تبلیغی حلقوں میں اختلاف اور ہمارا طرز عمل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ دسمبر ۲۰۱۸ء

تبلیغی جماعت دعوتِ اسلام کی عالمی تحریک ہے جو دنیا بھر میں دینی تعلیمات و روایات کی طرف مسلمانوں کی واپسی کے لیے ہر سطح پر محنت کر رہی ہے اور اس کی کاوش و برکت سے بحمد اللہ تعالٰی ہر جگہ دینی معمولات اور ماحول کے مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ مگر جوں جوں اس محنت میں توسیع اور پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اسی حساب سے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں جو فطری امر ہے اور کسی بھی تحریک کے اس درجہ وسعت اختیار کرنے کی صورت میں عموماً ایسے ہو جایا کرتا ہے، البتہ اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط اور مثبت رویہ کی ضرورت ہے۔ خصوصاً اس حوالہ سے کہ کچھ عرصہ سے بھارت میں تبلیغی قیادت میں تفریق کا ایک سلسلہ رونما ہوا ہے جس کے نتائج اور اثرات بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔

میں نے حضرت حاجی عبد الوہابؒ کی وفات پر ایک تعزیتی مضمون میں اس طرف اشارہ کیا تھا کہ بڑوں کی موجودگی میں بہت سے معاملات دبے رہتے ہیں اور ان کی وفات کے بعد ان کے سر اٹھانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط، تدبر اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں بھارت کے شہر میسور سے وہاں کے سینکڑوں علماء کرام کے باہمی مشورہ کی ایک رپورٹ واٹس ایپ پر موصول ہوئی ہے جو مجھے بہت اچھی لگی ہے اور خود میرا ذاتی ذوق و رجحان بھی اس قسم کا ہے، اس لیے جناب صفدر قیصر آف میسور کی تحریر کردہ یہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ ازراہِ کرم احباب اسے بغور مطالعہ فرمائیں اور اختلافی امور کو کم سے کم دائروں میں محدود رکھنے کی ہر ممکن کوشش کے ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شبانہ روز دعاؤں کا بھی اہتمام کریں کہ مولائے کریم بڑی آزمائش اور ابتلا کے اس نازک مرحلہ میں خلوص و محنت کے اس عالمگیر عمل کو محفوظ رکھیں اور مثبت پیشرفت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

’’جمعیۃ علماء ضلع میسور کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق شہر کی مسجد شاہی میں مولانا محمد نسیم رشادی کی سرپرستی میں شہر کے علماء اور اس کے علاوہ دیگر اضلاع کے تقریباً ڈھائی سو علماء کی ایک اہم مجلس منعقد ہوئی جس میں اس جذبہ کا اظہار کیا گیا کہ جماعت تبلیغ اور دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں جو اختلاف و انتشار ہے اور اس کے نتیجہ میں امت میں جو اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے، یہ مجلس بالاتفاق اس انتشار اور اختلاف پر بڑے دکھ اور رنج کا اظہار کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مساجد میں جو انتشار کی کیفیت پائی جاتی ہے وہ کافی قابل غور ہے ، اس ضمن میں علماء کی جماعت نے حسب ذیل تجاویز کی منظوری دی ہے۔

  1. ہم تمام علماء بالاتفاق اس دعوت الی اللہ کے کام کو، جو ہمارے اکابر ثلاثہ کی رہنمائی پر ہو، اس محنت کو نہایت محبت و عقیدت اور عظمت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اس لیے کہ اکابر دیوبند نے اس دعوت الی اللہ کی محنت کو بڑی عقیدت سے دیکھا ہے اور بڑی امیدیں لگائی ہیں۔
  2. اللہ کے راستے میں نکلنے والی جماعتیں چاہے وہ مرکز نظام الدین کے مشورے سے آئی ہو یا عالمی شورٰی کے مشورے سے آئی ہو، سب قابل احترام ہیں اور تمام سے گزارش ہے کہ ان جماعتوں کا اکرام و احترام کریں چونکہ یہ دعوت الی اللہ کے عظیم مقصد کو لے کر چلے ہیں۔
  3. حضرات علماء کی یہ دردمندانہ اپیل ہے کہ تمام جماعتیں جن کا مقصد دعوت الی اللہ ہے، یہ حضرت مولانا شاہ محمد الیاسؒ، حضرت مولانا شاہ محمد یوسفؒ اور حضرت مولانا انعام الحسنؒ، ان اکابر ثلاثہ کے بتلائے ہوئے اصولوں کے دائرہ میں رہ کر کام کریں گی، اور چھ نمبر جو ان اکابر ثلاثہ کی تعلیم ہے اسی کے دائرہ میں رہ کر کام کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔
  4. حضرات علماء کی یہ اپیل ہے کہ کوئی بھی جماعت موجودہ اختلافات کو موضوع بنا کر کوئی کلام نہ کرے۔ مرکز نظام الدین سے تعلق رکھنے والے احباب عالمی شورٰی کے متعلق کوئی کلام نہ کریں، اور عالمی شورٰی والے احباب مرکز نظام الدین کے متعلق اور مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم کے متعلق اپنی مجالس دینیہ میں ایسی اختلافی بات سے پرہیز کریں۔
  5. ضلع میسور کی سطح پر جتنے تبلیغی حلقے پہلے ہی سے تقسیم ہیں وہاں ہر دو فریق کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اخلاص کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعتوں کا رخ طے کریں اور حسن ترتیب سے اس جماعت سے خدمت لیں اور آپسی اختلافات و انتشار سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں۔
  6. ضلع میسور کے تمام متولیان مساجد صدر و سیکرٹری کو ہم یہ ہدایت دیتے ہیں کہ اپنے اپنے حلقے کے مشورے کے بعد آنے والی جماعت کا اپنی مسجد میں صدق دل سے استقبال کریں اور اس جماعت کی عزت و تکریم بھی ہو، حتی المقدور ان کی خدمت کا لحاظ رکھیں۔

آج یہ علماء کرام کی مجلس جس میں شیخ الحدیث مولانا مفتی سید تاج الدین دامت برکاتہم، حضرت مولانا محمد ذکاء اللہ صدیقی، حضرت مولانا احمد خان، حضرت مولانا ایوب انصاری، حضرت مولانا عادل، حضرت مولانا محمد رفیق چامراج نگر، حضرت مولانا مدثر ہنسور، کے علاوہ ہیچ ڈی کوٹہ، پریاپٹن، ٹی نرسی پور وغیرہ جیسے مقامات سے بھی علماء کرام شریک رہے، تمام علماء مذکورہ تجاویز کو امت کی اصلاح کے طور پر منظور کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اس دعوت الی اللہ کے کام میں جتنے احباب عالمی طور پر لگے ہیں اللہ اس کام میں استقامت سے اور مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور انتشار کرنے والی قوتوں سے اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، آمین۔ ‘‘

درجہ بندی: