چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک مؤدبانہ سوال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۸ء

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب نے گزشتہ دنوں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نہیں چل سکتا اور ملک کے دستور سے ہٹ کر کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس محترم کا یہ ارشاد سو فیصد درست ہے اور ملک و قوم کے دستور و قانون کے ساتھ ساتھ اس کی وحدت و استحکام کا بھی یہی تقاضہ ہے مگر ہم اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری سمجھتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ جمہوریت کو ایک نظام کے طور پر پیش کرنے کی بات ہم کوشش کے باوجود ابھی تک نہیں سمجھ پائے کیونکہ ہمیں جمہوریت کا عملی کردار صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ کسی ملک کے عوام کی اکثریت کے رجحان کی نشاندہی کر دے اور ووٹ کے ذریعہ یہ بتا دے کہ اس ملک کے عوام کی اکثریت کسی مسئلہ پر کیا موقف رکھتی ہے؟ اس لیے جمہوریت عوام کی اکثریت کی رائے معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے ، اس کے سوا ہمیں جمہوریت کا کوئی اور عملی کردار کہیں نظر نہیں آرہا۔ جمہوریت خود کوئی رائے یا موقف نہیں دیتی بلکہ ملک کے عوام کی اکثریت جس موقف اور کردار کا فیصلہ کر رہی ہو جمہوریت صرف اس کی نشاندہی کر دیتی ہے جبکہ اصل فیصلہ، موقف یا نظام تو عوام کے فیصلے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مثلاً کسی ملک کے عوام آزادانہ رائے کے ساتھ اکثریتی رائے کی صورت میں یہ فیصلہ صادر کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں زنا کو جرم تصور کیا جائے گا اور وہ قابل تعزیر ہو گا تو جمہوری اصولوں کے مطابق عوام کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے میں کسی کو ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے اور جمہوریت کے نام لیواؤں کو کھلے دل کے ساتھ اسے تسلیم کر لینا چاہئے۔ مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہو رہا بلکہ صورتحال قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل یہ چلی آرہی ہے کہ عوام اور ان کے منتخب نمائندے جمہوری طریقِ کار کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعہ کوئی ایسا فیصلہ کر دیں جو مغربی فلسفہ و نظام سے کسی درجہ میں مطابقت رکھتا ہو تو اسے جمہوری فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے، اس کی ہر سطح پر تحسین ہوتی ہے اور قومی و بین الاقوامی حلقے اس تحسین میں پیش پیش ہوتے ہیں، لیکن وہی عوام اور ان کے وہی منتخب نمائندے اسی منتخب پارلیمنٹ کے ذریعہ کوئی ایسا فیصلہ کر لیں جو مغرب کے فلسفہ و نظام سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو جمہوریت کا راگ الاپنے والے قومی و بین الاقوامی حلقے اسے قبول کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں، اس پر ناک بھی چڑھاتے ہیں، اس پر تنقید و اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اسے بہرصورت تبدیل کرا دینے کے لیے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔

ہم عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان سے بصد ادب و احترام یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ جمہوریت کی کون سی قسم ہے اور جمہوریت کا کون سا اصول یہ کہتا ہے کہ عوام کی اکثریت کا فیصلہ اگر مغرب پرست لابیوں کی مرضی کا ہو تو وہ فیصلہ جمہوری ہوتا ہے اور اگر اسی فیصلہ میں اسلام اور مذہب کی کوئی جھلک نظر آئے تو وہ غیر جمہوری ہو جاتا ہے ؟ ہم چونکہ گزشتہ سات عشروں سے جمہوریت کے نام پر یہ سب کچھ بھگت رہے ہیں اس لیے یہ پوچھنے پر مجبور ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ جمہوریت ملک کے عوام کے اکثریتی فیصلوں کا نام ہے یا جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کی خواہشات کی تکمیل کو ہی جمہوریت قرار دینا ضروری ہے؟

اس کے ساتھ ہی ہم عزت مآب چیف جسٹس محترم کو یہ یاد دلانے کی جسارت بھی کر رہے ہیں کہ ملک کے دستور کے متعدد فیصلے اس وقت ملک کے اعلیٰ ترین اداروں کے ڈیپ فریزر میں منجمد پڑے ہیں اور عوام کی فیصلہ کن اکثریت کے فیصلے ہونے کے باوجود سوسائٹی میں اپنا جائز رول ادا کرنے سے محروم ہیں مثلاً:

  • دستور پاکستان یہ کہتا ہے کہ ملک میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور حکومت، پارلیمنٹ، قرآن و سنت کی پابند ہیں مگر قومی و ریاستی اداروں میں اس کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
  • اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات دستوری تقاضہ ہونے کے باوجود اسمبلیوں میں پیش نہیں کی جا رہی ہیں۔
  • دستور پاکستان نے سودی نظام کے خاتمہ کی گارنٹی دے رکھی ہے مگر دستور کی بالا دستی کے علمبردار ادارے اس دستوری وعدہ کی تکمیل کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔
  • دستور پاکستان اردو کو قومی زبان قرار دیتا ہے اور اسے ہر سطح پر سرکاری زبان کا درجہ دینے کا وعدہ کرتا ہے مگر عدالت عظمٰی کے متعدد فیصلوں کے باوجود اس سمت کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔
  • دستور پاکستان میں اسلامی معاشرہ کے قیام اور فلاحی ریاست کی بات کی گئی ہے مگر کوئی ریاستی ادارہ اس کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔

یہ تو صرف تین چار باتیں ہیں، اگر دستور پاکستان کے ان حصوں اور ملک کی منتخب اسمبلیوں کے ان فیصلوں کی فہرست بنائی جائے جو قرآن و سنت کے احکام، اسلامی روایات و اقدار اور قومی تہذیب و ثقافت کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو ایسے فیصلوں کی تعداد بیسیوں شمار کی جا سکتی ہے، مگر عوام اور ان کی منتخب اسمبلیوں کے ان جمہوری فیصلوں کو سرے سے جمہوری تقاضوں کی فہرست سے ہی خارج کر دیا گیا ہے بلکہ ان کے خلاف لابنگ اور مکمل پروپیگنڈے کا بازار مسلسل گرم رہتا ہے۔

اس پس منظر میں ہم عزت مآب چیف جسٹس محترم سے یہ مؤدبانہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب و مفہوم بھی واضح فرما دیں کہ کیا جمہوری نظام کا مقصد عوام کے فیصلوں کو قبول و نافذ کرنا ہوتا ہے یا صرف مغربی فلسفہ و نظام کی نقالی کو ہی جمہوریت قرار دیا جاتا رہے گا۔ ہمارے خیال میں یہ بھی دستور کی بالادستی کا تقاضہ ہے کہ اس کے فیصلوں میں تفریق کرنے کی بجائے ان سب کے یکساں نفاذ کا اہتمام کیا جائے۔