک قائم رہی اس کے بعد اسے دوبارہ ماہوار جریدہ کی شکل دے دی گئی جبکہ انگلش ایڈیشن کی کوشش بوجوہ پیش رفت نہ کر سکی۔ البتہ اردو میں ماہنامہ الشریعہ تب سے مسلسل شائع ہو رہا ہے اور اب اس کی ادارت کی ذمہ داری عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے سپرد ہے جو گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں عربی و اسلامی علوم کے شعبہ کا انچارج ہے اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے انتظامی امور کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عزیزم حافظ عامر خان نے گزشتہ نصف صدی کے دوران لکھے گئے میرے مضامین کو جمع کر کے انٹرنیٹ پر ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور آٹھ سو کے لگ بھگ مضامین کو عنوانات کی درجہ بندی کے ساتھ ویب سائیٹ zahidrashdi.org کے سپرد کر چکا ہے۔ اندازہ ہے کہ دھیرے دھیرے کم و بیش اتنے ہی گزشتہ مضامین مزید اس میں شامل کیے جائیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ (راشدی۔ ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۶ء)